انرومنٹ مہم کے تحت 31مئی تک سکولوں میں بچوں کے سو فیصد داخلے کو یقینی بنائیں گے،شہباز شریف

انرومنٹ مہم کے تحت 31مئی تک سکولوں میں بچوں کے سو فیصد داخلے کو یقینی بنائیں ...

                                       لاہور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ انرولمنٹ مہم کے تحت 31 مئی 2016 تک پنجاب کے سکولوں میں بچوں کے سوفیصد داخلے کو یقینی بنائیں گے۔ یہ ایک بڑا چیلنج ہے جس سے عہدہ برا ہونے کیلئے سب کو میدان عمل میں آنا ہوگا۔ میٹرو جیسا عظیم شاہکار 11 ماہ کی مدت میں مکمل کیا جا سکتا ہے تو سو فیصد انرولمنٹ کا ہدف بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ملک سے جہالت کے اندھیرے دور کرنے کیلئے تعلیمی ایمرجنسی لگا کر آگے بڑھنا ہوگا۔ منتخب نمائندے اپنے اپنے اضلاع میں انرولمنٹ مہم کو کامیاب بنانے، سکول جانے کی عمر کے بچوں کو سکولوں میں لانے، ڈراپ آﺅٹ کی شرح کو کم کرنے میں اپنا موثر کردار ادا کریں۔ سوفیصد داخلے کے ہدف کو حاصل کرنے والے اضلاع کے اراکین اسمبلی کی بھرپور ستائش کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں ایوان وزیراعلیٰ میں سٹوڈنٹس انرولمنٹ مہم 2014 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان، بین الاقوامی کمپنی مکینزے (Mckinsey) پاکستان کے کنٹری ہیڈ سلمان احمد،پنجاب کابینہ کے اراکین،ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، سیکرٹری تعلیم، وائس چیئرمین پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ، ماہرین تعلیم، اساتذہ، والدین اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچے اور بچیوں کی داخلہ مہم کے حوالے سے شاندار تقریب میں شرکت میرے لئے باعث مسرت ہے۔ ملک کو غربت اور بیروزگاری کے مسائل سے نکالنے، ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے، خودکفالت کی منزل پانے اور اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کا واحد راستہ تعلیم ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں تعلیم کے شعبے کو نظرانداز کیا گیا۔ تعلیم کے میدان میں وقت کا ضیاع کرکے ملک و قوم کا نقصان کیا گیا۔ وسائل ضائع کئے گئے۔ اس کی تلافی کرنے کیلئے ہمیں شب و روز محنت کرنا ہوگی اور تعلیمی اہداف کے حصول کیلئے دفاتر میں بیٹھنے کی بجائے میدان عمل میں آنا ہوگا۔ تعلیم ہی کامیابی اور خوشحالی کا راستہ ہے۔ پاکستان کو بین الاقوامی برادری میں باوقار مقام دلانے کیلئے تعلیم کی کرنیں ملک کے کونے کونے میں پھیلانا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی، کرپشن، اقربا پروری اور دیگر کئی ایک مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان تمام مسائل کا حل فروغ تعلیم میں ہی مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ تعلیم کی آج اگر ابتر صورتحال ہے تو اس کی بڑی وجہ لوٹ مار، کرپشن، عزم کی کمی، وسائل کا غلط استعمال اور احتساب کے موثر نظام کا نہ ہونا ہے۔ ہمیں اجتماعی جدوجہداور کاوشوں سے اس فرسودہ نظام کو بدلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تعلیم کے میدان میں ابھی تک بہت پیچھے ہے اور جنوبی ایشیا کے کئی ممالک بھی ہم سے آگے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں انقلاب برپا کئے بغیر منزل کا حصول ممکن نہیں۔ انہو ںنے کہا کہ پاکستان کی 65 فیصد آبادی دیہات میں آباد ہے جبکہ 35 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ ترقی کی منزل پانے کیلئے دیہی آبادی کو بھی زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے صوبے میں فروغ تعلیم کیلئے ٹھوس حکمت عملی اپنائی ہے۔ سکولوں میں عدم دستیاب سہولتوں کی فراہمی پر اربوں روپے صرف کئے جا رہے ہیں۔ اس سال پنجاب کے تمام بچیوں کے پرائمری سکولوں میں جبکہ جنوبی پنجاب کے تمام پرائمری سکولوں میں عدم دستیاب تعلیمی سہولیات کی فراہمی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ سکولوں میں طلبہ کی تعداد کے تناسب سے اساتذہ کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے حقیقت پسندانہ پالیسی اپنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ لائق احترام ہیں اور ان کے جائز مسائل اور مشکلات کا حل ریاست کی ذمہ داری ہے تاہم اساتذہ کو دور دراز علاقوں کے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے دیہی سکولو ں پر شہری سکولوں کو ترجیح نہیں دینی چاہیئے بلکہ دیہی سکولوں میں رہ کر ہی قوم کے نونہالوں کو تعلیم دینی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم پر اشرافیہ کی طرح عام پاکستانی کا بھی پورا حق ہے اور حکومت پنجاب انہیں یہ حق دے رہی ہے۔ معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج خطرناک ہے اور ہمیں اس معاشرتی تفاوت کو ختم کرنا ہے۔ دانش سکول، پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ، ہونہار طلبا و طالبات کی حوصلہ افزائی اور حکومت پنجاب کے دیگر فلاحی پروگرام امیر اور غریب کے درمیان خلیج کم کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں صرف انہی قوموں نے ترقی کی ہے جنہوں نے تعلیم کو ترجیح دی، محنت، امانت اور دیانت کو اپنا شعار بنایا۔ چین کی مثال ہمارے سامنے ہے جس نے ہم سے دو سال بعد آزادی حاصل کی لیکن اپنی محنت کے بل بوتے پر دنیا کی ایک بڑی طاقت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برادر اسلامی ملک ترکی کے عوام نے مظفرگڑھ میں جدید سہولتوں سے آراستہ بہترین ہسپتال بنا کر دیا ہے جبکہ دوسری جانب لودھراں میں بنائے گئے ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں رکھی گئی زنگ آلود مشینری دیکھ کر دلی دکھ ہوا۔اس کے ذمہ داروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 68 سالو ںکے دوران تعلیم اور صحت کے اداروں پر اربوں روپے صرف کئے گئے ہیں لیکن اس کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ اداروں کی ابتر صورتحال کرپٹ مافیا کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے اور کرپشن نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ہمیں کرپشن کے اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے امتحانی نظام میں اصلاحات کی ہیں۔ نقل اور بوٹی مافیا کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ تاہم امتحانی نظام اور بورڈز کے معاملات کو سو فیصد کمپیوٹرائزڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم اور سیکرٹری تعلیم اس ضمن میں اقدامات کریں۔صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب خوش قسمت صوبہ ہے جس کا میر کارواں ایسی شخصیت ہے جو فروغ تعلیم کا عزم اور جذبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2016 تک پنجاب کے تمام سکولوں میں عدم دستیاب سکولوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کے تعلیمی پروگراموں سے نہ صرف پنجاب بلکہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت دیگر صوبوں کے طلبا و طالبات بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکول کونسلو ںکو دوبارہ متحرک اور فعال کیا جائے گا۔ سیکرٹری سکولز عبدالجبار شاہین نے سکول ایجوکیشن روڈ میپ، انرولمنٹ مہم، اساتذہ کی بھرتی کے عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ سکول انرولمنٹ مہم 2014 کے تحت صوبہ بھر میں 40 لاکھ بچوں کو داخلہ دلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے بچوں کے داخلہ فارم پر دستخط کرکے سٹوڈنٹس انرولمنٹ مہم 2014 کا باقاعدہ افتتاح کیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شرےف نے کہا ہے کہ محکمہ صحت کی کارکردگی بہتر بنانے اورعوام کو معےاری اورجدےد طبی سہولےات کی فراہمی کے لےے پنجاب ہےلتھ رےفارمز روڈ مےپ مرتب کرنے کا فےصلہ کےاگےا ہے ۔پنجاب سکولز رےفارمز روڈ مےپ کی طر ز پر پنجاب ہےلتھ رےفارمز روڈ مےپ پر عملدر آمد کےا جائے گا۔ےہ بات انہوں نے ےہاں اےک اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔مشےر برائے صحت خواجہ سلمان رفےق،اےم پی اے عائشہ غوث پاشا،چےف سےکرٹری،چےئرمےن منصوبہ بندی و ترقےات،اےڈےشنل چےف سےکرٹری ،متعلقہ سےکرٹرےز اور اعلی حکام نے اجلاس مےں شرکت کی۔برطانوی ترقےاتی ادارہ(ڈےفڈ) کے خصوصی نمائندے سرمائےکل باربر (Sir Michael Barber) ،ڈےفڈ کے سربراہ رچرڈ منٹگمری (Mr. Richard Montgomery)،ڈےفڈ کے مشےر برائے صحت ،روڈ مےپ ٹےم کے ماہرےن اوردےگر عہدےداران بھی اس موقع پر موجود تھے ۔وزےراعلیٰ محمد شہبازشرےف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحت مند افراد سے ہی صحت مند معاشرہ تشکےل پاتا ہے ۔پنجاب حکومت صوبے مےں محکمہ صحت کی ترقی اورعوام کو بہتر سے بہتر طبی سہولےات کی فراہمی کے لےے ٹھوس پروگرام پر عمل پےرا ہے۔انہوں نے کہاکہ عوام کو بہترےن طبی سہولےات کی فراہمی کے لےے ٹارگٹ مقرر کر کے ان کے حصول کے لےے آگے بڑھنا ہوگا۔بےمارےوں سے بچاو¿ کے لےے وےکسی نےشن پروگرام کی کورےج کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ہےلتھ رےفارمز روڈ مےپ کے تحت زچہ و بچہ کی صحت پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔ بنےادی مراکز صحت کو بہتر بناتے ہوئے ےہاںضروری ادوےات اور ڈاکٹروں کی دستےابی ےقےنی بنائی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ پنجاب ہےلتھ رےفارمز روڈ مےپ پر عملدر آمد کی ڈےجےٹل مانےٹرنگ کا نظام وضع کےا جائے گا۔پنجاب انفارمےشن ٹےکنالوجی بورڈروڈ مےپ کے حوالے سے ڈےجےٹل مانےٹرنگ کا موثر نظام وضع کرے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے تربےتی پروگرام کی طرز پرہےلتھ ورکرز کو بھی جدےد تربےت سے آراستہ کےا جائے گا۔روڈ مےپ پر عملدر آمد کے بہترےن نتائج کے حصول کے لےے محنتی ،اےماندار اور دکھی انسانےت کی خدمت کے جذبے سے سرشار افسروں اوراہلکاروں کو تعےنات کےا جائے۔ڈلےوری ےونٹ کے سربراہ اورڈےفڈ کے مشےر برائے صحت نے پنجاب ہےلتھ رےفارمز روڈ مےپ کے حوالے سے تفصےلی برےفنگ دی۔

مزید : صفحہ اول