بھارتی انتخابات ....چند دلچسپ خبریں!

بھارتی انتخابات ....چند دلچسپ خبریں!
 بھارتی انتخابات ....چند دلچسپ خبریں!

  

بھارتی انتخابات میں بھی وہی فضا بنی ہوئی ہے جو ہمارے ہاں انتخابی مہم میں نظر آتی ہے۔ دشمنیاں، تلخیاں، مضحکہ خیزیاں اور اپنے ہی لوگوں کی ٹانگیں کھینچنا، ذاتی مفادات کی خاطر، نظریات کو بیچنا اور اپنی پارٹی کا مستقبل تباہ تک کرنے سے باز نہ آنا۔بی جے پی کے نریندر مودی، پارٹی کی طرف سے باقاعدہ وزیر اعظم کے امیدوار ہیں۔ مگر اندر کھاتے پارٹی کے بڑے ان کی راہ میں روڑے اٹکا اور گڑھے کھود رہے ہیں۔ بی جے پی کے سربراہ راج ناتھ سنگھ نے آر ایس ایس کے کہنے پر مودی کو وزیر اعظم کا امیدوار تو بنا دیا ہے۔ مگر وہ اندر کھاتے ملائم سنگھ سے ہاتھ ملا کر یو پی کے شہر لکھنﺅ سے اپنی کامیابی یقینی چاہتے ہیں اس کے بدلے میں انہوں نے یو پی(اتر پردیش) میں بی جے پی کے کمزور امیدواروں کو ٹکٹ دیئے ہیں، تاکہ ملائم سنگھ کی سماج وادی پارٹی کے امیدوار کامیاب ہو سکیں۔بی جے پی کے سربراہ راج ناتھ اور دیگر بڑے، آر ایس ایس کے کہنے پر مودی کو وزیر اعظم کا امیدوار بنانے کے باوصف بھی چاہتے ہیں کہ بی جے پی کو انتخابات میں واضح اکثریت نہ مل سکے، بس پارلیمنٹ کی بڑی پارٹی ہو اور حکومت بنانے کے لئے دوسری پارٹیوں کی حمایت اور اتحاد ضروری ہو، تاکہ نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کی راہ کھوٹی ہو جائے .... ایل کے ایڈوانی، اپنی جگہ خوف زدہ ہیں، وہ ہمیشہ گجرات ہی سے منتخب ہوتے رہے ہیں، مگر اس بار وہ چاہتے تھے کہ راجھستان سے منتخب ہوں گجرات سے وہ اس لئے الیکشن لڑنے سے کترا رہے تھے کہ کہیں ”گجرات کے بادشاہ“ مودی ان کو جان بوجھ کر ہروانہ دیں .... ایل کے ایڈوانی، سشما سوراج اور دیگر کئی بڑے مودی کو وزیر اعظم بنتے نہیں دیکھنا چاہتے، اگر معاملہ بی جے پی کا اپنا ہوتا تو کبھی مودی کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار نہ بنایا جاتا، یہ دراصل آر ایس ایس (راشٹریہ سیوک سنگھ) کا حکم تھا اور اپنی سرپرست اور ماں تنظیم کے حکم کو کس طرح نظر انداز کیا جا سکتا تھا، پھر جو لیڈر اس حکم پر چوں چرا کرتا، اس کی اپنی سیاست اور حیثیت (بلکہ ذات تک) نشانہ بن سکتی تھی ....ایک طرف سماج وادی پارٹی بی جے پی کے سربراہ راج ناتھ کو آسانیاں فراہم کر رہی ہے تو دوسری طرف نریندر مودی کے خلاف گرم بیانیوں کا خوب مظاہرہ کر رہی ہے، حتیٰ کہ مودی مخالفت میں کانگریس اور سونیا گاندھی کے بارے میں بھی نرم الفاظ استعمال کر رہی ہے۔ نریندر مودی کی زبان تو ہے ہی بہت تیکھی، انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ”یو پی کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو ان شیروں کی فطرت نہیں سمجھ سکتے جو ہماری(گجرات) حکومت نے یو پی حکومت کو تحفہ میں دیئے تھے۔“اس بیان پر کڑواہٹ سے تلملاتے ہوئے، سماج وادی پارٹی کے ملائم سنگھ کے صاحبزادے اور یو پی کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے جواب دیا۔”