بلا سود قرضے : ” اخوت“ کی روشن مثال

بلا سود قرضے : ” اخوت“ کی روشن مثال

گورنر پنجاب چودھر ی محمد سرور نے کہا ہے کہ تنظیم ”اخوت “نے بلاسود قرضے فراہم کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی تنظیم کا درجہ حاصل کرکے ثابت کردیا ہے کہ پاکستانی دنیا میں سب سے زیادہ عطیات دینے والی قوم ہے۔قرض حسنہ حاصل کرنے والے لاکھوں خاندانوں کی جانب سے قرضوں کی سو فیصد واپسی پر پاکستانی کی حیثیت سے انہیں فخر ہے۔گورنر چودھری محمد سرور گورنر ہاﺅس میں اخوت کے سالانہ ڈنر میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم دنیا میں سب سے زیادہ زکوٰة دینے والی قوم ہیں۔کشمیر ، فلسطین، ایران ، عراق اور بوسنیا سمیت دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی زلزلہ ، سیلاب یا دوسری قدرتی آفات آئیں پاکستانیوں نے بڑھ چڑھ کر ان کے ا مدادی کام میں حصہ لیا۔ ”اخوت“ سے قرض حسنہ لینے والے خاندانوں کا اپنے پاﺅں پر کھڑے ہونے کے بعد اخوت کو ساڑھے پانچ کروڑ روپے عطیہ دینا اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ اس ادارے نے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے والوں کو معاشرے میں باعزت مقام دلایا ہے، اور لینے والے آج دینے والے بن چکے ہیں۔اس موقعہ پر اخوت کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ اخوت نے لوگوں کو یہ احساس بخشا ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔یہ مواخات ہی کا معجزہ ہے کہ چند ہزار روپے سے شروع ہونے والا قرض آج آٹھ ارب روپے تک جا پہنچا ہے اور اس سے پانچ لاکھ گھرانے مستفید ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غربت اور افلاس کا سبب غربت نہیں بلکہ ہم ہیں جو اپنے حصے کی خوشیاں دوسروں کو بانٹنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔انہوں نے بتایا کہ اخوت نے قرض حسنہ کے ساتھ ساتھ اخوت ہیلتھ سینٹر، اخوت خواجہ سرا بہبودی پروگرام اور اخوت یونیورسٹی بھی قائم کی ہے، جو دنیا کی پہلی یونیورسٹی ہوگی جہاں تعلیم پہلے اور فیس بعد میں وصول کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ غربت بھیک سے نہیں ایثار سے ختم ہوگی۔تنظیم” اخوت “ کی بلا سود قرضے دینے والی دنیا کی سب سے بڑی تنظیم کی حیثیت سے کامیابی پاکستانی قوم کے سامنے ایک روشن مثال ہے ۔ پانچ لاکھ سے زائد افراد کے اپنے چھوٹے موٹے کاروبار شروع کرنے یا کاروبار میں اعانت کے لئے دس سے بیس ہزار روپے تک کے بلا سود چھوٹے قرضے جاری کرنے اور پھر ان تمام قرضوں کی سو فیصد تک واپسی کی حقیقت ہمارے معاشرے کے ایسے طبقات کے منہ پر طمانچہ ہے جن کے افراد کروڑوں اور اربوں روپے کے قرض لے کر معاف کرالیتے ہیں یا دوسرے طریقوں سے انہیں ہضم کرلینے کا انتظام کرتے ہیں۔اخوت کے تجربہ سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ کرپشن ہمارے اوپر کے طبقات ہی کا چلن ہے ۔اخوت میں ڈاکٹر امجد ثاقب اور ان کے وہ اہل دردساتھی بھی لائق صد تحسین ہیں جنہوں نے ا س کام کو آگے بڑھانے اور زمانے کے لئے ایک مثال بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ گورنر پنجاب نے بجا طور پر کہا کہ پاکستانی دنیا میں سب سے زیادہ عطیہ دینے والی قوم ہے۔