یورپی پارلیمنٹ نے ”بینکنگ یونین ریفارمز“ کی منظوری دیدی

یورپی پارلیمنٹ نے ”بینکنگ یونین ریفارمز“ کی منظوری دیدی

سٹراسبورگ (اے پی پی) یورپی پارلیمنٹ نے ”بینکنگ یونین ریفارمز“ کی منظوری دیدی۔ یورپی بینکوں کے انتظام کیلئے اصلاحات کیلئے قواعد و ضوابط کے نئے قوانین وضع کئے جائیں گے تاکہ مستقبل میں عالمی کساد بازاری کے اثرات میں آ کر کوئی یورپی بینک دیوالیہ پن میں مبتلا نہ ہو سکے۔ یورپی یونین کے مالیاتی مارکیٹس کے کمشنر مائیکل بارنیئر کے مطابق بینکنگ یونین ریفارمز کی منظوری کے بعد اب حقیقی یورپین سسٹم وجود میں آئے گا جو یورو زون بینکوں کی نگرانی کرتے ہوئے ان کو ناکامی سے بچائے گا۔ سال 2011-12ءکے دوران کساد بازاری عروج پر تھی اور دنیا نے یورو کو ایک ناکام کرنسی کے طور پر جانچنا شروع کر دیا تھا۔ یورپی پارلیمنٹ کے اس اقدام سے جہاں یورو دباﺅ سے باہر آ جائے گا و ہاں اس کو دوام حاصل ہو گا۔ بینکنگ اصلاحات کے تحت ”سنگل سپروائزری میکنزم“ کے نام سے ایک نظام تشکیل دیا جائے گا جو یورپین سنٹرل بینک کے تحت رواں سال نومبر سے کام شروع کر دے گا۔ اس نظام کے تحت یورپ میں کمزور بینکوں کو برداشت نہیں کیا جا سکے گا۔

 یہ نظام کسی بھی بینک کو متوقع طور پر دیوالیہ ہونے کے امکانات دیکھتے ہی اس کو مستحکم یا بند کر دینے کی سفارش کر دے گا۔

 اس نظام کے تحت بینک کسٹمر ڈیپازٹس کیلئے ایک لاکھ یورو تک کی گارنٹی یا ضمانت دی جائے گی۔

(h

مزید : کامرس