قانون میں’ ڈبہ پیروں ‘ کیلئے ’ موجاں ہی موجاں ‘ ہیں

قانون میں’ ڈبہ پیروں ‘ کیلئے ’ موجاں ہی موجاں ‘ ہیں
قانون میں’ ڈبہ پیروں ‘ کیلئے ’ موجاں ہی موجاں ‘ ہیں

  

لاہور(کامران مغل )جعلی عاملوں کے پاس من کی مرادیں پوری کروانے کی غرض سے جانے والی سادہ لوح خواتین سے ہزاروں روپے بٹورنے اوران کی عزتیں پامال کرنے والے \"ڈبہ پیروں \"کے خلاف آج تک کوئی قانون نہیں بن سکا ہے ،اگر ایسا قانون بناہوتا تو آج حوا کی بیٹیوں کی عزتیں ان درندہ صفت عاملوں کے ہاتھوں محفوظ ہوتیں ۔پولیس حکام کی جانب سے بھی عصمت دری کا واقعہ رونماء ہونے کے بعد صرف پولیس دفعہ420کی کارروائی کرتی ہے جبکہ متعدد پولیس اہلکار ایسے واقعات پر کارروائی کرنے کی بجائے جیب خرچ لے کر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ۔سخت قوانین اور سزانہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ ضمانتیں کروا کر اپنے دھندے پر لگ جاتے ہیں ۔حکومت اس مکروہ دھندہ میں ملوث جعلی عاملوں خلاف قانون بنانا ہوگا جس میں سخت سے سخت سزاتجویز کرنا ہوگی جس کے بعد ہی ایسے واقعات پر قابو پانا ممکن ہے ۔ ان خیالات کا اظہار صدر لاہور بار ایسوسی ایشن چودھری اشتیاق احمد ، سابق سیکرٹری لاہور بار کامران بشیر مغل ، سابق سیکرٹری لاہور بار کامران بشیر مغل، سینئر ایڈوکیٹ عرفان تارڈ،مدثر چودھری اور مشفق احمد خان نے پاکستان سے گفتگو میں کیا ۔لاہور بار کے صدر اشتیاق چودھری نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت میں گڑھی شاہو، دھرم پورہ،بھاٹی گیٹ، ریلوے سٹیشن ، قلعہ گجر سنگھ اور نولکھا کے علاقوں میں جعلی عاملوں نے اپنے دفاتر قائم کررکھے ہیں جہاں دلی مراد پوری ہونے ، سنگدل محبوب قدموں میں اور تقدیربدلنے دینے کے بلند وبانگ دعوے کرکے لوگوں کی جمع پونجی لوٹ لی جاتی ہے ۔ جعلی ڈبہ پیرسادہ اور کمزور عقائد رکھنے والے افراد اور خصوصا خواتین سے نوٹ بٹورنے کے ساتھ ساتھ ان کی عزتیں پامال کرنے میں لگے ہوئے ہیں جبکہ پولیس سب کچھ جانتے ہوئے اپنا حصہ وصول کرکے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔حکومت کو چاہیے کہ ایسا قانون بنائے جس میں سخت سے سخت سزائیں تجویز کی جائیں جس کے بعد ہی اس میں ملوث افراد کا خاتمہ ممکن ہے ۔سینئر ایڈوکیٹ عرفاق صادق تارڈ اور مشفق احمد خان نے کہا کہ عرصہ دراز یہ ڈ بہ پیر لوگوں کو بیوقوف بنا رہے ہیں اور انکے خلاف آج تک کوئی تنظیم یا این جی بھی آواز نہ اٹھاسکی اور نہ ہی پولیس انتظامیہ ان کے خلا ف کوئی ٹھوس اقدامات عمل میں لاسکی جو کہ انتہائی افسوس ناک فعل ہے ۔سابق صدر لاہور بار نعمان قریشی اور سابق سیکرٹری لاہور بار کامران بشیر مغل نے کہا کہ ایسے عاملوں پر جو افراد عقیدہ قائم رکھے ہوئے ہیں ان میں شامل افراد کی اکثریت گنوار اور ان پڑھ کی ہے جو دین سے دوری کے باعث ان فضول کاموں میں ہزاروں اور لاکھوں روپے تک خرچ کرڈالتے ہیں ۔ سینئر ایڈوکیٹ مدثر چودھری نے کہا کہ جعلی عاملوں نے کرائے کے مکان حاصل کرکے وہاں آستانے قائم کررکھے ہیں جبکہ بعض نے قبرستانوں اور دیگر ویران اور اجاڑ علاقوں میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں ، تعویذ دھاگے کرنے والے یہ عامل زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں ، ان کے پاس آنے والوں میں کثیر تعداد خواتین کی ہے جو بعض اوقات عیاش عاملوں کے ہتھے چڑھ جانے کے بعد دولت کے ساتھ ساتھ اپنی آبرو تک گنوا دیتی ہیں ۔ذرائع کے مطابق جعلی عاملوں نے جہاں ڈیرے ڈال رکھے ہیں ان میں لاہور ریلوے سٹیشن ، بھاٹی گیٹ ، لاری اڈہ ، داتادربار اور پیر مکی وغیرہ شامل ہیں جہاں انہیں مقام پولیس کی پشت پناہی حاصل ہے ۔

مزید : انسانی حقوق