مہلک وائرس ’سارس‘ گم ہوگیا

مہلک وائرس ’سارس‘ گم ہوگیا
مہلک وائرس ’سارس‘ گم ہوگیا

  

پیرس (بیورو رپورٹ) فرانس میں سائنسی تحقیق کے ادارے ”انسٹیٹیوٹ پاستیور“ سے مہلک ترین وائرسسارس “ کے 2,349 نمونے گم ہوگئے ہیں۔ اس سلسلے میں فرانس کی ”ڈرگ اینڈ ہیلتھ سیفٹی ایجنسی“ سے راطہ کیا گیا لیکن وہ بھی گمشدہ وائرس ڈھونڈنے میں ناکام رہی۔ اب تلاش کے لئے سیکیورتی اداروں اور مقامی حکام کی مدد لے لی گئی ہے۔ ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عوام کو اس حوالے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ گم ہونے والی ”ٹیوبز“ میں مکمل وائرس موجود نہیں تھا بلکہ محض ذرے تھے۔ یہ عام لوگوں کو متاثر نہیں کرسکتے تاہم اس کے باوجود اس قسم کی کوتاہی ناقابل قبول ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ انہوں نے عوام کو مکمل معلومات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس قسم کی غلطی پہلی مرتبہ سرزد ہوئی ہے۔ یاد رہے ” سارس “ سانس کی بے حد سنجیدہ بیماری ہے اور 2003ء میں یہ ایشیاء میں پہلی تھی تو اس نے دو درجن سے زائد ملکوں میں 800 افراد کو نشانہ بنایا تھا۔

مزید : تعلیم و صحت /اہم خبریں