جمہوری نظام پر آنچ نہیں آ ّنے دینگے ،نواز شریف اور آصف زرداری کی ملاقات میں اتفاق

جمہوری نظام پر آنچ نہیں آ ّنے دینگے ،نواز شریف اور آصف زرداری کی ملاقات میں ...

                                        اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک+ اے این این) وزیراعظم نواز شریف اورپیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین وسابق صدر آصف علی زرداری کے درمیان پہلے وفودکی سطح پراورپھرون آن ون ملاقات میں جمہوریت کے تسلسل کوپاکستان کی ترقی اورخوشحالی کاواحدراستہ قراردیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیاگیا ہے کہ جمہوری نظام پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی ، تمام معاملات باہمی مشاورت سے حل کئے جائیں گے اور وسیع البنیاد سیاسی مفاہمت کیلئے ایسے موثر اقدامات کیے جائیں گے جن سے سیاسی قوتوں کے درمیان قربت میں اضافہ ہوا۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پرویزمشرف کے خلاف غداری کیس میں خصوصی عدالت کو کام کرنے دیا جائے اور عدالتی فیصلہ سب کو تسلیم کرنا ہوگا ،دونوں رہنماو¿ں کا سیاسی مداخلت کے بغیر کراچی میں آپریشن جاری رکھنے سے بھی اتفاق کیا۔ وزیراعظم ہاﺅس کے ایڈیشنل سیکرٹری نے طالبان سے مذاکرات میں اب تک کی پیشرفت و مشکلات کے بارے میں بریفنگ دی ،آصف علی زرداری نے وزیراعظم کویقین دلایا کہ برا وقت آیا تو ان کی جماعت جمہوری قوتوں کے ساتھ کھڑی ہوگی، غیر جمہوریت قوتوں کے آلہ کار نہیں بنیں گے جبکہ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ فوج اور حکومت کے درمیان تناﺅ اتنا سنگین معاملہ نہیں، تحفظ پاکستان بل پر نظر ثانی کی جائے گی، اپوزیشن جماعتوں سے روابط ان کی تجاویز اور رائے لینے کا ٹاسک وفاقی وزیر زاہد حامد کو دے دیا گیا ہے۔ بدھ کو سابق صدر آصف علی زرداری وزیراعظم نواز شریف کی دعوت پر ان سے ملاقات کیلئے خصوصی طیارے میں کراچی سے نور خان ایئربیس چکلالہ پہنچے جہاں سے انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے وزیراعظم ہاﺅس لایا گیا۔ وزیراعظم ہاﺅس پہنچنے پر وزیراعظم نواز شریف نے سابق صدر کا استقبال کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماﺅں کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جن میں وزیراعظم نواز شریف کی معاونت وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی زاہد حامد اور وزیراعظم ہاﺅس کے ایڈیشنل سیکرٹری فواد حسن فواد نے کی جبکہ آصف علی زرداری کی معاونت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ، سینیٹر رضا ربانی اور مشیر خزانہ سندھ سید مراد علی شاہ نے کی۔ ملاقات میں تحفظ پاکستان آرڈیننس، کراچی آپریشن، طالبان کے ساتھ مذاکرات، قومی سلامتی ملک کی مجموعی صورتحال اور حکومت اور فوج کے درمیان تناﺅ سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نواز شریف اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی۔ وزیراعظم نے سابق صدر کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا جس میں دونوں اطراف کے وفود نے بھی شرکت کی۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ ملاقات میں عمومی طورپر ملک کی سیاسی صورتحال اور طالبان سے مذاکراتی عمل پر غور کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم میں صوبوں کو صوبائی خودمختاری دی گئی تھی لیکن کچھ علاقوں بالخصوص سندھ میں کچھ مسائل تھے ان پر بات ہوئی اور سندھ کے ترقیاتی منصوبوں پر بھی بات چیت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات انتہائی خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی جو مثبت اور تعمیری رہی ہے ہم نے حکومت کو تحفظ پاکستان آرڈیننس کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے اس آرڈیننس پر نظر ثانی کی یقین دہانی کرائی ہے اور وفاقی وزیر زاہد حامد کو ہدایت کی ہے کہ وہ قانون سازی کے حوالے سے تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کریں اور ان کی رائے اور تجاویز سے ترامیم لائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی ملاقات اس بات کی عکاس ہے کہ تمام جمہوری قوتوں کو مل کر جمہوری عمل آگے بڑھانا ہوگا اور آئین کی بالا دستی کو قائم اور جمہوری اداروں کو مستحکم کرنا ہوگا۔ حنا ربانی نے کہاکہ پاکستان تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے جب تک جمہوری اداروں اور آئین کی بالا دستی کو مکمل طور پر تسلیم نہ کیا جائے اس وقت تک مختلف قسم کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے بڑے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ہم جمہوری عمل کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں اور پاکستان میں جمہوریت کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ وفاق پاکستان کی بقاءجمہوریت اور آئین کی بالا دستی سے وابستہ ہے۔ تمام جمہوری قوتوں کو مل کر جمہوریت کو مستحکم بنانا ہوگا اگر کبھی برا وقت آیا تو ہم جمہوری قوتوں کے ساتھ کھڑے ہونگے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی طرف سے کوئی مختلف آرا نہیں ہے پیپلز پارٹی اے پی سی میں شامل تھی اور ہم آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہیں لیکن جہاں کوئی جھول یا کمی ہو اس کی نشاندہی بطور اپوزیشن جماعت ہمارا حق ہے ہم یہ نشاندہی کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے این ایف سی ایوارڈ اور سندھ کے منصوبوں پر تفصیل کے ساتھ بات چیت ہوئی جو مثبت رہی ۔ ہم نے اپنے خدشات سامنے رکھے ہیں اور وزیراعظم نے بھی دوستانہ ماحول میں بات چیت کی ہے۔ یوسف رضا گیلانی اور سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹوں کی رہائی سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام امور پر کھل کر بات کی ہے فوج اور حکومت کے درمیان تناﺅ کے معاملے پر بھی بات ہوئی ہے لیکن وزیراعظم نواز شریف اور حکومت سمجھتی ہے کہ یہ کوئی خاص بات نہیں ہے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ معاملہ اتنا سنجیدہ نہیں ہے۔ ملاقات میں چودھری نثار علی خان کی عدم شرکت سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں رضا ربانی نے کہا کہ ملاقات میں وزیراعظم خود موجود تھے وہ مذاکراتی عمل کی بھی خود نگرانی کررہے ہیں ایسے میں کسی وزیر کی ضرورت نہیں رہتی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ پرویز مشرف کے معاملے پر بھی بات ہوئی ہے۔پیپلز پارٹی کا پرویز مشرف کے ٹرائل سے متعلق موقف واضح ہے۔ آئین سے کوئی بالا تر نہیں قانون سب کیلئے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تحفظ پاکستان آرڈیننس کے بارے میں اپنی تجاویز دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر سینٹ میں دینگے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم سے ملاقات کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری نے قومی مسائل پر جمہوری قوتوں کے ساتھ مشاورت کا عمل مسلسل جاری رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم جمہوریت پر کوئی آنچ نہیں آنے دینگے اور غیر جمہوری قوتوں کے آلہ کار نہیں بنیں گے ۔ پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کی منتخب حکومت کو کسی صورت ڈی ریل نہیں ہونے دے گی ہم جمہوریت کیلئے بینظیر بھٹو کی قربانی رائیگاں نہیں جانے دینگے، ہماری جماعت میثاق جمہوریت کے ایک ایک لفظ پر عملدرآمد کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے پانچ سالہ دور میں سخت گیر عدلیہ کا سامنا کیا، ہمارے وزراءاور وزرائے اعظم بھی عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں حتیٰ کے ایک وزیراعظم کو فارغ کیا گیا لیکن ہم نے اس کے باوجود عدالتی فیصلوں کا احترام کیا ہے۔ پرویز مشرف کو بھی عدالتی نظام پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملکی استحکام کیلئے حکومتی فیصلوں اور اقداما ت کی اصولوں کی بنیاد پر حمایت کرینگے۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ غداری کیس میں خصوصی عدالت کو کام کرنے دیا جائے عدالتی فیصلہ سب کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ جمہوریت کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ وسیع البنیاد سیاسی مفاہمت کیلئے ایسے موثر اقدامات کیے جائیں گے جن سے سیاسی قوتوں کے درمیان قربت میں اضافہ ہو۔ تمام معاملات کو باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا۔ ملاقات میں سیاسی مداخلت کے بغیر کراچی میں آپریشن جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے یقین دلایا کہ حکومت صوبائی خودمختاری اور 18ویں ترمیم پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔ سندھ کے مالی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم صوبائی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور مسائل حل کرنے میں پہلے سے بڑھ کر کردار ادا کیا جائے گا۔ ملاقات میں وزیراعظم ہاﺅس کے ایڈیشنل سیکرٹری جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے حکومتی کمیٹی کے رکن بھی ہیں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات سے متعلق اب تک کی پیشرفت اور مشکلات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ ظہرانے کے بعد سیکرٹری قانون بیرسٹر ظفر اللہ کو بھی وزیراعظم ہاﺅس بلایا گیا اور وزیراعظم نے انہیں انسداد دہشت گردی سے متعلق قانون سازی کے معاملے پر ہدایات دیں۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے علی حیدر گیلانی اور شہباز تاثیر کی بازیابی کا معاملہ بھی زیر بحث لایا گیا۔ دریں اثنائسابق صدرآصف زرداری کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں وزیراعظم اورآصف زرداری کی ملاقات کے حوالے سے کہاکہ اس قسم کی ملاقاتوں کا کوئی ایجنڈا نہیں ہوتا تاہم ان سے جو پیغام جاتا ہے وہ اہم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں جب ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ سویلین اور جمہوری حکومت کو کچھ اطراف سے خطرہ ہے، تو اس طرح کے ماحول میں آصف علی زرداری اور وزیراعظم نواز شریف کی ملاقات ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ غیرجمہوری قوتوں کے خلاف سیاسی جماعتیں متحد ہیں۔واضح رہے کہ آصف علی زرداری کی بطورصدرمدت پوری ہونے کے بعدوزیراعظم سے یہ پہلی ملاقات تھی۔

مزید : صفحہ اول