زرداری،نواز شریف ملاقات،کنفیوژن کم کرنے میں مدد ملے گی

زرداری،نواز شریف ملاقات،کنفیوژن کم کرنے میں مدد ملے گی

تجزیہ: چودھری خادم حسین                  

آج مختصر گزارش ہوگی، ہم رجائیت پسند ہیں، ملک ہمارا اور ہم نے اس میں رہنا ہے، ہم نہ رہے تو ہماری اولاد ہوگی اور پھر ان کی اولادیں بھی اسی مٹی پر پیدا ہوں گی، تو پھر کیوں نہ اس کی خیر منائی جائے؟ اسی جذبے کے تحت اکثر اوقات جبر کر کے بھی بعض باتوں پر منفی اثرات سے بچنا ہوتا ہے اور اسی جذبے کے تحت اپنے ہم پیشہ بڑوں اور چھوٹوں سے اپیل کرنا پڑتی ہے کہ وہ چپقلش بڑھانے یا پیدا کرنے سے گریز کریں، لیکن کیا کیا جائے کہ ہمارے سیاست دان حضرات خود ہی مصیبت کو آواز دیتے ہیں، آج کے دور میں الیکٹرانک میڈیا سے بہت پیار کرتے اور اپنی موہنی صورت دکھانے کے لئے بھی بے چین رہتے ہیں، ہمارے اپنے میڈیا والے بھائیوں اور ایسے سیاست دان حضرات کی مہربانی سے ہی کنفیوژن میں اضافہ ہوتا جلا جارہا ہے اور کل جو معمولی بات تھی آج بڑی خلیج نظر آنے لگی ہے۔ ہماری تجویز تھی کہ وزیراعظم چین سے واپس آتے ہی قومی سلامتی کا اجلاس بلا لیں یا آرمی چیف سمیت اہم افراد پر مشتمل ایک مختصر میٹنگ بلا کر اس کشمکش کو ختم کردیں جو اب حالاتِ حاضرہ اور ذہنوں پر بھی اثر انداز ہونے لگی ہے۔ بوجوہ ایسا نہ ہوا، اس کے پیچھے کیا ہے ہم اس کے حوالے سے کوئی رائے قائم کرنے یا دینے سے پرہیز کرتے ہیں ۔

بہرحال بات تو ہے اور اسی نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کی ملاقات کا اہتمام کرایا ہے، ملاقات کی خبریں قارئین تک کئی حوالوں سے پہنچ جائیں گی اس لئے ہمیں ضرورت نہیں کہ رائے زنی کریں ،لیکن ایک بات ظاہر ہے کہ اس ملاقات میں طالبان سے مذاکرات، فوج سے اختلافی تاثر اور سینٹ وغیرہ کی کارروائی پر ضرور تبادلہ خیال ہوا ہوگا کہ میاں رضا ربانی اور سید خورشید شاہ کی موجودگی خالی از علت نہیں ، چنانچہ تحفظِ پاکستان آرڈی ننس بل کی منظوری بھی ضرور زیرِبحث ہوگی۔

 اس ملاقات پر بھی ان سطور کی اشاعت تک بہت زیادہ گفتگو ہوچکی ہوگی ہم تو صرف یہی عرض کریں گے کہ یہ مفاہمت والی ملاقات تھی اور نتیجہ بھی ویسا ہی ہونا چاہئے، جلد ہی کنفیوژن دور ہونے کا امکان ہے ،تاہم کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے رائے کا اور عمل والی حکمتِ عملی پر اختلاف ضرور ہے، لیکن محاذ آرائی والا نہیں ہے۔

آج بات کو ایک تشویش ناک اطلاع پر مکمل کرتے ہیں کہ خدشات کے عین مطابق مذاکراتی عمل کے دوران یہ جو بظاہر امن نظر آرہا ہے، یہ سطح سمندر کی مانند ہے کہ اس کی تہہ میں تلاطم ہے، معلوم ہوا ہے کہ لاہور اور بعض دوسرے بڑے شہروں میں ناجائز اسلحہ کے ذخائر اکٹھے کر لئے گئے ہیں اور اب لاہور کے علاوہ ملتان اور راولپنڈی کے ساتھ ڈیرہ غازی خان اور رحیم یا رخان آتش فشاں کے دہانے پر ہیں، اسلحہ کی آمد یا سمگلنگ کو روکا نہیں گیا۔ کسی وقت بھی صورتِ حال خراب ہوئی تو بہت خونریزی ہوگی اور لاہور بھی کراچی بن جائے گا ،اللہ خیر کرے، ہم خبردار کئے دیتے ہیں۔

مزید : صفحہ اول