سینیٹ اپوزیشن کی ازخود نوٹس کے اختیار کو محدود کرنے کیلئے قانون سازی کی تجویز

سینیٹ اپوزیشن کی ازخود نوٹس کے اختیار کو محدود کرنے کیلئے قانون سازی کی ...

                           اسلام آباد (اے این این) پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینٹ میں تجویز دی ہے کہ عدلیہ کے ازخود نوٹس کے اختیار کو محدود کرنے اور زیر سماعت مقدمات کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے کیلئے ضروری قانون سازی کی جائے۔ انہوں نے بدھ کی شام نکتہ اعتراض پراظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ سوموٹو ایکشن کو ریگولیٹ کیا جانا چاہیے۔ فرحت اللہ بار نے کہا کہ پارلیمنٹ بالا دست ترین ادارہ ہے اسلئے وہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کسی مقدمے کو زیر بحث لا سکتا ہے۔ انہوں نے نواز زرداری ملاقات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے اختیارات کم کرنے کی کوششیں ختم کی جائیں۔ پارلیمنٹ کو تمام سیاسی جماعتیں ملکر مقتدر بنائیں۔ سینٹ میں اپوزیشن نے سرکاری اداروں کی نجکاری کیخلاف واک آﺅٹ کردیا، حکومت کو مجبوراً32 اداروں کی فہرست ایوان میں پیش کرنا پڑی۔ بدھ کی شام سینٹ کے اجلاس میں وقفہ سوالات میں نجکاری کے سوال پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ حکومتی وزراءاحسن اقبال اور بلیغ الرحمن نے موقف اختیار کیا کہ اداروں کی نجکاری مجبوراً کی جارہی ہے کیونکہ ماضی کی حکومت نے ان اداروں کا ستیاناس کیا ۔ پی پی حکومت عوام کو اب جواب کیوں نہیں دیتی۔ بلیغ الرحمن نے ایوان کو بتایا کہ او جی ڈی سی ، پی پی ایل، ماڑی پٹرولیم، پاک عربریفائنری، پی ایس او، ایس این جی پی ایل،حبیب بینک، نیشنل بنک، یونائیٹڈ بنک، پی آئی اے، الائیڈ بینک، نیشنل پاور کنسٹرکشن کارپوریشن ، ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس، فیسکو ، لیسکو وغیرہ شامل ہیں۔32 اداروں کے پورے نام نہ بتانے پر اپوزیشن نے رضا ربانی کی قیادت میں واک آﺅٹ کردیا تاہم شیخ آفتاب انہیں منا کر واپس لائے۔ اس دوران حکومت نے فی الفور 32 اداروں کے نام منگوا لئے۔وفاقی وزراءآٹے کی قیمت سے بے خبر نکلے، اپوزیشن کا اظہار افسوس ، جب وزیر نہیں تھے آٹے دال کا بھاﺅ معلوم تھا اب وزیر کیا بنے سب کچھ بھول گیا، صابر علی بلوچ۔ بدھ کی شام سینٹ میں وقفہ سوالات کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب اپوزیشن کے سینیٹر سلیم مانڈری والا نے حکومتی وزراءکو چیلنج کیا کہ باقی باتیں چھوڑیں آٹے کا بھاﺅ بتا دیں۔ وزیر مملکت بلیغ الرحمن نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فی کلو قیمت معلوم نہیں۔ ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ افسوس ہے آپکو آٹے کا بھاﺅ بھی معلوم نہیں جو عوام کی سب سے بنیادی ضرورت ہے۔سینٹ کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے اندرونی قرضے دس ہزار ارب اور بیرونی قرضے 47 ارب ڈالر ہیں جبکہ غیر ملکی قرضوں میں ایک ارب ڈالر کمی آئی ہے۔ بدھ کو وزیر مملکت بلیغ الرحمن نے سلیم مانڈری والا کے ایک سوال پر ایوان کو وقفہ سوالات کے دوران بتایا کہ مذکورہ اعدادو شمار 28 فروری تک کے ہیں۔ مارچ اور اپریل کے اعداد ابھی دستیاب نہیں ہیں۔ بیرونی قرضوں میں کمی کی وجہ روپے کی قدر میں اضافہ ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جون 2013 ء سے 28 فروری 2014ءتک 741 ارب روپے قرضہ لیا گیا ہے جن میں سٹیٹ بینک سے 312 ارب روپے اور کمرشل بنکوں سے 429 ارب روپے لیے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ملک کا مجموعی قرضہ جی ڈی پی کا 60 فیصد سے بڑھ گیا ہے۔ اس وقت یہ تناسب 59 فیصد ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بند نہیں کیا جارہا۔8 جنوری 2014ءتک نیلام کیے گئے ٹی بلز کی مالیت 1607 ارب روپے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈالر 98 روپے سے بڑھ کر 108 روپے ہونے سے قرضوں میں 474 ارب روپے اضافہ ہوا تھا جو واپس کم ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مردم شماری اگلے سال کرائی جائیگی۔ یہ 16 سال سے نہیں کرائی گئی۔

مزید : صفحہ اول