تین ماہ کے دوران پلاسٹک کارڈ ز کے کاروبار میں4.2فیصد کی کمی ہوئی سٹیٹ بینک

تین ماہ کے دوران پلاسٹک کارڈ ز کے کاروبار میں4.2فیصد کی کمی ہوئی سٹیٹ بینک

                                                   اسلام آباد (اے پی پی) سٹیٹ بنک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ملک میں کریڈیٹ کارڈز کے کاروبار میں کمی ہوئی ہے۔ گزشتہ سال 2013ءکی آخری سہہ ماہی اکتوبر تا دسمبر کے دوران گزشتہ سہ ماہی کے مقابلہ میں پلاسٹک کارڈز کی تعداد میں مجموعی طور پر 4.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جن میں ڈیبیٹ ‘ کریڈٹ اور اے ٹی ایمز کارڈ شامل ہیں ۔ دسمبر 2013ءکے اختتام پر ملک میں پلاسٹک کارڈز کی تعداد 2 کروڑ 23لاکھ 80 ہزار تک کم ہوگئی ہے۔ ایس بی پی کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ کمی کریڈٹ کارڈز میں ریکارڈ کی گئی ہے جو 11.4 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ جبکہ پلاسٹک کارڈز میں ڈیبیٹ کارڈز کا حصہ 89.6 فیصد ہے جو سب سے زیادہ ہے۔ کریڈٹ کارڈز کی تعداد میں ہونے والی کمی کے اسباب میں سب سے بڑی وجہ بینکوں کی جانب سے عام عوام کو کریڈٹ کارڈز کی عدم فراہمی ہے۔ کیونکہ بینک ایک مخصوص طبقہ کو کریڈٹ کارڈ جاری کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی تعداد کم ہو رہی ہے ۔ ایس بی پی کے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ سال کی آخری سہ ماہی کے دوران ای بینکنگ سے کئے جانے والے لین دین کے حجم کی شرح میں 5.1 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ بلحاظ مالیت 8.7 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

 ای بینکنگ میں سب سے زیادہ ٹرانزیکشنز اے ٹی ایم مشینوں سے کی گئی ہیں جو مجموعی ٹرانزیکشنز کا 63.3 فیصد ہے۔

 جبکہ بلحاظ مالیت اے ٹی ایمز کے ذریعے 7.6 فیصد مالیت کی ٹرانزیکشنز کا لین دین کیا گیا ہے اے ٹی ایم کے ذریعے کی جانے والی ٹرانزیکشنز کی تعداد 61.7 ملین تک پہنچ گئی ہے اس وقت ملک میں ہر ایک لاکھ افراد کیلئے 4.2 اے ٹی ایم میشنز دستیاب ہیں ۔ اکتوبر تا دسمبر 2013ءکے دوران اے ٹی ایمز کے استعمال سے 635 ارب روپے کا لین دین کیا گیا۔سٹیٹ بینک کی ”پے مینٹ سسٹم ری ویو“ رپورٹ کے مطابق ملک میں آن لائن برانچز کی تعداد 10ہزار 596 تک بڑھ چکی ہے جو مجموعی بینک برانچز کے 95 فیصد کے مساوی ہے۔

مزید : کامرس