سینٹ اور وزیراعظم

سینٹ اور وزیراعظم
سینٹ اور وزیراعظم

  

سینٹ میں ایم کیو ایم کی طرف سے پیش کی جانے والی تحریک کثرت رائے سے منظور کر لی گئی، جس کے مطابق وزیراعظم ہفتے میں ایک بار اجلاس میں شرکت کے پابند ہوں گے۔ ایک معاصر نے اسے حکومت کی شکست قرار دیا ہے۔ بظاہر یہ قرارداد وزیراعظم نواز شریف کی سینٹ سے مسلسل غیر حاضری پر پیش کی گئی۔ میاں نوازشریف پاکستان کے پہلے وزیراعظم نہیں ہیں جو سینٹ سے غیر حاضر رہے ہوں، مگر اس سے قبل کسی دوسرے وزیراعظم کو اس طرح قرارداد کے ذریعے حاضری کا پابند بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ قوانین کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ ایسے ہونے چاہئیں،جن پر عملدرآمد ہونا اور کرنا ممکن ہو، مگر پاکستان میں ایسے بے شمار قوانین ہیں، جن پر عمل نہیں ہوتا، مگر وہ قانون کی کتابوں کا حصہ ہیں اور کبھی کبھار کسی وجہ سے وہ کسی کے خلاف استعمال کئے جاتے ہیں تو لوگوں کو پتہ چلتا ہے کہ یہ قانون بھی موجود ہے۔ سینٹ ایک قابل احترام ادارہ ہے اور وزیراعظم بھی جمہوری اداروں کا احترام کرتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ سینیٹر صاحبان سے ملاقات کا جلد کوئی موقع تلاش کریں گے۔ 1985ءکی صوبائی اسمبلی میں بھی ایک مرتبہ اراکین اسمبلی نے دبے لفظوں وزیراعلی پنجاب کے اسمبلی نہ آنے پر قدرے ناراضگی کا اظہار کیا تھا تو میاں نوازشریف جو اس وقت وزیراعلی پنجاب تھے۔ وہ اسمبلی آئے تھے اور انہوں نے نہ صرف جمہوریت پر اپنے غیر متزلزل یقین کا اظہار کیا تھا، بلکہ اراکین اسمبلی کو اپنی محبت کا یقین بھی دلایا تھااور وعدہ کیا تھا کہ وہ صوبائی اسمبلی آتے جاتے رہیں گے۔ اراکین اسمبلی ان کے اس جذبے سے اتنے متاثر ہوئے تھے کہ انہوں نے ایوان میں کھڑے ہو کر تالیاں بجا کر ان پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔جناب آصف علی زرداری نے وزیراعظم کی بجائے اپنے لئے صدر کا عہدہ پسند کیا تھا اور پارلیمانی نظام کے ہوتے ہوئے انہوں نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ اصل اختیارات صدر کے پاس بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کے وزرائے اعظم اجلاسوں کی صدارت کرتے تھے۔ اسمبلیوں میں تقریریں کرتے تھے۔ گاہے بگاہے پریس کانفرنسیں بھی کر لیتے تھے، مگر کہا جاتا ہے کہ کسی بھی اہم فیصلے کے لئے وہ صدر زرداری کی طرف دیکھتے تھے، کیونکہ انہیں فیصلہ سازی کے پرمشقت کام سے ”نفرت“ تھی، مگر اب جناب نوازشریف وزیراعظم ہیں۔ اور ان کی وزارت عظمی کو ہر شعبہ زندگی میں محسوس کیا جاتا ہے۔ اس لئے انہیں بے شمار فیصلے کرنا ہوتے ہیں۔ انہوں نے محض اجلاسوں میں شرکت ہی نہیں کرنا ہوتی، بلکہ کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ وہ ایک ایسے وقت میں پاکستان کے وزیراعظم ہیں جب ملک کو دہشت گردی کاسامنا ہے۔ معیشت میں سخت چیلنج درپیش ہیں۔