جنگلی جانوروں میں رہنے والے ہی جنگلی جانوروں کا مزاج سمجھ سکتے ہیں۔“ساتھ ہی انہوں نے مودی کو یاد کرایا ہم نے بھی آپ کو لگڑ بگھوں کی بڑی تعداد، جوابی تحفہ کے طور پر بھیجی تھی، آپ ان کا مزاج سمجھیں۔ اس پر مودی کے بلاک سے جواب آیا۔”جس کے پاس جو ہے وہی تو دے گا، گجرات نے شہر بھیجے، اکھلیش کے پاس گیدڑوں کی فوج ہے، جتنے بھی بھیجیں کم نہ ہوں گے۔“بھارتی فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار اور بریک ڈانسر جاوید جعفری عام آدمی پارٹی(آپ) کی طرف سے، لکھنﺅ کی سیٹ سے، بی جے پی کے سربراہ راج ناتھ کے مقابلے میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کی پوزیشن کم زور ہے، مگر ان کے انتخابی جلسوں کی رونق خوب ہے اور ہر جلسے میں لوگ ان سے بریک ڈانس کی فرمائش کرتے ہیں اور پھولوں کی مالاﺅں سے لدے ہونے کے باوجود جاوید جعفری کو مجرا دکھانا پڑتا ہے۔ ایسے میں وہ ڈانسر کم اور کامیڈین زیادہ نظر آتے ہیں۔ لوگ خوب ہنستے ہیں، تالیاں بجاتے ہیں اور اگلے انتخابی جلسے کا پوچھتے ہیں۔ ”نچ کے یار منانے “ میں لگے جاوید جعفری بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ گھنگھرو بھی باندھ لیں تب بھی اس الیکشن میں عوام کا ووٹ ممکن نہیں، پھر بھی رسم نبھاہنے میں لگے ہیں۔رانا چندرسنگھ کے کزن اور بھارت کے سابق وزیر دفاع جسونت سنگھ بی جے پی کے مرکزی راہنما تھے، مگر پارٹی نے انہیں نہ صرف یہ کہ ٹکٹ نہیں دیا بلکہ پارٹی ہی سے نکال دیا کہ انہوں نے آر ایس ایس کے حکم پرچوں چرا کرتے ہوئے مودی کے وزیر اعظم کی امیدواری پر تنقید کی تھی۔ چنانچہ جسونت سنگھ راجستھان سے، اپنی پرانی سیٹ پر آزادانہ الیکشن لڑ رہے ہیں اور (بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق) پیر پگاڑا سید صبغت اللہ شاہ راشدی نے جیسلیمر (راجستھان) اور برما کے درمیان بسنے والے 25لاکھ کے قریب سندھی مسلمانوں کو (کہ جن میں اکثریت پیر صاحب کے مریدوں کی ہے) ہدایت جاری کی ہے کہ ”وہ جسونت سنگھ کی بھرپور حمایت کریں۔“پیر صاحب اور جسونت سنگھ کے درمیان دوستانہ تعلقات ہیں قبل ازیں بھی یہ سندھی مسلمان جسونت سنگھ ہی کو ووٹ دیتے آئے ہیں، ان لوگوں کے مطابق جسونت سنگھ نے بھی ہمیشہ ان کا خیال رکھا ہے .... راکھی ساونت، پاکستانی وینا ملک کی طرح کھلی ڈُھلّی طبیعت کی مالک ہیں، انہوں نے رقاصہ کی حیثیت سے فلم انڈسٹری میں قدم رکھا تھا اب بھارت کی سیاست میں کود پڑی ہیں اور ”عام آدمی پارٹی“ (آپ) کے کجریوال کی طرح نام بنانا چاہتی ہے۔ اس نے اپنی پارٹی بھی بنا لی ہے اور نام ”راشٹریہ عام پارٹی“ رکھا ہے کہ اپنی بنائی پارٹی کی خود ہی (اکیلی) امیدوار بھی بن گئی ہیں۔ عام زندگی میں بھی کبھی اپنے ”اثاثے“ نہیں چھپائے اور کاغذات نامزدگی میں 16کروڑ کی ملکیت ظاہر کر کے لوگوں کو حیران کر دیا۔ راکھی کی انتخابی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہے، مگر وہ ڈرامے خوب کر رہی ہے، خود کو ان پڑھ کہہ کر عوامی حیثیت منوانے کی خاطر، ہر روز نیا بہروپ بھرتی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ”اگر کہیں وہ جیت گئی تو لالو پرشاد یادو بھی ڈرامے بازی میں اس کے سامنے پانی بھرتے نظر آئیں گے۔“بھارت کے گنے چنے سرمایہ داروں میں سے ایک سیاسی طور پر مﺅثر (جو کبھی امیتابھ بچن کے قریبی دوست جانے جاتے تھے۔)امر سنگھ، فتح پور سیکری سے راشٹریہ لوک دل کے امیدوار ہیں، جہاں کہیں کسی بھینس کو دیکھتے ہیں تو اس کے آگے ہاتھ اور آنکھیں بند کر کے کھڑے ہو جاتے ہیں، کار میں سوار ہوں تب بھی نیچے اتر آتے ہیں، بھینس کے پاس جاتے ہیں، اس کے جسم کو سیدھے ہاتھ سے چھوتے ہیں، پھر اس کے سامنے سر جھکا کر ہاتھ جوڑتے اور آنکھیں بند کئے، کئی لمحات کھڑے رہتے ہیں۔ میڈیا نے اس عجیب حرکت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے سنجیدگی سے جواب دیا۔”یو پی میں بھینس کی قدر و قیمت ، انسان سے کہیں زیادہ ہے، یو پی میں رہنا ہے تو بھیا جی کہنا ہے۔“ یہاں بھینس والوں کی حکومت ہے اور بھینسوں کی عزت کرو گے تو اپنی عزت بچاﺅ گے۔“امر سنگھ بھینسوں کے آگے ہاتھ جوڑ کر، درحقیقت یو پی حکومت پر شدید تنقید کر رہے ہیں کہ اس وقت یوپی میں حکومت سماج وادی پارٹی کی ہے اور اس کے سربراہ ملائم سنگھ یادیو اور ان کے بیٹے (وزیر اعلیٰ) اکھلیش سنگھ یادیو، گجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ امر سنگھ اپنی تقاریر میں بھی اکثر کہتے ہیں ”یو پی میں بھینس کی اہمیت ملکہ الزبتھ سے کم نہیں۔“پاکستان میں موروثی سیاست پر خوب تنقید ہوتی ہے، جبکہ بھارت میں بھی یہ چلن عام ہے، بھارتی صدر پرناب مکھرجی کے بیٹے ابھیجیت مکھرجی، سونیا گاندھی(نہرو خاندان) کے سپوت راہول گاندھی تو کانگریس کی طرف سے باقاعدہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں۔ ابھیجیت مکھرجی بنگال کے جنگی پورہ سے اور راہول گاندھی اترپردیش کے امیٹھی سے اور درون گاندھی(سنجے گاندھی کے بیٹے) پیلی بھیت سے امیدوار ہیں۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم کے صاحبزادے کارتی، تامل ناڈو شیوگنگا سیٹ سے، بی جے پی کے مرکزی رہنما یشونت سنگھ کا بیٹا جھاڑ کھنڈ کی ہزاری باغ سیٹ سے، اسی طرح مادھوراﺅ سندھیا کے بیٹے ادتیہ سندھیا، مدھیہ پردیش سے، راجیش پائلٹ کا بیٹا سچن پائلٹ، راجستھان کی اجمیر سیٹ سے، جتندر پرشاد کا بیٹا جتن پرشاد اتر پردیش کی دھورہرا سیٹ سے، یوپی کے سابق منسٹر مرلی ڈیوگوڑا کا بیٹا ملند، شیلاڈکشٹ(سابق وزیر اعلیٰ دہلی) کا بیٹا سندیپ، بھویندر سنگھ ہڈا کا بیٹا ویپندر، ترون گگوئی کا بیٹا گورو، رمن سنگھ کا بیٹا ابھیشک ، وسندھرا رائے کا بیٹا وسنیت سندھیا، سنیل دت کی بیٹی پریہ دت پرمود مہاجن کی بیٹی پونم، کلیان سنگھ(سابق وزیر اعلیٰ یو پی) کا بیٹا راجیر سنگھ، صاحب سنگھ کا بیٹا پردیش شرما، بھارتی لوک سبھا کا الیکشن لڑ رہے ہیں (جبکہ ملائم سنگھ نے پہلے ہی یو پی (اترپردیش) کی حکومت اپنے بیٹے (وزیر اعلیٰ) اکھلیش سنگھ کے حوالے کر چھوڑی ہے۔

مزید : کالم