موجودہ حالات اور ہمارے حکمران

موجودہ حالات اور ہمارے حکمران

اس وقت اسلامی دنیا کے حالات واقعی پرےشان کن ہےں۔ برما اورنیپال میں مسلم کشی کی روح فرسا خبرےں سننے میں آ رہی ہےں۔ شام میں فسادات کی آگ بھڑک رہی ہے۔ اس سے قبل عراق میں تباہی وبربادی کا رقص ابلیس جاری رہا، جس کی بازگشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے۔ اےران کے خلاف امریکہ کی کوششےں بھی جاری ہےں۔ روس کے افغانستان سے شکست کھا کر نکلنے کے بعد وہاں ابھی تک افراتفری اورقتل وغارت کا سلسلہ جاری ہے، جو رفتہ رفتہ پاکستان تک پھےل گیا ہے، جس نے ملک کو اےک درد ناک کےفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ سرکاری اداروں، سرکاری اہلکاروں ،سرکاری املاک پر حملے ہو رہے ہےں۔ سرکاری اہلکاروں اورافسروں کے ساتھ ساتھ مختلف طبقوں ،فرقوں، علاقوں اورشہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ مساجد، امام بارگاہےں اور گرجا گھر بھی محفوظ نہیں۔ لوگ پرےشان ہےں، مگر اس مسئلے کا بظاہر کوئی حل نظر نہیں آتا۔ کراچی دہشت گردی کا شکار ہے اور بلوچستان عصبیت کی آگ میں جل رہا ہے۔ پنجاب کسی حد تک محفوظ ہونے کے باوجود بھی غےر محفوظ ہے، جبکہ خےبر پختونخوا میں آئے روز دہشت گردی کی وارداتےں ہوتی رہتی ہےں۔ ان دنوں طالبان اورحکومت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے تو ان وارداتوں میں کمی نظر آرہی ہے۔

ان حالات پر مختلف لوگوں نے اپنی اپنی آراءپےش کیں ، مگر سابق رکن قومی اسمبلی اورجماعت اسلامی پاکستان کے ڈپٹی سےکرٹری جنرل فرید احمد پراچہ نے جو بےن الاقوامی حالات پر گہری نظررکھنے کے علاوہ ملکی حالات کا شعور بھی رکھتے ہےں، گزشتہ روز منصورہ ڈگری کالج وحدت روڈ لاہور کے پاکستان ہاسٹل کی 16ویں سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے مسلمان حکمرانوں کو اس کا قصور وار قرارد یا ہے، جنہوں نے دنیا کے بدلتے ہوئے حالات پر بقول اُن کے گہری نظر رکھنے کے بجائے ان سے اقتدار اور امداد کی بھیک مانگنے پر مصر رہے۔ اس کے برعکس نےٹو ممالک امریکہ کو دنیا کی سپر طاقت ثابت کرنے اور اسلام اور اسلامی دنیا کے خلاف اپنی کارروائیاں کرنے میں مدد کرتے رہے، کیونکہ افغانستاں سے روسی فوج کی واپسی پر نےٹو کے سےکرٹری جنرل نے یہ کہہ کر اپنی پلاننگ کا انکشاف کردیا تھاکہ اب ہمےں سرخ انقلاب کی بجائے سبز انقلاب سے خطرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف طریقوںسے مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی، جس میں نائن الیون کا واقعہ بھی شامل ہے۔

