موازنہ علم و عبادت

موازنہ علم و عبادت
موازنہ علم و عبادت

  

فرشتوں کو اللہ نے آدم ؑ سے پہلے نہیں ،بہت پہلے پیدا کردیا تھا۔خالق کائنات نے انسانوں کی تخلیق کا ارادہ فرمایا اور ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی کیا کہ انسان ہی کے سر پر تاجِ خلافت بھی سجانا ہے۔شہنشاہِ کائنات رب الملائکہ و الجنات، مالکِ ارض و سماءنے اس فیصلے کا اظہار فرشتوں کے آگے بھی کردیا۔فرمایا:مَیں زمین پر اپنا نائب بنانا چاہتا ہوں۔ فرشتوں نے رب کے اس فیصلے کو سنا تو حیران ہوئے، انہیں اندازہ تھا کہ پہلے جنوں نے زمین میں اودھم مچا رکھا تھا۔ان کی شوریدہ سری سے زمین رنگین تھی۔اب اسی قبیل کی اور مخلوق انسان اور پھر اس پر خلافت کا تاج، یہ تو اور بھی پریشان کن صورت حال ہوگی۔اسی حیرت و استعجاب میں تھے اور یوں بھی رب کے فیصلے پر اعتراض تو کر ہی نہ سکتے تھے۔پس مصلحت پوچھنے کے لئے استفہامیہ انداز اختیار کیا۔بولے:اللہ ہم تو تیری حمد کرنے میں اور بڑائی کے گن گانے میں رطب اللسان رہتے ہیں۔تیرا حکم مانتے ہیں، تیری عبادت میں لگے رہتے ہیں تو پھر تو کیوں ایسی مخلوق بنانے لگا ہے، جو زمین میں خونریزی کرے گی، فساد مچائے گی....رب کائنات نے جواب سنا تو فوراً دو جواب دیئے۔پہلا جواب حکماً تھا، دوسرا حکیمانہ۔فرمایا:بس خاموش رہو، مَیں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔حکیمانہ جواب یہ کہ آدم ؑ کو اوٹ میں کیا اور علم آدم الاسما کلھا۔آدم ؑ کو مخلوق کے تمام نام سکھا دیئے۔پھر فرشتوں کو بلا کر کہا، فرشتو! تم عابد ہو، زاہد ہو، میری معصیت بھی نہیں کرتے، میراحکم ماننے میں مستعدرہتے ہو، ذرا ان چیزوں کے نام تو بتاﺅ۔بھلا فرشتے کیا بولتے، ان کے پاس تو علم تھا ہی نہیں۔اپنے عجز کا اظہار کرنے لگے اور کہا لاعلم لنا ہمیں تو ان کا علم نہیں ہے۔یہاں اہل ظواہر کو دھوکہ لگا۔بولے فرشتوں نے حسدکیا کہ خلافت فی الارض ہمیں کیوں نہیں ملی۔انسان کو کیوں دے دی، لیکن اللہ کو بھی علم کی برتری بتانا مقصود تھی۔فرشتوں کے ہاں بھی اس بات کا دعویٰ تھا نہ مطالبہ۔عبادت کا شوق اور علم کی کمی بسا اوقات بے راہ رو کر دیتی ہے۔رسول اللہﷺ نے بھی علم کی عظمت کو اجاگر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:ایک علم رکھنے والے شخص کی فضیلت کسی عابد پر ایسے ہی ہے، جیسے مَیں تم میں سے انتہائی کم تر شخص پر فضیلت رکھتا ہوں....اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی پناہ میں جگہ دے، ایسے وقت سے جب انسان بدعت کو شریعت سمجھے۔اندھیرے کو اجالا کہے، جوہڑ کے گندے پانی کو آب زم زم سمجھ کر استعمال کرنے لگے، نفرت کو محبت جانے اور نافرمانی کو اطاعت خیال کرے۔علم کے بغیر شوق عبادت میں انسان راستے سے بھی بھٹک جاتا ہے۔اس لئے اپنے محبوب ﷺ کو بھی حکم دیا کہ قل رب زدنی علماءمنزل پرپہنچنے کے لئے محض شوق سفر کافی نہیں،نشان منزل کا صحیح پتہ بھی ہونا چاہیے۔خالی سفر تھکا دے گا، منزل نہیں ملے گی۔اس لئے وصول الی اللہ اور وصول الی رسول کے لئے علم اشد ضروری ہے۔صحیح علم کے بغیر نہ وصول الی رسول ہوگا، نہ وصولی الی اللہ۔یہی فلسفہ اس آیت میں بیان ہوا ہے کہ :

کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرنے کے خواہش مند ہو تو میری اتباع، میری اطاعت کرو۔اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا۔ہمارے پیارے رسول جناب محمدﷺ نے بھی اسی بات کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنی تمام ذہنی خواہشات رسول اللہ ﷺ کی شریعت کے تابع نہ کر دے۔نماز اچھی، روزہ اچھا، حج اچھا، زکوٰة اچھییاوجود اس کے مَیں مسلماں ہو نہیں سکتانہ جب تک کٹ مروں مَیں خواجہ ءیثرب کی عزت پرخدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتااسی لئے ایک مردِ دانا نے ایک عبادت کے شوقین سے کہہ دیا تھا کہ:این راہ کہ میری بہ ترکستان استاے شوق محبوب رکھنے والے شخص ہوشیار رہو، جس راستے پر تو چل رہا ہے۔یہ مدینہ نہیں، ترکستان کو جا رہا ہے۔مسلمان کا قبلہ صرف بیت اللہ ہے۔مدینہ میں رہتے ہوئے بھی منہ قبلہ رخ ہی کرنے کا حکم ہے، کسی اور طرف نہیں۔اللہ ہمیں ذوق عبادت دے اور علم کی بنیاد پر قبلہ رو رہنے کی توفیق بخشے۔

مزید : کالم