لیکن اگریہ بات اس طرح کہی جائے کہ اپنی آمدنی کے تناسب سے سب سے زیادہ عطیات دینے والی قوم ہے تو یہ زیادہ درست ہوگا ، ورنہ امریکہ جیسے ملک میں بل گیٹس جیسا ایک ایک شخص کئی کئی ارب ڈالر کے عطیات دے دیتا ہے اور ایسے چند افراد ہی کے عطیات ہماری پوری قوم کے عطیات سے بڑھ سکتے ہیں۔اخوت کی طرف سے دئیے گئے چھوٹے قرضوں کی سو فیصد واپسی پر فخر کرنا دراصل مشکلات میں گھرے ہوئے غریب لوگوں کی دیانت اور احساس ذمہ داری پر فخر ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہماری قوم میں موجود ایسے ہی لوگ قابل فخر لوگ ہیں ، جو رزق حلال کمانے اور اپنے بچوں کی روٹی اور تعلیم کا انتظام کرنے کے لئے سرتوڑ کوشش کرتے ہیں لیکن ملازمت نہ ملنے اور کاروبار اور ضروری رہنمائی اور سرمایہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے اکثر مایوسی اور حسرت و یاس کے سوا ان کے حصے میں کچھ نہیں آتا۔”اخوت“ کی طرف سے ایسے لوگوں کو بلاسود قرض کے علاوہ ضروری تربیت اور رہنمائی بھی فراہم کی جاتی ہے۔مختلف علاقوں میں عوام کی تنظیم سازی کرکے لوگوں کو امداد باہمی کی بنیادوں پر آگے بڑھنے کا سبق بھی دیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں پاکستانی مسلمان جس بڑے پیمانے پر زکوٰة دیتے اور خیرات وصدقات کا انتظام کرتے ہیں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔لیکن عدیم الفرصت مخیر حضرات جو ضرورت مندوں، محتاجوں ،بیوگان اور بیمار مفلسوں کی تلاش اور تحقیق کے لئے وقت نہیں نکال سکتے ان کی ایسی رقوم کا بڑا حصہ ہمارے ہاںغیر مستحق گداگروں، کرپٹ فلاحی اداروں کے پاس چلا جاتا ہے۔ایسے لوگوں کی طرف سے پرکشش انداز میں دکھاوے کے کام مخیر حضرات کے سامنے لاکر ان سے بڑی بڑی رقوم بٹور لی جاتی ہیں ۔ ان اداروں میں بہت سے غیر رجسٹرڈ او ر بہت سے ایسے ہوتے ہیں جن کا کوئی وجود ہی نہیں۔بہت سے دوسرے ایسے ادارے موجود ہیں جن کے کام میں ٹرانسپیرنسی اور جن کی انتظامیہ میں کام کرنے اور اداروں کو کامیاب بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔یا جن کی اوپر والی انتظامیہ میں ایسی معتبر اور بے مثل شخصیات موجود ہیں جنہوں نے خود اپنی جائیداد اور اپنے وسائل کا بڑا حصہ ان تنظیموں اور اداروں کے مقاصد کے لئے وقف کردیا ، جس وجہ سے دوسرے لوگ بھی بلا جھجک اس کام میں ہاتھ بٹانے کے لئے ان سے تعاون کے لئے ازخود آگے آجاتے ہیں۔اگر سماجی اور فلاحی کاموں کے لئے تنظیموں ، ٹرسٹوں اور اداروں کی رجسٹریشن ضروری قرار دینے کے بعد صرف ان کے منظور شدہ بنک اکاﺅنٹس ہی میں عطیات کی رقم جمع کرانے کی شرط عائد کردی جائے، ان اداروں کی ویب سائٹس پر ان کی آمدنی اور اخراجات کی تفصیلات موجود رہیں تو اس طرح عطیات دینے والوں کے لئے اداروں کے کام کی نوعیت اور خرچ کی جانے والی رقوم کے مصرف اور درست استعمال کا معاملہ واضح رہے گا اور ان اداروں پر باآسانی اعتماد کیا جاسکے گا۔گداگری کے خاتمے کے لئے ضروری قوانین کا نفاذ اور ان پر سختی سے عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔آج لاہور جیسے شہروں کے ہر چوراہے پر کھڑے بہت سے گداگر ٹریفک کا اشارہ بند ہونے پر گاڑیوں پر جھپٹتے ہیں۔