ہر قیمت پر افہام و تفہیم کی راہ نکالی جائے!

ہر قیمت پر افہام و تفہیم کی راہ نکالی جائے!
ہر قیمت پر افہام و تفہیم کی راہ نکالی جائے!

  

14اور15اپریل 2014ءکی راتیں تھیں۔نیوز ون چینل پر ایک ٹاک شو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ شرکائے مباحثہ تھے لیفٹیننٹ جنرل(ر) امجد شعیب، ایئر مارشل شاہد لطیف اور جناب اعجاز الحق خلف الرشید مرحوم جنرل ضیاءالحق۔موضوعِ مباحثہ وہی تھا جو آج کل اکثر و بیشتر ٹی وی چینلوں پر ان (IN)ہے، یعنی حکومت اور فوج کے درمیان کشیدگی ....پروگرام کا نام تھا: ”رانا مبشر پرائم ٹائم“ جنرل راحیل شریف کے تربیلا والے بیان میں تو اس امر کا کوئی زیادہ کھل کر اظہار نہیں کیا گیا تھا کہ فوج اور سویلین حکومت میں کوئی کشاکش چل رہی ہے لیکن وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اگلے روز یہ بیان دے کر آرمی چیف کے اشارے کنائے کو حقیقت میں بدل دیا ہے کہ ہاں کشیدگی تو ہے لیکن جلد ہی ختم ہو جائے گی۔آرمی چیف کے ”اشارے کنائے“ میں صرف اتنا کہا گیا تھا کہ ”فوج اپنے ادارے کا تحفظ کرے گی“۔ مجھے حیرت ہے کہ اربابِ اقتدار نے اس ذرا سے اشارے کنائے کا تو احساس کر لیا۔لیکن اپنے اس واشگاف سبّ و شتم کی طرف ان کا دھیان نہیں گیا جو ایک تسلسل سے پاک فوج کے خلاف میڈیا پر آ رہا تھا۔اس سے بھی شدید تر حیرت مجھے خواجہ سعد رفیق صاحب کے اس عذرِ گناہ پر ہوئی ہے جو بدتر ازگناہ کے مترادف ہے۔جب وہ یہ کہیں کہ میں نے ”مرد کا بچہ بنو“ والا جملہ اندرون لاہور کی زبان کی تقلید میں کہا تھا تو فوج کے ”ملزم جنرل“ اس کا کیا جواب دیں کہ اندرون لاہور کی زبان میں جوابِ آں غزل کے اتنے تنگ زاویئے اور اتنے پست پہلو ہیں کہ ان کا ہلکا سا اشارہ کنایہ بھی شرم و حیا اور آدابِ گفتار کی ردائیں تارتار کر دیتا ہے۔تاہم ایئر مارشل شاہد لطیف نے اس کے جواب میں جو یہ کہا کہ ”یہ لوگ بھی انسان کے بچے بنیں“ تو یہ ردِعمل بھی خلافِ آدابِ گفتار تھا۔منگل وار (15اپریل 2014ئ) والے کالم ”شنید ہے کہ“ میں ، میں نے یہ عرض کیا تھا کہ میڈیا کے اس وبائی دور میں جو بات بھی کسی کے ہونٹوں سے نکلتی ہے وہ اگلے لمحے کوٹھوں پر چڑھ جاتی ہے۔چنانچہ اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ فوج کے کور کمانڈرز یا پرنسپل سٹاف آفیسرز (PSOs)ان تیروں کا شعور نہیں رکھتے جو بظاہر کسی اوٹ کی آڑ لے کر چلائے جاتے ہیں۔فوج اگر ان تیروں کی نشاندہی نہیں کرتی تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں لینا چاہیے کہ ان کو تیراندازوں اور ان کے اہداف کا شعور نہیں!جنرل امجد شعیب اس ٹاک شو میں جنرل جہانگیر کرامت کے استعفیٰ کا پس منظر بتا رہے تھے۔ان ایام میں بھی نوازشریف وزیراعظم تھے اور ان دنوں بھی میاں صاحب کے دل میں یہ خواہش انگڑائیاں لے رہی تھی کہ ارتکازِ قوت کا منبع ایک ہی ہونا چاہیے۔جب وزیراعظم کی طرف سے ان انگڑائیوں کا ظہور بار بار ہونے لگا تو کورکمانڈروں کی کانفرنس میں مِن جملہ دوسری پروفیشنل باتوں کے، اس بات کا نوٹس بھی لیا جانے لگا۔