مقبوضہ کشمیر میں خونریز جھڑپ کے بعد سینکڑوں افراد کے احتجاجی مظاہرے

مقبوضہ کشمیر میں خونریز جھڑپ کے بعد سینکڑوں افراد کے احتجاجی مظاہرے
مقبوضہ کشمیر میں خونریز جھڑپ کے بعد سینکڑوں افراد کے احتجاجی مظاہرے

  

سری نگر(اے این این) مقبوضہ کشمیر کے علاقے گاندر بل میں خونریز جھڑپ کے بعد سینکڑوں مشتعل افراد کے احتجاجی مظاہرے جاری ٗ بھارتی فوج سے جاں بحق ہونے والے مجاہدین کی لاشیں اور رہائشی مکانوں کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کا مطالبہ ٗ احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس کا لاٹھی چارج ٗ درجنوں افراد کو حراست میں لے کر تھانوں میں بند کردیا ٗ ہڑتال و احتجاجی مظاہروں کے دوران دکانیں اور دیگرکاروباری ادارے بند رہے ٗ معمولات زندگی درہم برہم ٗپائین شہر میں نیشنل کانفرنس کے کارکنوں کے گھروں پرپتھراؤ ٗ شیشے چکنا چور ہوگئے ۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے گاندر بل میں مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان خونریز جھڑپ کے بعد سینکڑوں مشتعل افراد نے گزشتہ روز احتجاجی مظاہرے کئے ۔ہڑتال اور مظاہروں کے دوران علاقہ میں دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے جبکہ ٹریفک کی نقل و حرکت بھی معطل رہی جس کے باعث معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی۔ہڑتال کے دوران نوجوان گھروں سے باہر آئے اور پولیس اورفورسز کے خلاف احتجاجی مظاہرئے کئے ۔ مظاہرین نے اس موقع پر بھارتی فوج سے مطالبہ کیا کہ وہ جاں بحق ہونے والے مجاہدین کی لاشیں فی الفور ان کے ورثاء کے حوالے کرے اور جھڑپ کے دوران گولہ باری سے مکانوں کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ازالہ کیا جائے ۔ اس موقع پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیااور بعد میں اشک آور گولے داغے۔ پولیس کارروائی سے مشتعل ہوکر مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیااور اس طرح طرفین کے مابین جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں پورے علا قہ میں افراتفری کی صورتحال پیدا ہوئی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جس مکا ن میں مجاہدین موجود تھے اسے مارٹر شلوں سے نقصان پہنچا یا گیاجبکہ دوسرے نزدیکی مکان کو نذر آتش کیا گیا۔ انہوں نے پولیس کے اس دعوی کوحیران کن قرار دیا جس میں پولیس نے کہا تھا کہ جو مکا ن پوری طرح تبا ہ ہو گیا ہے وہاں گیس سلنڈر پھٹ جا نے کے بعد آگ لگی ۔ انہوں نے کہا کہ مذ کورہ رہائشی مکان کی چھت سے آ گ کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دیئے جس سے صاف ظاہر ہے کہ مکان فورسز کا رروائی کے نتیجے میں تبا ہ ہوا ۔مقامی لوگوں کے مطابق جس مکان کو نذر آتش کیاگیا اس میں مکان میں آخری مو قع تک فورسز اہلکار موجودتھے اور اسی مکان سے وہ مورچہ زن ہوکر اس یک منزلہ مکان کو نشانہ بناتے رہے جہاں مجاہد موجود تھے۔ مظاہرین نے فورسز پر الزام لگایا کہ اگر ان کے دعوے میں سچائی ہے تو لاشوں کو مقامی لوگوں کے حوالے کیوں نہیں کیا گیا؟ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جھڑپ ختم ہونے سے کچھ دیر قبل عبدالمجید رنگریز کے تین منزلہ مکان کو آگ لگادی گئی حالانکہ مکان میں لاکھوں روپے کے قالین اور پشمینہ موجود تھا۔

مزید : انسانی حقوق