اخوت کا سفر، اب ایک نئی منزل، یونیورسٹی!

اخوت کا سفر، اب ایک نئی منزل، یونیورسٹی!
اخوت کا سفر، اب ایک نئی منزل، یونیورسٹی!

  

  لاہور پاکستان کا دل اور زندہ دلوں کا شہر ہے۔سیاست بھی یہیں ہوتی اور پروان چڑھتی ہے جو یہاں کامیاب ہوا، اسے ملک میں پذیرائی مل جاتی ہے۔اسی حوالے سے یہاں تقریبات بھی بہت ہوتی ہیں۔پیشہ صحافت سے وابستگی کے حوالے سے متعدد تقاریب میں مدعو بھی کیا جاتا ہے۔عرصہ ہوا،مزاج میں تبدیلی آ چکی اور شرکت میں بڑی حد تک کمی کردی ہوئی ہے۔دوستوں کا شکوہ سر آنکھوں پر ہوتا ہے، لیکن ایسی تقریب جو رات گئے تک جاری رہے۔اس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ جلد سونے کی عادت ہے کہ صبح کو اٹھنا بھی جلدی ہی ہوتا ہے۔اخوت کا دعوت نامہ موصول ہوا تو معلوم ہوا کہ منگل 15اپریل کو فنڈ ریزنگ والا سالانہ عشائیہ ہے۔دل نے راہ دکھائی اور فیصلہ کیا کہ اس میں شرکت تو باعث ثواب و برکت ہوگی کہ اخوت کا تو نام ہی اب محبت اور خلوص کی نشانی بن گیا ہوا ہے۔ یوں بھی یقین تھا کہ اس میں شرکت سے بعض دوستوں سے ملاقات بھی ہوگی کہ اخوت ہی کا سالانہ عشائیہ تقریب بہر ملاقات بن جائے گا اس لئے جانے کا پکا عزم کر لیا۔دفتر سے کام نمٹا کربراہ راست گورنر ہاﺅس پہنچے، داخلے کے تقاضے پورے کرکے جب سبزہ زار کی طرف آئے تو بہت خوبصورتی سے سجائے گئے پنڈال میں حاضرین کی بھاری تعداد موجود تھے، اندر جاتے ہی احساس ہوگیا کہ یہ تو غیر معمولی سی بات ہے کہ کافی زیادہ حاصرین کے ہوتے ہوئے کوئی شور ہنگامہ یا ہزل بزل نہیں تھی، مہمان تحمل سے صوفوں اور اس کے بعد میزوں پر بیٹھے آپس میں تبادلہ خیال کررہے تھے، پہلا ہی تاثر بہت مثبت تھا اور پاکیزگی کا احساس تھا۔یوں بھی حاضرین اجلے اجلے سے تھے۔ابتدائی تاثر یقینا وہی تھا، جسے محترم مجیب الرحمن شامی نے بعدازاں اپنی تقریر کے دوران اپنے مخصوص انداز میں بیان کیا کہ وہ بھی بڑی بات کہنے کے لئے چھوٹے جملوں کے ماہر ہیں۔بہرحال سبزہ زار پر سجائے اس پنڈال میں داخل ہوئے اور شروع ہی میں تشریف فرما متعدد ہستیوں سے علیک سلیک کرتے آخر کار وہ میز مل ہی گئی جس پر برادرم رﺅف طاہر اور ریاض چودھری بیٹھے تھے اور پھر رﺅف طاہر کی عادت نے جلد ہی اسے ہم ذوق قسم کے صحافی حضرات سے بھر دیا اورپھر پُر لطف گفتگو شروع ہوگئی، کافی عرصہ بعد ہنسنے ہنسانے اور مسائل کو ہلکے پھلکے انداز میں بیان کرنے اور سننے کا موقع ملا، دل کو طمانیت ہوئی۔ذکر تو بہرحال اخوت اور اخوت ہی کے اس عشایئے کا مقصود ہے کہ اخوت نے تو متاثر کیا ہی تھا اس ماحول نے بھی اپنا رنگ جما لیا، کہتے ہیں نیت صاف اور عزم پختہ ہو تو منزل مل جاتی اور راستے آسان ہو جاتے ہیں۔کچھ ایسی ہی صورت حال اخوت کے روح رواں ڈاکٹر امجد ثاقب کے ساتھ پیش آئی۔انہوں نے خلوص سے جو کام دس ہزار روپے سے شروع کیا۔آج وہ اربوں تک پہنچ گیا اور صرف ایک فرد کو روزگار کا موقع فراہم کرنے والا ادارہ اب یہ خدمت سینکڑوں تک بڑھا چکا ہے۔ڈاکٹر امجد ثاقب کو ناز ہے کہ یہ مٹی جہاں ذرا بھی نمی ہو بڑی زرخیز ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اخوت کی طرف سے مہیا کئے جانے والے قرضوں کی واپسی کی شرح سوفیصد ہے، یہ ایک ریکارڈ ہے، اللہ نظر بد سے بچائے۔ڈاکٹر ثاقب نے تو یہ بتا کر حیرت دوچند کر دی کہ جو لوگ اخوت سے مستفید ہو کر خود کفیل ہوئے۔وہ خود اس قابل ہوگئے کہ خدمت خلق میں حصہ بٹا سکیں، اس سال جو رقوم ادارہ اخوت کو دی گئی ہیں ان میں ساڑھے پانچ کروڑ روپے تو ان حضرات کی طرف سے ملے ہیں، یہ بہت ہی حوصلہ افزا اور ریکارڈ ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مایوس لوگ اور اغیار پاکستان کے حوالے سے جو کچھ بھی بتاتے ہیں۔وہ الزام ہی ہوتا ہے ، ورنہ یہاں محنت کرنے والے دیانت دار حضرات کی کمی نہیں ہے۔ضرورت صرف طریق کار اور خود کو درست کرنے کی ہے کہ لوگ خود ہی محنت و عظمت کا اعتراف کرنے لگیں اور دل جمعی سے کام کرنا شروع کردیں۔یہ میلہ جس مقصد کے لئے سجایا گیا وہ بھی خوب اور خوب پورا ہوا کہ وسیم اکرم کے دستخطوں والا ون ڈے کرکٹ کا سفید بال اور ایشین بریڈ مین ظہیر عباس کے علاوہ یادگار چھکے والے جاوید میاں داد کے دستخطی بلے کی نیلامی ہی نے پچاسی لاکھ روپے دے دیئے، جبکہ خاموش مخیر حضرات کی تو تعداد بھی نہ بتائی گئی، بہرحال بلے اور بال کی نیلامی بھی دلچسپ مرحلہ ثابت ہوئی۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہور کے متمول تاجر محترم ارشد سعید اخوت کے کارخیر میں کثیر رقم سے حصہ لینے کا پختہ عزم کرکے آئے ہوئے تھے اس لئے انہوں نے آخری بولی تک جا کر بال اور بیٹ 85 لاکھ روپے کے عوض لے لئے اور مزید دس لاکھ اخوت کے تعلیمی پروگرام میں دینے کا اعلان کردیا۔یہ ایک کروڑ سے پانچ لاکھ روپے کم رہ گئے، تاہم ہمیں یقین ہے کہ یہ صاحب باقی پانچ لاکھ بھی پوری رقم کی ادائیگی کے وقت دے دیں گے۔