اسلامی دنیا اور مسلمانوں کے خلاف نےٹو کی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر فرید پراچہ نے نظامِ تعلیم کا بھی حوالہ دیا اور بتایا کہ اس وقت اسلام دشمن قوتےں ہمارے نظامِ تعلیم کا رخ کعبة اللہ اورمدینہ منورہ سے موڑ کر لندن اور پےرس کی طرف کرنے میں مصروف ہےں، جس کا ثبوت ملک سے قومی زبان کو ختم کر کے ذریعہ تعلیم کو انگرےزی میں منتقل کرنے کا سلسلہ پرائمری جماعت تک پھےلا دیا گیا ہے۔ نصابِ تعلیم سے اب اسلامی مواد خارج کےا جا رہا ہے، جس کا تعلق مسلمانوں کو جہاد سے مانوس کرنے سے روکنا ہے۔ اس طرح قومی زبان اورعربی تدریس کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں تعلیمی اداروں میں ان زبانوں کی تدریس کا سلسلہ ختم ہوتا جا رہا ہے اوریہ سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے۔ڈاکٹر فرید پراچہ کے مطابق اگر مسلمان ممالک کے حکمران اورسیاست دان حالات کا ادراک کرتے اور باہمی اختلافات چھوڑ کر مناسب اقدامات کرتے تو حالات کچھ اور ہوتے۔پرنسپل پروفےسر رشید انگوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ منصورہ کالج قومی تعلیمی تحریک میں وہی کردارادا کر رہا ہے، جو کردار تحریک پاکستان میں علی گڑھ کالج و یونیورسٹی نے ادا کیا تھا، جبکہ پاکستان ہاسٹل منصورہ ڈگری کالج کے چےئرمےن پروفےسر محمد اقبال باقر نے پاکستان ہاسٹل کی سالانہ رپورٹ پےش کرتے ہوئے بتاےا کہ اس ہاسٹل کے طلباءہم نصابی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لےنے کے ساتھ امتحانات میں بہتر نتائج دےتے ہےں۔ انہوں نے بتا یا کہ پاکستان ہاسٹل کی طرف سے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طالب علم کے لئے سوزوکی کار اور اےک ہزار سے زائد نمبر لےنے والے طالب علموں کے لئے موٹر سائیکل اور نقد انعامات رکھے گئے ہےں۔پاکستان ہاسٹل کا تعارف کرواتے ہوئے پروفےسر اقبال باقر نے بتایا کہ اس ہاسٹل میں ملک کے ہر گوشے سے آنے والے طلباءقیام پذیر ہےں۔ اس طرح پاکستان ہاسٹل اےک منی پاکستان کا نقشہ پےش کرتا ہے ۔اس وقت پنجاب کے 80،خےبر پختونخوا کے 6،سندھ کے 4، بلوچستان 45 اور آزاد جموں وکشمیر وگلگت بلتستان کے 44طلباءاس ہاسٹل میں قومی یکجہتی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کر رہے ہےں اوران کی مصروفیات کو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر ہاسٹل میں مقیم طلباءنے اپنے اپنے علاقے کا تعارف بھی کروایا اور ہاسٹل کے اچھے انتظامات پر ہاسٹل سپرنٹنڈنٹ پروفےسر اظہر منظورالمانی اور وارڈن پروفےسر شجاع الرحمن پاشا کی کارکردگی کی تعریف بھی کی۔ ہاسٹل کے سابق طالب علم جواد صیاد عباسی نے ہاسٹل میں اپنے قیام کے زمانے کو زندگی کا بہترین حصہ قرار دیا اورکہا کہ اس نے مےری زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے اورآج مےں اےک کامیاب مقرر، معروف صحافی اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کا ہر دِل عزیز طالب علم ہوں، اس کی وجہ مےری پاکستان ہاسٹل میں ہونے والی تربیت ہے۔ پروفےسر مہر سعید اختر نے طلباءکو پروفیسر محمد سلیم کی زندگی کے اہم واقعات سنا کر مطالعہ کا شوق پےدا کرنے کی تلقین کی۔انہوں نے ڈاکٹر فرید پراچہ کی طالب علمی کے زمانے کی یادوں کو بھی تازہ کیا اوراس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ منصورہ کالج میں بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا بھی انتظام کیا جا رہا ہے۔سید مودودیؒ انسٹیٹیوٹ کے ڈائرےکٹر ڈاکٹر سید شبیر احمد منصوری نے طلباءکو تعلیم حاصل کرنے کی اہمیت سے روشنا س کراےا اورکہا کہ عالم اورجاہل برابر نہیں ہوتے اورانسان پر علم کا حاصل کرنا مہد سے لحد تک فرض ہے، اس لئے آپ خوش قسمت ہےں کہ آپ نہ صرف تعلیم حاصل کر رہے ہےں، بلکہ اےک اےسے ادارے میں تعلیم حاصل کر رہے ہےں، جو اعلیٰ روایات کا امےن ہے۔اس طرح منصورہ ڈگری کالج کی یہ تقریب، الوداعی تقریب سے بڑھ کر قومی سوچ اورملی جذبات کے اظہار کی تقریب بن گئی ۔سوال یہ پےدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری قوم اورحکمران اس بات پر توجہ دےں گے جس کی طرف ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے اشارہ کیا ہے۔

مزید : کالم