آمریت کی کوئی گنجائش نہیں رہی :سراج الحق

آمریت کی کوئی گنجائش نہیں رہی :سراج الحق
آمریت کی کوئی گنجائش نہیں رہی :سراج الحق

  

لاہور(سٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ کسی بھی صورت ملک کو جمہوریت کی پٹری سے نہیں اُترنے دینگے ۔ پاکستان میں آمریت کے لئے کوئی گنجائش نہیں رہی ۔ پوری قوم ملک میں جمہوری عمل کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتی ہے۔ حکومت طالبان مذاکرات کو ملک بھر میں بھر پور عوامی حمایت حاصل ہے۔ تاہم مذاکرات کی کامیابی کیلئے دونوں شریفوں یعنی وزیر اعظم نواز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے۔ جماعت اسلامی کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مختصر عرصے میں ملک کی مقبول ترین سیاسی و عوامی جماعت بنا دینگے ۔ جماعت اسلامی کا شعبہ نشرواشاعت جماعت اسلامی کا حقیقی اسلامی ، جمہوری اور عوامی امیج کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ جماعت اسلامی پُر امن ، آئینی اور جمہوری ذرائع سے ملک میں تبدیلی اور انقلاب کے لئے کوشاں ہے۔ خفیہ ، زیر زمین اور مسلح جدوجہد کے ذریعے تبدیلی ہمارا طریقہ کار نہیں اور نہ ہی یہ ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔ خواتین ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں اور انہیں اپنا یہ کردار ملناچاہیے۔جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے المرکز اسلامی پشاور میں جماعت اسلامی کی مرکزی میڈیا کمیٹی کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں جماعت اسلامی پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف ، جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات اسرار اللہ ایڈوکیٹ کے علاوہ وقاض انجم جعفری ، شاہد شمسی، عبدالرحمن اور محمد اقبال نے شرکت کی، جبکہ شباب ملی کے مرکزی صدر حافظ عتیق الرحمن نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ سراج الحق نے کہا کہ ملک کے ہر ادارے کو اپنے آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ ہر ادارہ اپنے آئینی حدود میں رہے گا تو مسائل پیدا نہیں ہونگے ۔ انہوں نے کہاکہ جمہوریت پر شب خون مارنے اور جمہوری عمل کو سبو تاژ کرنے کے خلاف پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کو یک آواز او ریک زبان ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگرجمہوری عمل کو لپیٹنے کی کوشش کی گئی تو تمام تر سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جماعت اسلامی ملک کی تمام سیاسی اور جمہوری جماعتوں کے ساتھ مل کر آمریت کا راستہ روکے گی۔ اجلاس میں جماعت اسلامی کے شعبہ نشرواشاعت کو سائنسی بنیادوں پر منظم کرنے کیلئے متعدد تجاویز پر غور ہوا۔

مزید : پشاور