خیبر پختونخوا حکومت جنگلات میں سالانہ 30 ہزار ایکڑ کا اضافہ کرے گی

خیبر پختونخوا حکومت جنگلات میں سالانہ 30 ہزار ایکڑ کا اضافہ کرے گی

اسلام آباد (اے پی پی) خیبر پختونخوا حکومت ”گرین گروتھ انیشی ایٹو“ پروگرام کے تحت صوبہ کے جنگلات میں سالانہ 30 ہزار ایکڑ کا اضافہ کرے گی۔ اسی طرح موجودہ جنگلات میں 25 ہزار ایکڑ پر مزید درخت بھی لگائے جائےں گے۔ ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام ایک کتاب ”شمال مغرب پاکستان میں جنگلات‘ ذریعہ معاش اور توانائی “ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے زیورخ یونیورسٹی کے شعبہ جیو گرافی کے سینئر ریسرچر ڈاکٹر ارس گیزر نے خیبر پختونخوا میں جنگلات میں کمی کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مقامی افراد اور انتظامیہ میں بداعتمادی ‘ فنڈز کی کمی ‘ ٹمبر مافیا اور جنگلات پر ہونے والے تجربات پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے جنگلات کو مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ پر قابو پانے کے لئے سیاسی دباﺅ اور صوبہ کے محکمہ جنگلات میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد قیوم سلہری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگلات کاٹنے سے غربت میں کمی نہیں لائی جاسکتی۔ انہوں نے نیو مری پروجیکٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبہ میں جنگلات کو کاٹ دیا گیا لیکن غربت پھر بھی ختم نہ ہو سکی۔پاکستان فاریسٹ انسٹی ٹیوٹ پشاور کے ڈائریکٹر جنرل حکیم شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جنگلات کے کٹاﺅ پر قابو پانے کے لئے انفرادی نہیں اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت 2015ءمیں جنگلات کے کل رقبہ میں 2 فیصد اضافہ کا پروگرام رکھتی ہے جو 20فیصد سے بڑھ کر 22 تک ہو جائے گا۔

مزید : کامرس