 لوڈشیڈنگ، بے روزگاری اور امن و امان کے بے شمار معاملات ہمہ وقت ان کی توجہ کے متقاضی رہتے ہیں۔ ان حالات کی وجہ سے وہ سینٹ میں نہیں جا سکے، مگر سینٹ کے معزز اراکین کا خیال ہے کہ سینٹ وزیراعظم کی حاضری کے بغیر نہیں چل سکتا۔ سینیٹر ظفر علی شاہ نے ایوان میں اس تحریک پر خاصا احتجاج بھی کیا اور کہا کہ ایوان کو بلڈوز کیا جا رہا ہے۔ 22سال سے ایم کیو ایم کا لیڈر باہر بیٹھا ہے اور نظام چل رہا ہے اور اگر وزیراعظم ایوان میں نہیں آئیں گے تو بھی نظام چلتا رہے گا۔معاصر کی اطلاع کے مطابق سینیٹر ظفر علی شاہ نے زور دار انداز میں یہ باتیں کیں، مگر اس پر توجہ نہیں دی گئی اور قرارداد منظور کر لی گئی۔اس قرارداد کی منظوری سے سینٹ نے نہ صرف اپنے اختیار کی خبر دی ہے، بلکہ یہ واضح کیا کہ سینٹ اپوزیشن کے کنٹرول میں ہے۔ اور اپوزیشن کے متعلق ونسٹن چرچل نے بڑے مزے کی بات کی تھی کہ اپوزیشن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر مرحلے پر حکومت کی مخالفت کرے اور اگر کسی مرحلے پر اسے حکومت کی حمایت کرنا پڑے تو یہ حمایت KISS کی بجائے KICK کی صورت میں ہونی چاہیے۔ ہمارے خیال کے مطابق کسی نے چرچل کا یہ بیان نہیں پڑھا ہوگا وگرنہ ہو سکتا ہے کہ کوئی معزز رکن سینٹ ونسٹن چرچل کی تائید کا عملی مظاہرہ کر گزرتا، کیونکہ ایسی حرکات کو بہت سے لوگ جمہوریت کا حسن قرار دیتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی اسمبلیوں میں آپ نے اکثر ایسے ”مقابلہ ہائے حسن“ کی خبریں پڑھی ہوں گی۔ برطانوی پارلیمنٹ کے اختیار کی مثال دیتے ہوئے اکثر کہا جاتا ہے کہ اگر وہ کسی مرد کو عورت قرار دے دے تو اسے قانونی طور پر عورت ہی تسلیم کیا جائے گا، مگر ابھی تک برطانوی پارلیمنٹ نے کسی مرد کو عورت قرار دینے کی کوشش نہیں کی۔ بابائے صحافت لارڈ نارتھ کلف نے کہا تھا کہ اگر کتا انسان کو کاٹ لے تو یہ خبر نہیں ہے، لیکن اگر انسان کتے کو کاٹ لے تو یہ خبر ہے۔ برطانیہ سمیت دُنیا کے ان گنت تعلیمی اداروں میں لارڈ نارتھ کلف کی خبر کی یہ تعریف آج بھی پڑھائی جاتی ہے، مگر برطانوی اخبارات میں ایسی خبریں نظر نہیں آتیں۔ برطانیہ میں گوروں اور گوریوں کے کتوں سے پیار، بلکہ قابل اعتراض پیار کے مناظر تو اکثر نظر آتے ہیں، مگر انہیں کاٹنے کی خبر کبھی نظر نہیں آتی۔ ہمارے ایک دوست کے مطابق پاکستان میں افراد کو اپنے اختیار و اقتدار کا مظاہرہ کرنے کا دیرینہ شوق ہے، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس شوق کا مرض اب اداروں کو بھی لاحق ہو گیا ہے۔ مقتدر افراد کے اختیار کا مظاہرہ کرنے کے شوق کا خمیازہ ہم قومی سطح پر کئی مرتبہ بھگت چکے ہیں۔ اور مہذب ممالک میں ادارے ہمیشہ ایسے شوق کا احتساب کرتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم سقوط مشرقی پاکستان کے تمام سبق بھول گئے ہیں۔ مجیب الرحمن ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلانا چاہتے تھے، مگر مغربی پاکستان کے اراکین اسمبلی کو کہا گیا کہ اگر کوئی ڈھاکہ گیا تو اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گے۔ ڈھاکہ میں جب فوجی آپریشن شروع کیا گیا تو قوم کو خبر دی گئی کہ پاکستان بچا لیا گیا ہے، مگر اس وقت کسی نے ان افراد کا احتساب کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ وہ اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں۔ اور ملک کو بچانے کی بجائے توڑنے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ہم سینٹ کا احترام کرتے ہیں۔ پاکستانی جمہوریت کے لئے اسے ناگزیر سمجھتے ہیں۔ وزیراعظم کو سینٹ میں ضرور جانا چاہیے ،کیونکہ یہ قرارداد سینٹ کی طلب دید کا اظہار بھی کر رہی ہے۔اور یہ سینٹ کی ایک ایسی خواہش ہے، جسے معصوم قرار دیا جا سکتا ہے۔

مزید : کالم