سپیشل بچوں کو آلہ سماعت کی فراہمی کاپروجیکٹ 7سال میں بھی مکمل نہ ہوسکا

سپیشل بچوں کو آلہ سماعت کی فراہمی کاپروجیکٹ 7سال میں بھی مکمل نہ ہوسکا
سپیشل بچوں کو آلہ سماعت کی فراہمی کاپروجیکٹ 7سال میں بھی مکمل نہ ہوسکا

  

لاہور(ذکاء اللہ ملک)محکمہ سپیشل ایجوکیشن کی عدم دلچسپی اور فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے سپیشل بچوں کو آلہ سماعت کی فراہمی کا پائلٹ پروجیکٹ 7سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکا،جبکہ آلہ سماعت کی فراہمی کیلئے ایم بی بی ایس ڈاکٹرز سمیت سرکاری سکولوں کے طلبہ کی تشخیص کیلئے بنائی گئی ٹیموں کو صوبہ بھر کے دور د راز علاقوں میں جانے کا سفری ا لاؤنس نہ ملنے کے سبب بددلی پھیل رہی ہے ا ور مذکورہ ٹیموں نے بقیہ 14اضلاع میں جانے سے معذوری ظاہر کردی ہے۔محکمہ سپیشل ایجوکیشن کے ذرائع کے مطابق 2007ء میں صوبہ بھر کے تمام 36اضلاع میں سرکاری سکولوں کے بچوں کو آلہ سماعت کی فراہمی کیلئے 23.712ملین روپے کا پائلٹ پروجیکٹ بنایا گیاتھاجسے 2013ء میں مکمل ہونا تھا ۔ ذرائع کے مطابق محکمہ سپیشل ایجوکیشن کی ناقص پالیسوں و عدم دلچسپی سمیت فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث 7سال گزرنے کے باوجود پائلٹ پروجیکٹ 22اضلاع سے آگے نہیں پھیل سکا۔ذرائع نے مزید بتایاکہ قبل ازیں پائلٹ پروجیکٹ کے تحت بہاولپور،بہاولنگر،ڈی جی خان،رحیم یار خان،لودھراں،پاکپتن،ملتان،ساہیوال،وہاڑی،ننکانہ صاحب،ٹوبہ ٹیک سنگھ،فیصل آباد،اوکاڑہ،لیہ،راجن پور،جھنگ،راولپنڈی،خوشاب اور اٹک سمیت پنجاب بھر کے 22اضلاع میں سرکاری سکولوں کے طلبہ کو آلہ سماعت فراہم کئے جاچکے ہیں۔سیکرٹری سپیشل ایجوکیشن عنبرین رضا نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ 23.712ملین روپے کے پائلٹ پروجیکٹ کے تحت صوبہ بھر کے سرکاری سکولوں کے طلبا وطالبات کو محکمہ کی جانچنے والی ٹیم کے ذریعے آلہ سماعت فراہم کئے جاچکے ہیں،جبکہ سرکاری سکولوں کے طلبہ کو آلہ سماعت کی فراہمی کے پائلٹ پروجیکٹ کا دائرہ مزید 14اضلاع تک پھیلا دیا گیا ہے نیز اس پروجیکٹ میں 3سال کی توسیع بھی دیدی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دوردراز کے علاقوں میں سرکاری سکولوں کے طلبہ کو آلہ سماعت کی فراہمی کیلئے بنائی گئی ٹیموں کو الاؤنس کی عدم فراہمی بجٹ نہ ہونے کا سبب ہے،فنڈز ملنے کے بعد معاملہ حل کرلیا جائیگا۔

مزید : تعلیم و صحت