جنرل شعیب کہہ رہے تھے کہ کورکمانڈروں کی طرف سے یہ موضوع جب زیر بحث آیا کہ ارتکازِ قوت کا وہ استعمال نہ کیا جائے جو میاں صاحب کی خواہش ہے اور ان کو چاہیے کہ وہ دوسرے اداروں کا بھی احترام کریں۔ریاست کے دوسرے اداروں کو بھی اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کرنے کی اجازت دیں .... اس پر قومی سلامتی کونسل کی تشکیل کا دروازہ کھولنے کی باتیں ہوئیں۔جنرل شعیب کے مطابق انہی دنوں کسی کورکمانڈرز کانفرنس میں یہ طے پایا کہ آرمی چیف فلاں پلیٹ فارم پر جا کر اس نئے ادارے (NSC)کی تجویز فلوٹ (Float) کریں۔جیسا کہ آج سب کو معلوم ہے وہ تجویز دے دی گئی۔لیکن وزیراعظم نے اس کا بُرا منایا اور اپنے آرمی چیف سے کہا کہ وہ استعفیٰ دے دیں۔جنرل امجد شعیب کہتے ہیں کہ جب جنرل جہانگیر کرامت نے وزیراعظم کا یہ مطالبہ سناتھا تو ان کو چاہیے تھا کہ اپنے کورکمانڈروں کو بتاتے۔لیکن آرمی چیف نے کسی کو بتائے بغیر اپنا استعفیٰ لکھا اور وزیراعظم کو بھیج دیا۔البتہ جنرل جہانگیر کرامت نے یہ کیا کہ اپنے کور کمانڈروں کو فرداً فرداً ایک خط لکھا اور اس میں وہ تفصیل بیان کی جو ان کے استعفے کا باعث بنی۔جنرل امجد شعیب نے کہا کہ یہ خط ان کے پاس آج بھی محفوظ ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ : ”اگر جہانگیر کرامت ہمیں اس روز ایک کانفرنس میں بلا کر یہ کہتے کہ وزیراعظم نے انہیں استعفیٰ دینے کا کہا ہے تو اس روز ہی ”کو“ ہو جاتا!“قارئین کرام! جنرل امجد شعیب کا یہ بیان جس کا میں نے حوالہ دیا ہے، بڑا چشم کشا ہے۔اس کے کئی پہلو ہیں.... مثلاً ایک تو یہ ہے کہ آرمی چیف اور اس کے کور کمانڈرز اور پی ایس اوز سارے کے سارے ایک ہی صفحے پر ہوتے ہیں.... دوسرے وہ اپنے ادارے کے تحفظ اور وقار کے لئے بڑی دور تک جا سکتے ہیں۔خواہ اس کے نتائج بعد میں کچھ بھی نکلیں....تیسرے یہ کہ اگر آرمی چیف کوئی ایسا فیصلہ کرتا ہے کہ جس کے ساتھ کورکمانڈر متفق نہیں ہوتے تو بھی کور کمانڈرز اور پی ایس اوز اپنے چیف کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں....شائد جنرل جہانگیر کرامت کو پہلے سے معلوم تھا کہ اگر انہوں نے کورکمانڈرز کانفرنس بلائی اور اس میں وزیراعظم کے مطالبے کا ذکر کیا اور کہا وہ مجھ سے استعفیٰ طلب کر رہے ہیں تو معاملہ مزید گھمبیر ہوجاتا۔اس لئے انہوں نے مناسب یہی سمجھا کہ ملک کو کسی اور مارشل لاءسے بچایا جائے.... لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ یہ مارشل لاءلگ کے رہا۔جنرل جہانگیر کرامت 6اکتوبر 1998ءکو مستعفی ہوئے اور وزیراعظم نے جنرل علی قلی خان کو سپرسیڈ کرکے جنرل پرویز مشرف کو ان کی جگہ آرمی چیف مقرر کیا۔لیکن جب جنرل مشرف آرمی چیف بنے تو قبل ازیں وہ کورکمانڈر منگلا بھی تو تھے اور جنرل امجد شعیب کے ساتھ کور کمانڈرز کانفرنسوں میں شریک رہے تھے۔