وہ دن دور نہیں جب میری بہن عافیہ رہا ہو کر وطن واپس آ جائے گی ،ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

وہ دن دور نہیں جب میری بہن عافیہ رہا ہو کر وطن واپس آ جائے گی ،ڈاکٹر فوزیہ ...

                                             لاہور(رپورٹ:حسن عباس زیدی،تصاویر :ذیشان منیر)ڈاکٹر عافیہ صدیقی فریڈم موومنٹ کی روح رواں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ میری بہن کی رہائی کے لئے میں نے اکیلے آواز اٹھائی تھی لیکن اب یہ لاکھوں لوگوں کی آواز بن چکی ہے پوری دنیا کی پچاس سے زائد این جی اوز ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے آواز بلند کررہی ہیں۔میری بہن کو جس طرح اغوا کرکے پہلے افغانستان اور بعد میں امریکہ لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس نے ہر درد دل رکھنے والے شخص کو رلا دیا ہے۔وہ گزشتہ روز ”پاکستان فورم“میں اظہار خیا ل کررہی تھیں ۔فوزیہ صدیقی نے بتایا کہ میری بہن کے بارے میں بہت ساری بے بنیاد باتیں پھیلائی گئی ہیں ان باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے سب سے پہلے تو کئی لوگوں کو یہ علم ہی نہیں ہے کہ میری بہن میڈیکل ڈاکٹر نہیں اس نے تو پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے۔اس کے مقالہ کا موضوع ”ابتدائی عمر میں بچوں کی نشوو نماء“تھا۔ دوسرا یہ کہ اس نے کبھی بھی گرین کارڈ کے حصول کے لئے درخواست نہیں دی تھی۔ہمارے گھر کے چار افراد 2003میں لاپتہ ہوئے تھے جن میں سے تین کے بارے میں خبر مل گئی ہے جبکہ عافیہ کے چھ ماہ کے بچے کا تا حال کچھ معلوم نہیں ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ شہید ہوچکا ہے پہلے ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ عافیہ اور اس کے بچے اب دنیا میں نہیں رہے ہیں لیکن بعد میں نو مسلم برطانوی صحافی ایون ریڈلے کی وجہ سے عافیہ کا پتا چل گیا کہ بگرام میں امریکیوں کے ظلم کا شکار قیدی نمبر650عافیہ ہے۔اس کے دو بچے ہمار حوالے کردیئے گئے ہیں جبکہ تیسرے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے کہ وہ زندہ ہے یا شہید ہوچکا ہے۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے بتایا کہ نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعدہم سے ملاقات میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن شاید وہ بھی اپنا وعدہ بھول گئے ہیں۔عافیہ کی گرفتاری کے دس سال پورے ہونے پر دنیا کے کئی ممالک میں امریکی سفارتخانوں کا گھیراﺅ کیا گیا اس کے ساتھ ساتھ امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے کے باہر لوگوں نے آواز احتجاج بلند کی وہ دن دور نہیں جب میری بہن پاکستان کی بیٹی رہا ہوکر وطن واپس آجائے گی ہماری جانب سے تمام قانونی کاغذی کارروائی مکمل ہوچکی ہے اب نہ جانے حکومت کو کس بات کا انتظار ہے۔میں تو صرف اتنا کہوں گی کہ فوج عوام کی حفاظت کے لئے ہوتی ہے نہ کہ ان کا سودا کرنے کے لئے اب جمہوری حکومت ہے عافیہ کی رہائی میں تاخیر کی وجہ یہ تو نہیں کہ کسی نے ایک بار پھر سودے بازی کرلی ہے۔فوزیہ صدیقی نے کہا کہ ہم ہمت نہیں ہاریں گے ہماری جدوجہد ضرور رنگ لائے گی۔میری میڈیا سے درخواست ہے کہ تصویر کا حقیقی رخ لوگوں تک پہنچائے تاکہ عافیہ کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمی دور ہوسکے۔

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

مزید : صفحہ آخر