کھودا پہاڑ نکلا۔۔۔۔

کھودا پہاڑ نکلا۔۔۔۔
کھودا پہاڑ نکلا۔۔۔۔

  

لا ہور (کامران مغل /شعیب بھٹی )اچھرہ بازار میں ہونے والا دھماکہ مبینہ طور پرپشاور کے کار چور گینگ کے سرغنہ عنایت خان وغیرہ اور اچھرے کے کاروباری پٹھان گروپس کے آپسی لین دین کے تنازعہ کامعاملہ نکلا۔ انٹیلی جنس ذرائع اورحساس اداروں کی جانب سے تیار کی جان والی ابتدائی رپورٹ کے مطابق پشاور کے علاقہ غیر سے تعلق رکھنے والا ایک پٹھان گروپ عنایت خان وغیرہ جو کہ مبینہ طور پر چوری کی گاڑیوں کی خریدوفروخت کا کام کرتا ہے،جس نے اچھرہ میں پاکستانی چوک میں الیکٹرانک سامان قسطوں پر بیچنے والے دکاندار ولی خان اور مومن خان وغیرہ کے ساتھ مل کر2کروڑ روپے کی شراکت داری کی تھی جس پران کا آپس میں ماہانہ10لاکھ روپے منافع طے پایا تھا اور اسی ماہ مذکورہ رقم کی قسط بھی ادا کی جانی تھی لیکن رقم کی آدائیگی کے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے پر دونوں گروپس کی تلخ کلامی ہوگئی تھی اور دونوں گروپس آپس میں ایک دوسرے کے دشمن بن گئے تھے جس کے بعد عنایت خان گروپ نے 10مارچ 2014کو اچھرہ میں ہونے والے 2کریکر دھماکوں سے تقریبا2ہفتے قبل اچھرہ کے دکاندار ولی خان اور مومن خان وغیرہ کے گھر کے باہر  مبینہ طور پردھماکا کروایا تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دو نو ں گر وپس ایک دو سرے سے پشاور میں ملاقا تیں بھی کر تے رہے ہیں اور انٹرنیٹ سے انکا رابطہ بھی تھا اسی وجہ سے انکے رابطے کا کوئی نمبر بھی ر جسٹرڈ نہیں ہے کیونکہ متاثرہ دکاندار و لی خا ن کوملنے وا لی د ھمکیو ں کا بھی جو نمبر ر یکارڈ کیا گیا ہے وہ بھی انٹرنیٹ سے لنک ہے لیکن منگل کے روز رات کو دوبارہ ولی خان کو جو د ھمکی آ میز کا ل موصول ہوئی ہے وہ گیٹ وے ایکسچینج سے کی گئی تھی تاہم اس حوالے سے بھی مزید تفتیش کی جارہی ہے۔ذرائع کے مطابق ولی خان اور مومن خان سمیت اسکے دیگر بھائی اور کزن وغیرہ اچھرہ کے علاقہ میں عرصہ 7سال سے الیکٹرونکس اشیاء اقساط پر دینے کا کاروبار کررہے ہیں۔

مزید : لاہور