سی این جی....تقسیم کرنے کا وقت تبدیل کریں

سی این جی....تقسیم کرنے کا وقت تبدیل کریں
سی این جی....تقسیم کرنے کا وقت تبدیل کریں

  

 پہلے سنا تھا کہ قطر سے معاہدہ ہوگیا ہے اور اب CNGگیس بند کردی جائے گی تاہم اس کے لئے جو گیس پمپ قائم کئے گئے ہیں وہاں ایل این جی یا شاید ایل پی جی جو بھی نیا نام ہے وہ گیس ملے گی۔ دس بارہ برس قبل جب یہ سی این جی پمپ نئے نئے قائم ہوئے تھے یار لوگوں نے پیٹرول کی زبردست بچت کی خاطر اپنی گاڑیوں میں نئے پرزے لگوالئے تھے۔ پاکستان میں چونکہ گیس کے یہ پرزے بنائے نہیں جاتے لہٰذا ملائیشیا اور تھائی لینڈ وغیرہ سے اربوںڈالروں کی امپورٹ کی گئی اور آہستہ آہستہ چار پانچ سو ڈالر کی قیمت کے یہ پرزے اس قدر مہنگے ہوتے چلے گئے کہ خدا کی پناہ۔ ملک بھر میں نئے نئے پمپ سٹیشن بھی بنتے گئے اور خصوصاً قومی اسمبلی کے ارکان اور سینٹ ارکان کی چاندی ہوگئی کہ انہیں دھڑادھڑ لائسنس بھی ملے اور بینکوں سے قرضے بھی، اس لئے کہ گیس بھرنے والی مشینری خاصی مہنگی ہے اور ایک سٹیشن بنانے کے لئے صرف مشینری پر ہی دو سے چارکروڑ روپے کی لاگت آتی ہے۔ گیس کا کمیشن شروع شروع میں اس قدر زیادہ تھا کہ ایک روپے لاگت کی گیس کے پمپ والے چار روپے وصول کررہے تھے۔ عوام الناس اس قدر بھیڑ چال میں مصروف تھے کہ چھوٹی کاروں میں ہی نہیں بسوں۔ ویگنوں اور بڑی بڑی گاڑیوں میں بھی گیس کے پرزے فٹ کرالئے گئے۔ اور ہمارے شہری اس بات کو قطعی نظرانداز کرگئے کہ آگے چل کر اس گیس کا کیا حشر ہونے والا ہے۔ ظاہر ہے کہ پھر ایسا وقت آیا کہ گیس کم یاب ہی نہیں بلکہ نایاب ہوکررہ گئی۔ جن فیکٹریوں میں گیس کی وجہ سے کام چل رہا تھا وہاں جب گیس نہ پہنچی تو وہ بند ہوگئیں۔ مزدور بے روزگار ہوئے۔ ایکسپورٹ کے سودے پورے نہ ہوسکے اور صنعت کار سرپر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئے۔ انہیں اربوں ڈالروں کے بڑے بڑے جنریٹر منگوا کر کام چلانا پڑا اور ہمارا ملک ایک ایسی بدنظمی کا شکار ہوکررہ گیا کہ اللہ کی پناہ۔ ہرآئے دن ڈالر کی ضرورت بڑھتی چلی گئی اور ڈالر دیکھتے ہی دیکھتے ایک سو سات روپے تک جاپہنچا ۔ ایسی ہی صورت حال اشیاءضرورت کی بھی ہوتی چلی گئی اور سارا ملک مہنگائی کی ایسی لپیٹ میں آگیا کہ شاید ہی خطہ کے کسی دوسرے ملک کی یہ درگت بنی ہو۔ اس دوران میں پی پی پی کی حکومت بھی مشرف دور کے بعد آگئی مشرف دور میں گیس کے کوٹے مسلم لیگ قائداعظم نے اپنے لوگوں میں تقسیم کئے تھے تو پی پی پی دور میں یہ چل کر جیالوں کے لیڈروں کے پاس آگئے اور جن جیالوں کی پارٹی کو روٹی ،کپڑا مکان والی غریبوں کی پارٹی خیال کیا جاتا ہے اس کے وزیراعظم کی ایسی ایسی کہانیاں میڈیا پر آنے لگیں کہ بس پڑھتا جار اور شرماتا جا۔ وہ موصوف تو مع اہل وعیال کرپٹ قرار دیئے گئے۔ کبھی کبھی یہ مع اہل وعیال کا لفظ یا فقرہ عموماً شادی کے دعوتی کارڈروں پر لکھا دیکھتے تھے کہ جناب فلاں مع اہل وعیال۔ پہلی بار میڈیا ایک منتخب وزیراعظم کے بارے میں ایسے القاب وآداب سامنے لایا تو صرف ہم یہاں پاکستان میں ہی حیران یا پریشان نہیں ہوئے بلکہ پوری دنیا میں یہ قصے کہانیاں کل عالم نے پڑھیں اور کچھ زیادہ ہی کھل کر ہمارے ملک اور ہمارے پاکستانیوں کی جگ ہنسائی ہوئی۔ پی پی پی چونکہ ایسی سیاسی جماعت ہے ہی نہیں جو کسی قسم کی جائز اور صحیح تنقید پر برا منائے لہٰذا ان کے لیڈر اس صورت حال سے ذرہ برابر بھی ٹس سے مس نہ ہوئے نئے الیکشن ہوئے تو لوگوں نے اس پارٹی کو کرپشن کی سزا بیلٹ پیپر کے ذریعہ دے دی اور یہاں نئی حکومت قائم ہوگئی۔