ان کو وزیراعظم اور جنرل جہانگیر کرامت کے درمیان کشیدگی کا پورا پورا علم تھا.... میں قارئین کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس کشیدگی کا اظہار صرف ایک برس بعد 12اکتوبر 1999ءکو ہو کے رہا۔اس ایک برس کے دوران، وزیراعظم نے جنرل پرویز مشرف سے کسی استعفیٰ کا مطالبہ کیا یا نہیں کیا، اس کا تو کچھ پتہ نہیں، لیکن فوج کی حسّاسیت کا ادراک اس واقعہ سے بخوبی ہو جاتا ہے جو جنرل امجد شعیب نے ٹی وی ٹاک شو میں بیان کیا۔جنرل امجد شعیب از سرتاپا ایک پروفیشنل سولجر رہے اور ان کا گھرانہ مشرقی روایات و اقدار کا سراپا امین رہا۔مجھے ان کے ماتحت کام کرنے کا اس وقت موقع ملا جب وہ جی ایچ کیو میں ڈاکٹرین اینڈ ایلوایشن ڈائریکٹوریٹ (D&E DTE)کے DGتھے۔میں ان کے ماتحت اس وقت بطور لیفٹیننٹ کرنل ایک GS0-1تھا.... یہ 1995ءکا ذکر ہے۔اگر قارئین اسے خود ستائی پر محمول نہ کریں تو ایک ذاتی واقعہ عرض کرنا چاہوں گا....جنرل صاحب نے ایک روز مجھے بلایا۔وہ ہمیشہ اپنے سٹاف کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے۔ اور میرے سامنے ایک رجسٹر رکھ کر کہنے لگے: ”یہ میری والدئہ محترمہ کی تحریریں ہیں جو زیادہ تر مولانا مودودی کی تفہیم القرآن پر مبنی ہیں۔ان میں وہ تحریریں بھی ہیں جو وہ ہم بھائیوں کو دیارِ فرنگ (امریکہ وغیرہ)میں دورانِ تعلیم لکھتی رہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ان کو ایک کتاب کی شکل میں مرتب کرکے اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں میں تقسیم کردوں“۔....میں نے ان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مجھے اس قابل سمجھا کہ میں اس سلسلے میں کچھ کرسکتا ہوں۔ یہ ایک نیک (Noble)کام تھا....چنانچہ وہ تحریریں کتاب کی شکل میں مرتب کرکے شائع کر دی گئیں۔اس کی ایک کاپی آج بھی میرے پاس موجود ہے۔اس کتاب کا عنوان ”آئینہءبصیرت“ بھی میں نے ہی تجویز کیا تھا جو ان کی والدہ محترمہ(رضیہ حمید وائن صاحبہ) نے پسند فرمایا۔اس کے دیباچہ میں وہ لکھتی ہیں:”قرآن حکیم اللہ تعالیٰ نے تمام نوع انسانی کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے اپنے آخری نبی محمدﷺ پر نازل فرمایا اور انسان کے لئے ایک مکمل ضابطہ حیات عطا فرمایا۔ ہر مسلمان اس کلام پاک کی دل و جان سے تعظیم و تکریم کرتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ اس کا محض پڑھ ہی لینا کار ثواب ہے اور مطلب سمجھنا تو ہے ہی بڑی خیروبرکت کا موجب اور اس پر عمل کرنااس کی سراسر نجات ہے۔لیکن وہ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود عربی زبان سے نابلد ہونے کی وجہ سے اس کتاب حکمت و ہدایات کے فیوض و برکات سے محروم رہتا ہے،کیونکہ لفظی ترجمہ میں عبارت میں ربط نہیں رہتا، لہٰذا ایک قاری فقرات مکمل کرنے اور پھر ان سے مفہوم ومدعا اخذ کرنے میں دقت محسوس کرتا ہے۔اس کمی کو پورا کرنے کے لئے سید ابوالاعلیٰ مودودی نے آزاد ترجمانی کا طریقہ اختیار کیا اور نہایت لگن اور جانفشانی سے تفہیم القرآن کی چھ ضخیم جلدیں لکھیں جو کہ غیر عربی دان حضرات کے لئے ایک گراں قدر خدمت ہے اور بلاشبہ ان کی یہ اَن تھک مساعی قابل صد ستائش ہیں۔”