ان میں اپنی عمر اور قابل رشک صحت کے لحاظ سے اسی فیصد گداگر واضح طور پر کسی خیرات کے مستحق نہیں ۔لیکن اپنی معاشرتی ذمہ داری کا احساس اور اللہ کا خوف کرنے کے بجائے ، چوراہوں میں ان گداگروں کو خیرات دینے والے امراءکی اکثریت ان سے جان چھڑانے کے لئے، یا فیشن کے طور پر یا دوسروں کو متاثر کرنے کے لئے خیرات دیتی ہے۔ایسا ہر گداگر روزانہ ایک سے دو ہزار روپے تک کمائی کرلیتا ہے۔معذور اور اپاہج گداگروں کی کمائی اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔یہ پیشہ ور بھکاری مستحق ،حیا رکھنے والے، اور دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے والوں کے حق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں ،دوسری طرف مصائب میں گھرے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتے ہوتے نوبت خود کشی تک پہنچ جاتی ہے۔ملک میں محتاج گھروں کا قیام حکومت کی طرف سے زکوٰة جمع کئے جانے کے ساتھ ہی عمل میں آجانا چاہئیے تھا ، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔مخیر حضرات نے جہاں سکول اور ہسپتال قائم کرنے پر توجہ دی، وہاں محتاج گھروں کے قیام پر بہت کم توجہ دی گئی۔بوڑھوں کے لئے سماجی سینٹرز قائم کرنے کے حکومتی منصوبوں سے بھی کسی پر عمل نہیں ہوسکا۔دور دراز کے دیہی علاقے ،جہاں بیماری اور غربت اپنے عروج پر ہے، شہروں کے امراءکی توجہ سے باالعموم محروم رہے ۔دیہی اور شہری علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جو باالخصوص بچوں کی بیماریوں اور ہلاکتوں کا ایک بڑا سبب ہے۔ا یسی حقیقی فعال اور منظم سماجی تنظیموں کی اشد ضرورت ہے جو دور دراز کے دیہی علاقوں کے غریب اور محتاج لوگوں کی ضرورتوں پر توجہ دے سکیں۔حکومت اور پرائیوئٹ دونوں سیکٹرز کے محتاج گھروں کی تعمیر اور تنظیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جن کے قیام کے بعد گداگری پر سختی سے پابندی عائد کی جانی چاہئےے۔چوراہوں میں کھڑے ہٹے کٹے گداگروں کی وجہ سے جرائم میں اضافہ اور تن آسانی اور دھوکے کی کمائی کے رجحان کو فروغ ملتا ہے۔یہ لوگ باہر سے آنے والے لوگوں کی نظروں میں پاکستانی قوم کو گرا نے اور گداگری کا عادی ہونے کا تاثر دینے کا باعث ہیں۔ ”اخوت“ کی مثال اور کامیابی سامنے رکھتے ہوئے دوسرے مخیر حضرات کو بھی بلاسود قرضے دینے کے مزید ادارے قائم کرکے ملک بھر کے محنت کشوں اور رزق حلال کی تگ و دو میں مصروف لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں۔ایسے ادارے بھی ملک میں جگہ جگہ قائم کئے جانے چاہئیں جہاں بیروزگار پڑھے لکھے اور بیروزگار ان پڑھ لوگوں کو روزگار کے سلسلے میں مناسب تربیت اور رہنمائی مل سکے۔ سرکاری سطح پر خود روزگار سکیم کے تحت دئیے جانے والے تمام قرضوں کے لئے ضروری قرار دیا جائے کہ قرضے لینے والے نوجوان ایک خاص تعداد افراد کو بھی اپنے کاروبار میں ملازمت اور روزگار کا وسیلہ فراہم کریں۔پڑھے لکھے نوجوانوں میں امداد باہمی کے ذریعے کاروبار قائم کرنے کی تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔ چھوٹے چھوٹے پراجیکٹ بنا کر ان کو کامیاب بنانے کی تربیت دینے کے ادارے بھی جگہ جگہ قائم کرنے چاہئییں۔

مزید : اداریہ