 اب اس حکومت نے بھی اپنا 1/6حصہ یعنی ساٹھ مہینوں میں سے شروع کے دس مہینے مکمل کرلئے ہیں اور جوجدوجہد یہ عوام کے سامنے لارہے ہیں ان میں محسوس تو یہ ہورہا ہے کہ کچھ ایسے منصوبے ضرور نئے لائے جارہے ہیں جن کے ذریعہ عوام کو ریلیف دیا جارہا ہے تاہم فی الحال یہ امر سامنے آرہا ہے کہ ملک کے تمام علاقوں کے شہریوں کو یکساں فائدہ نہیں ہورہا۔ مثال کے طورپر لاہور کے شہری تو میٹروبس میں بیس پچیس روپے سے آدھے گھنٹے میں شہر کے ایک حصہ سے دوسرے حصہ میں 50کلو میٹر یااس سے بھی زیادہ کا فاصلہ طے کرلیں لیکن یہ حکومت صرف لاہور کے ایک کروڑ شہریوں کے لئے تو قائم نہیں کی گئی اور نہ ہی چاروں صوبوں کے لوگوں نے اسے محض چند شہروں کے ووٹروں کو فائدہ پہنچانے یا وہاں کی سڑکیں درست کرنے کے لئے ووٹ دیئے ہیں لہٰذا اب جن چیزوں پر توجہ دی جارہی ہے ان میں پیٹرول، گیس، اور بجلی کو تواتر کے ساتھ مہیا کرنا اور ان کی قیمت بھی کم رکھنے کے منصوبے آگے لانے کی ضرورت ہے۔ ایسا ہوگا تو اس صورت میں ہی یکساں طورپر عوام کو ایک جیسا ریلیف مل سکے گا۔ سی این جی گیس کافی مہینے بند رہی اور اب ان پمپوں کو نقصان سے بچانے کے لئے چھ گھنٹے کے لئے روزانہ اس کی تقسیم اور فروخت کا نظام دوبارہ شروع کیا گیا ہے جن پر اربوں روپے لاگت آچکی ہے لیکن صبح 10بجے یا شاید 9بجے سے 4بجے سہ پہر کے یہ اوقات عوام کے لئے سوہان روح ہیں وہ اپنا کام چھوڑیں۔ اپنے دفاتر چھوڑیں اور کئی کئی گھنٹے لائنوں میں لگ کر گیس خریدنے جائیں تو یہ ایک بہت ہی مشکل صورت حال ہے۔ بچوں کو سکولوں، کالجوں میں چھوڑ کر کام پر جائیں۔ دکانوں پر جائیں، دفتروں میں جائیں یا پھر گیس بھروانے کے لئے گھنٹوں ضائع کریں۔ دوسری جانب لوڈشیڈنگ چونکہ ابھی ختم نہیں ہوئی اس لئے گیس بھی چھ گھنٹے کی بجائے صرف تین گھنٹے ہی میسر آتی ہے کیونکہ اس کا پریشر صرف اس صورت ہی باقی رہتا ہے جب بجلی آرہی ہو۔ جنریٹر وغیرہ پر اس کا پریشر باقی نہیں رہتا یوں قطاریں مزید طویل ہوتی چلی جاتی ہیں۔ فی الحال جس امر کی فوری ضرورت ہے وہ ہے ان اوقات کی فوری تبدیلی ، موسم گرما اب شروع ہوچکا ہے لہٰذا زیادہ بہتر ہوگا اگر یہ اوقات 5بجے شام سے رات 12یا ایک بجے تک کردیئے جائیں ۔ یوں اپنے اپنے کاموں سے فارغ ہوکر لوگ آسانی کے ساتھ اپنے اپنے پمپ کی لائن میں جاسکیں گے۔ اس فیصلہ نے کم ازکم عوام کو نظم وضبط کا پابند تو بنادیا ہے کہ ہرمسئلہ پر پہل کرنے والی یہ قوم کم ازکم اب لائن میں لگنے کی تو عادی ہوچلی ہے ،شادی کا کھانا کھلتا ہے تو کتنا ہی ہڑبونگ اس بات پر مچ جاتا ہے کہ پہلے کھانا کون ڈال کر لے آئے۔ 

مزید : کالم