مولانا موصوف نے اپنے دیباچہ میں ناظرین کے استفادہ کے لئے چند مفید مشورے دیئے ہیں۔ان مشوروں پر میں نے عمل کیا اور وقتاً فوقتاً تفہیم القرآن میں سے ایسے نکات نوٹ کرتی رہی جن سے احکامات خداوندی سے آگہی حاصل ہو اور انسان ایسا راہ عمل اختیار کرے جو دین و دنیا میں سرخروئی اور نجات کا باعث بنے۔”میں نے آیات کا ترجمہ جیسا کہ مولانا صاحب نے آزاد ترجمانی میں کیا ہے،جوں کا توں لکھ دیا ہے اور حواشی میں بھی الفاظ اور تحریر میں سرموفرق نہیں آنے دیا۔مبادا کہ مفہوم میں فرق آ جائے ۔البتہ اختصار سے ضرور کام لیا ہے۔مثال کے طور پر اگر حواشی کے چند فقروں میں کوئی ایسا جامع فقرہ مل گیا ہے جو بہت سے فقروں کے مطلب کے سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے تو اسی ایک فقرہ پر اکتفا کرلیا ہے، کیونکہ ہمارے جوان لمبی لمبی تفاسیر دیکھ کر پڑھنے سے گریز کرتے ہیں۔میرے بچے جو عرصہ دراز سے اپنے ملک سے دور ہیں، میں ان کے لئے اکثر و بیشتر ایسا لٹریچر فراہم کرتی رہتی ہوں جو ان کو اپنے مذہب اسلام کے قریب تر کرتا رہے،لیکن وہ ہمیشہ اپنی مصروفیات ہی کا عذر کرتے رہتے ہیں اور میں یہی تلقین کرتی رہتی ہوں کہ وہ اپنے خالق، اپنے منعمِ حقیقی کے احکامات کی بجا آوری میں کبھی غفلت نہ برتیں اور اس کی رضا حاصل کرنا اپنا اولین فرض سمجھیں۔”میری یہ ادنیٰ سی کوشش اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔”تفہیم القرآن“ کے علاوہ میں نے چند ایک مفید مضامین اخبارات سے اخذ کرکے اس کتابچے کے آخر میں درج کر دیئے ہیں اور چند معتبر اور مبارک احادیث نبویﷺ بھی شامل کر دی ہیں جو کہ باعث خیر و برکت ہیں۔”آخر میں میری بارگاہ ایزدی میں عاجزانہ دعا ہے کہ وہ اپنی رحمت خاص سے ہم سب کی رہنمائی فرمائے اور قرآن حکیم کے سرچشمہءہدایت سے فیض یاب فرمائے....آمین یارب العلمینرضیہ حمید وائیں“قارئین کرام!اس کتاب کو خود میرے سب بچوں نے سراہا، اکتسابِ فیض کیا اوروالدئہ امجد شعیب کے لئے دستِ دعا دراز کئے۔یہ سطور اگر جنرل صاحب کی نظر سے گزریں تو وہ یہ سمجھیں کہ ان کی والدئہ ماجدہ نے یہ کتاب لکھ کر ایک صدقہ ءجاریہ کا اہتمام کیا تھا۔موضوع سے ہٹ جانے کی معذرت!....میں بتانا یہ چاہتا ہوں کہ پاک فوج ، روایات و اقدار کی ایک ایسی لڑی میں پروئی ہوئی ہیں کہ جو نسل در نسل قائم رہتی ہے۔ جمہوریت کے معزز علم بردار بھی اگرچہ اسی لڑی میں پروئے ہونے چاہئیں لیکن مقام افسوس ہے کہ یہ لڑی بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔اس کو ٹوٹنے سے بچانا چاہیے۔اوروہ روش اختیار نہیں کی جانی چاہیے، جس سے سول ملٹری روابط کے آئینے میں بال آ جائے کہ ایک بار یہ بال آ جائے تو پھر جاتا نہیں۔ ہم کئی بار اس کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔اس وقت پاکستان اس ”آئینہ شکنی“ کا متحمل نہیں ہو سکتا....افہام و تفہیم کی راہ ہر قیمت پر نکالنی چاہیے۔

مزید : کالم