ہسپتالوں میں نذرانوں کے نام پر لوٹ مار کی انتہا،مشیر صحت کا نوٹس

ہسپتالوں میں نذرانوں کے نام پر لوٹ مار کی انتہا،مشیر صحت کا نوٹس

لاہور(جاوید اقبال)صوبائی دارالحکومت میں واقع ہسپتالوں کے آپریشن تھیڑ ،وارڈ اور لیبر رومز کے درودیوار پیسے مانگنے لگے ہیں گائنی یونٹوں میں پیدا ہونےو الے نومولود بچے ہزاروں روپے مٹھائی کے نام پر لے کر لواحقین کے حوالے کئے جاتے ہیں ایک رپورٹ کے مطابق شہر کے ہسپتالوں کے گائنی اور ایمرجنسی وارڈوں کے گیٹوں پر غریب مریضوں اور ان کے لواحقین سے سالانہ کروڑوں روپے کمائے جاتے ہیں گنگا رام ہسپتال کے گائنی وارڈ میں صرف عملے کے لوگ ماہانہ لاکھوں روپے کماتے ہیں روزنامہ "پاکستان"کی رپورٹ کے مطابق شہر کے ٹیچنگ اور ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کے آپریشن ،تھیڑوں ،وارڈوں ،گائنی یونٹوں ،آﺅٹ ڈورز ،ایمرجنسی، آئی سی یو ،سی سی یو میںنذرانے لینا عا م ہے تاہم سب سے زیادہ لوٹ مار گائنی اور لیبر رومز کے یونٹوں میں ہوتی ہے جہاں بچہ پیدا ہونے کی صورت میں 2سے 5ہزار روپے مٹھائی اور مبارکباد کے نام پر لئے جاتے ہیں مٹھائی نذرانے لینے کے بغیر بچہ لواحقین کے حوالے نہیں کیا جاتا ،بچی پیداہونے کی صورت میں ایک ہزار سے 2ہزار مبارکباد کا وصول کیا جاتا ہے اسی طرح وارڈوں کے گیٹوں پر روک کر اندر جانے کی اجازت دینے کے نام پر بھی نذرانہ وصول کیا جاتا ہے آپریشن تھیڑوں میں زائد ادویات منگوا کر عملہ بازار میں فروخت کرتا ہے آپریشن کے بعد مریض کو وارڈمیں منتقل کرنے ے دوران جب نذرانے وصول کیے جاتے ہیں ان جگہوں پر من پسند ڈیوٹیاں لگانے کے باقاعدہ ریٹ مقرر ہیں جہاں سے کمائی کا 50فیصد انتظامیہ کو جاتا ہے اس حوالے سے مشیر صحت خواجہ سلیمان رفیق کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں بخشش دینا سخت منع ہے اس کی تحقیقات کریں گے اور جو عملہ ان جگہوں پر سالہا سال سے تعینات ہے اسے تبدیل کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ ایم ایس صاحبان کی نااہلی کی وجہ سے ہورہا ہے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس سے جواب طلب کریں گے اور انہیں اچانک دورے کرنے کا پابند بھی بنائیں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1