آرٹیکل 6کا ٹرائل 1956 سے شروع کرنے کی درخواست مسترد نہیں کی ،خصوصی عدالت

آرٹیکل 6کا ٹرائل 1956 سے شروع کرنے کی درخواست مسترد نہیں کی ،خصوصی عدالت ...

            اسلام آباد( آن لائن +اے این این) خصوصی عدالت نے آئین شکنی کے جرم کا ٹرائل1956سے شروع کرنے سے متعلق کسی حکم کا تاثر مسترد کر دیا،مشرف کے خلاف مقدمے کی 24اپریل سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا فیصلہ کر لیا جبکہ پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے اپنے تحریری جواب میں عدالت کو بتایا ہے ایمرجنسی کے نفاذ میں پرویز مشرف کے کسی معاون کا ثبوت نہیں ملا،دستاویزی شواہد صرف سابق صدر کے خلاف ہیں،اپنے معاونین کے بارے میں پرویز مشرف ہی بتا سکتے ہیںثبوت فراہم کرنا ملزم کی ذمہ داری ہے،ایمرجنسی سے متعلق وزیر اعظم ہاوس میں کوئی ریکارڈ نہیں نہ حکومت کو اس کا علم ہے ،ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ ملزم یا وکلاءصفائی کو فراہم کرنا ضروری نہیں،عدالت جب چاہے رپورٹ کا ملاحظہ کر سکتی ہے۔بدھ کوجسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر پرویز مشرف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ کیا عدالت نے آرٹیکل6کا1956 سے ٹرائل شروع کرنے کی ان کوئی استدعا مسترد کی ہے اگر ایسا ہے تو انہیں عدالتی حکم کی نقل فراہم کی جائے تاکہ وہ تحریری وضاحت کر سکیں، جس پر جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ عدالت نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا۔ جس کے بعد وکیل استغاثہ اکرم شیخ نے سابق صدر کے 3 نومبر کے اقدامات میں معاونین کے خلاف کارروائی کی درخواست پر اپنے تحریری جواب داخل کیا، تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق صرف پرویز مشرف کے خلاف دستاویزی ثبوت ملے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ کی نقل فراہم کرنا ضروری نہیں، قانون میں جن دستاویزات کی فراہمی کا ذکر موجود ہے، وہ تمام جمع کرائی گئی ہیں، جن افراد کا نام شکایت میں شامل نہیں ان پر خصوصی عدالت کی دفعہ 6 جی کا اطلاق نہیں ہوگا۔ شریک ملزمان کا نکتہ شہادتوں کے مرحلے پر اٹھایا جا سکتا ہے، معاونین کو ٹرائل میں شامل کرنے کی استدعا قبل از وقت ہے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے تینوں ارکان کا نام گواہان میں شامل ہے، ان گواہان پر جرح کی جا سکتی ہے۔تحریری جواب کے بعد وکیل استغاثہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ وزیراعظم کے دفتر میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لئے کسی ایڈوائس یا سمری کا ریکارڈ موجود نہیں، ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق نوٹی فکیشن میں جن افراد سے مشاورت کا تذکرہ کیا گیا اس کا علم صرف پرویز مشرف کو ہو گا اور وہی اپنے مشیروں کی نشاندہی کرسکتے ہیں، پرویز مشرف کے حق میں بھی کوئی دستاویز ملی تو عدالت کے سامنے رکھیں گے، اکرم شیخ کے دلائل مکمل ہونے پر بیرسٹر فروغ نسیم نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں استغاثہ کا تحریری جواب آج ہی ملا،جس کی تیاری کے لئے انہیں وقت درکار ہے، جس پر سماعت 24 اپریل تک ملتوی کردی اور کہا کہ 24 اپریل سے کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہو گی تاہم پراسیکیوٹر کی تعیناتی سے متعلق درخواست کا فیصلہ 18 اپریل کو سنایا جائے گا۔۔سماعت کے اختتام پر پرویز مشرف کے وکیل بیرسٹر فروٓغ نسیم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کی سماعت کے دوران عدالت سے درخواست کی ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف جس تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پرکیس قائم کیا گیا، ہمیں اس رپورٹ کی کاپی دی جائے۔فروغ نسیم نے کہاکہ عدالت نے اس تاثر کو مسترد کر دیا ہے کہ آئین شکنی کا ٹرائل مارچ 1956ءسے نہیں ہو سکتا یہ معاملہ اوپن ہے اور میں اس پر دلائل دوں گا ہمارا موقف ہے کہ اگر آج ایک جرم کی کوئی سزا نہیں اور کل اسی فعل کو جرم قرار دیا جاتا ہے تو ماضی میں کئے گئے عمل کی سزا بھی نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے کہا کہ مجھے اس بات کا کوئی علم نہیں کہ الطاف حسین سابق صدر کو بچانے پاکستان آرہے ہیں۔ الطاف حسین پاکستان سے دور رہ کر بھی وطن سے محبت کرتے ہیں، ان کے پاکستان آنے کا علم نہیں اگر انہوں نے وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا تو کارکن سیکیورٹی کی بنا پر نہ آنے کا مشورہ دیں گے۔فروغ نسیم نے کہا کہ سنگین غداری کیس میں دلائل کے دوران اکرم شیخ کو الطاف حسین سے متعلق بات نہیں کرنی چاہیے تھی، اکرم شیخ کا الطاف حسین سے متعلق بات کرنا موزوں نہیں تھا، الطاف حسین تو اکرم شیخ کے متعلق اچھے جذبات رکھتے ہیں، سماعت کے دوران اپنی باری پر الطاف حسین کا نام لینے پر وہ بات کریں گے۔

مزید : صفحہ اول