اخوت کا پروگرام پھلتا پھولتا اور بڑھتا چلا جا رہا ہے۔اس کے ذریعے ایسے ایسے حضرات اپنی روزی خود کمانے لگے ہیں جو قرضوں کے تلے دب چکے تھے۔اخوت نے تو لوگوں کو سود خوروں کے چنگل سے بھی چھڑایا اور شہریوں کو سر پر چھت کی تعمیر میں بھی تعاون کیا ہے۔اخوت سے مستفید ایک خاتون ساجدہ نے کسی جھجک اور خوف کے بغیر مائیک پر آکر اپنی روائداد سنائی تو حاضرین دم بخود رہ گئے اور کئی آنکھیں نم ہو گئیں کہ اس خاتون نے ادارہ اخوت کے تعاون سے جذبہ تعمیر سے کام لیا اور آج خود کفیل ہے مسائل سے چھٹکارا پا کر محلے کی بچیوں کو سلائی کڑھائی کی تعلیم بھی دے رہی ہے۔کارروائی کو طوالت سے بہرحال بچانے کی ممکنہ کوشش کی گئی جس میں کمپیئر نور الحسن نے بھی حصہ ڈالا اور کم مقررین کی کمی خود پوری کر دی اور طویل سے طویل گفتگو کرتے رہے، بہرحال ان کی محنت سے بیٹ اور بال تو نیلام ہو ہی گئے، اسی کارروائی کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ ڈاکٹر امجد ثاقب اب تعلیم کے میدان میں کار ہائے نمایاں انجام دینے کے لئے سربکف ہو گئے ہیں اور انہوں نے اخوت یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کر لیا ہے۔اجتماع سے ہی کالج کے لئے پچیس تیس لاکھ تو جمع ہو گئے تھے۔ڈاکٹر امجد ثاقب نے مختصراً ادارہ اخوت کا تعارف کرایا اور حاضرین کو اغراض و مقاصد سے بھی آگاہ کیا۔روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر جذباتی ہوگئے تھے۔ بقول خود ان پر ساجدہ بیگم کی روئیداد کا اثر ہوا، محترم مجیب الرحمن شامی نے تو فرمان نبوی اور اسوئہ حسنہ کا سہارا لیا اور حاضرین سے کہا جس کو اللہ نے دیا اسے یہ سب اللہ کو لوٹانا بھی ہے، اس لئے کوئی شخص خود کھاتا ہے تو اپنے ساتھ کسی بھوکے کو بھی شامل کرلے، وہ یہ بھی کہتے چلے گئے کہ یہاں لوگوں کو چھت بھی میسر نہیں ہے۔اگر مخےر حضرات جو بڑے بڑے گھر بناتے اور بڑے بڑے کمروں میں رہنا پسند کرتے ہیں کسی آدھ مرلے والے شہری کے گھر کی چھت بنوا دیں تو وہ بھی کارخیر میں شامل ہو سکتے ہیں، شامی صاحب کچھ زیادہ ہی متاثر اور جذباتی تھے اور صاحب حیثیت حضرات کو یاد دلا رہے تھے کہ ان پر فلاح انسانیت کے فرائض بھی عائد ہوتے ہیں، بہرحال حالات حاضرہ اور موجودہ نظام میں یہ تجویز اور نصیحت مفید اور معاشرے کی بہبود کے لئے ہے اور جب تک معاشرتی اور حکومتی نظام مدنی اور مکی حکومت کی طرز کے مطابق نہیں ڈھل جاتا۔یہ مناسب اور اخوت جیسے ادارے قابل قدر ہیں۔گورنر پنجاب چودھری محمد سروربھی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جن کے تعاون سے یہ محفل سجی، انہوں نے بھی صاحب حیثیت لوگوںسے تعاون کی اپیل کی اور فخر سے بتایا کہ دنیا میں کہیں بھی انسانیت پر آفت آئے نہ صرف پاکستان کے شہری، بلکہ پاکستان نژاد غیر ملکی حضرات بھی رفاعی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں،اخوت سے تعاون اپنی موجودہ اور آنے والی نسل کے لئے ہے۔

مزید : کالم