عسکری و سول قیادت سرجوڑ کربیٹھ گئی ، داخلہ وخارجہ امور پر تبادلہ خیال ، تنازعات میں نہ پڑنے پراتفاق

عسکری و سول قیادت سرجوڑ کربیٹھ گئی ، داخلہ وخارجہ امور پر تبادلہ خیال ، ...
عسکری و سول قیادت سرجوڑ کربیٹھ گئی ، داخلہ وخارجہ امور پر تبادلہ خیال ، تنازعات میں نہ پڑنے پراتفاق

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا نہایت اہم اجلاس ہوا جس میں اتفاق کیاگیاکہ تمام اداروں کو ایک دوسرے کے تقدس کا خیال رکھنا چاہیے،عوام کی خوشحالی کے لئے تنازعات میں پڑنے کے بجائے ترقی کی راہ پر چلنا ہو گا۔وزیراعظم ہاﺅس میں ہونیوالے اجلاس کے شرکاءکو ڈی جی آئی ایس آئی نے ملک کی داخلی صورتحال اور مغربی سرحد کی صورتحال پر بریفنگ دی جبکہ وزیرخزانہ نے یوروبانڈ کے اجراءپر شرکاءکو اعتماد میں لیا۔کمیٹی نے اتفاق کیاکہ ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں گے اور اِس مقصد کیلئے تمام آپشن استعمال کریں گے ۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار ، وزیردفاع خواجہ آصف ، وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان ، مشیرخارجہ سرتاج عزیز، ڈی جی آئی ایس آئی ، ڈی جی آئی بی ، آرمی چیف اور سرچیف شریک تھے ۔ ذرائع نے بتایاکہ اجلاس نہایت خوشگوارماحول میں جاری رہا جس دوران ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینٹ جنرل ظہیرالاسلام نے شرکاءکوکراچی آپریشن ، پاک افغان بارڈراور بلوچستان کی صورتحال سمیت داخلی امورپر بریفنگ دی ۔شرکاءسے خطاب میں وزیراعظم نواز شریف کاکہناتھاکہ یہ وہ فورم ہے جہاں تمام ادارے اپنا نقطہ نظر بیان کرسکتے ہیں اور حکومت کو فیصلوں میں مددملتی ہے ۔ جبکہ وزیر داخلہ نے داخلی سیکیورٹی، مغربی سرحدوں، بلوچستان کی صورتحال اور طالبان سے مذاکرات پر بریفنگ دی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملک کی معاشی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں یورو بانڈ کو بہت پذیرائی ملی ہے،عالمی مالیاتی ادارے پاکستان پر اپنے اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم محمد نواز شریف کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی ایک اعلیٰ فورم ہے جہاں نیشنل سیکیورٹی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے اور تمام ادارے اپنا نکتہ نظر بیان کرتے ہیں جس سے حکومت کو اہم امور پر فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے،اس فورم کے فیصلے اجتماعی دانشمندی کا مظہر ہوتے ہیں۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو اپنے حالیہ دورہ چین کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انفراسٹرکچر، ریلوے اور توانائی کے شعبے میں چین 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنایا جائے گا۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہترین کئے جائیں گے اور پاکستان کسی بھی قسم کے تنازعات میں الجھنے کے بجائے ترقی کے راستے کو اپنائے گا۔ذرائع کاکہناتھاکہ اجلاس میں تین نکاتی ایجنڈے پر تبادلہ خیال کیاجائے گاجن میں طالبان کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا اعلان اور مغربی سرحدوں کی صورتحال پر تبادلہ خیال بھی شامل ہے ۔یادرہے کہ گذشتہ روز سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی تھی جس کے بعد وزیراعظم نے جمعرات کو قومی سلامتی کمیٹی اور جمعہ کو کابینہ کااجلاس طلب کرلیاتھا۔

مزید : اسلام آباد /Headlines