جنوبی ایشیا میں تاریخ اور تاریخ نویسی\"کے موضوع پر کانفرنس اختتام پذیر

جنوبی ایشیا میں تاریخ اور تاریخ نویسی\"کے موضوع پر کانفرنس اختتام پذیر

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر)پنجاب یونیورسٹی شعبہ تاریخ کے زیر اہتمام \"جنوبی ایشیا میں تاریخ اور تاریخ نویسی\"کے موضوع پر جاری تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی۔ چئیرمین شعبہ تاریخ پروفیسر ڈاکٹر اقبال چاولہ نے کہا کہ کانفرنس میں مجموعی طور پر 12سیشن ہوئے جس میں 66سے زائد سکالرز نے اپنے مقالہ جات پیش کئے اختتامی روزمندوبین نے متفقہ طور پر قرارداد پاس کی جس میں تمام صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ تعلیمی منصوبہ بندی میں تاریخ کے مضمون کو مناسب اہمیت دی جائے اور تعصب پر مبنی تمام مندرجات ختم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کالجوں کی سطح پر تاریخ بہترین طلباء پیدا کئے جائیں۔ قرارداد میں جنوبی ایشاء کے ممالک کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ محققین اور اساتذہ پر ویزے کی سختیاں ختم کی جائیں اور ذیادہ سے ذیادہ تبادلے کو فروغ دیا جائے۔ قرارداد میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ تاریخی مقامات کی حفاظت کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں اور عجائب گھروں کی حالت بہت بنائی جائے۔ قرارداد میں مورخین سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ تاریخ کے مضمون میں مخفی پہلووٗں کو اجاگر کیا جائے اور ان موضوعات کا احاطہ کیا جائے جہاں تحقیق کم ہوئی ہے۔ قرارداد میں پرزور مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان میں یونیورسٹیوں کے مابین اساتذہ کے ذیادہ سے ذیادہ تبادلہ پروگرامز کی اور تاریخ پر کانفرنسز منعقد کرانے کی ضرورت ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر کانفرنس کے پرنسپل آرگنائزر ڈاکٹر محمد اقبال چاولہ نے منددبین کا شکریہ ادا کیا جبکہ ڈاکٹر افتخار ،حیدر ملک ، میاں عمران مسعود، ڈاکٹر سارہ انصاری اور ڈاکٹرپیپا وردی نے آخری روز کے اجلاسوں کی صدارت کی۔ اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مسرت عابد، ڈاکٹر افتخار حیدر ملک اور سعدیہ راشد نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر شعبہ تاریخ اور پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کومبارکباد دی۔

مزید : میٹروپولیٹن 4