اقتدار کے سنگھاسن (2)

اقتدار کے سنگھاسن (2)
اقتدار کے سنگھاسن (2)

  



ضرب عضب کے نام سے شروع کی گئی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی فوج کامیابی کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے جس کی بڑی وجہ قوم کا یکسوئی کے ساتھ اپنی افواج کا ساتھ دینا ہے۔ اگرچہ کئی سیاسی زعما بوجوہ اس کارروائی سے لاتعلق رہے لیکن اس کے باوجود اُن کے لئے اس کارروائی کی علی الاعلان مخالفت کرنا ممکن نہیں رہا بلکہ حکومت جو ماضی قریب میں کھل کر ایسی کارروائی کرنے سے گریزاں تھی نے بھی طوعاً و کرعاً اس کو اپنا لیا۔ کسی نہ کسی پہلو سے فوجی قیادت نے معاملات کی ڈور اپنے ہاتھ ہی میں رکھی لیکن سول حکومت کی طرف سے اس میں مزاحمت جاری رہی۔ اس کشمکش کا نتیجہ یہ نکلا کہ دہشت گردی کی لہر پر قابو نہ پایا جا سکا بلکہ وہ خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی اور دہشت گردوں کا اعتماد بڑھ جانے سے ملک کا جانی نقصان بہت بڑھ گیا اور عوام میں خوف کی ایک لہر پیدا ہو گئی۔ مقتدر طبقوں نے اس صورتِ حال کو بھانپ کر خود ہی آگے بڑھنے کا عزم کیا۔ اگرچہ اس عزم کی راہ میں سیاسی قیادت نے بات چیت کا ڈھونگ رچایا لیکن فوج اپنے عزم میں پختہ تھی اب فوجی پالیسی مکمل طور پر بنیادی پالیسیوں کی امین ہے موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ داخلی محاذ ہو یا خارجہ تعلقات فوج کی ہی پالیسی پر عملدرآمد ہو رہا ہے اور حکومت مجبوراً عسکری پالیسیوں کے ساتھ جڑی ہوئی معلوم ہو رہی ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ دونوں اب ایک ہی صفحہ پر ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان سے لیکر کراچی میں عملی فوجی آپریشن تک ہر قدم فوجی قیادت اپنی حکمت عملی کے تحت اُٹھا رہی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کلیتاً فوج کی حکمتِ عملی کا آئینہ دار ہے اگرچہ حکومت اس پر پوری تندہی سے عمل نہیں کر رہی لیکن لگتا ہے کہ اس پلان کے سارے اہداف پورے ہوں گے۔ خارجہ معاملات پر گرفت بھی فوجی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

حال ہی میں فوجی قیادت کے امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب، افغانستان اور یورپ وغیرہ کا دورہ اسی پالیسی کی ایک کڑی ہے اور اس بات کی غماز ہے کہ خارجہ پالیسی پر بھی فوج کو ہی غلبہ حاصل ہے۔ نہ صرف یہ کہ چیف آف دی آرمی سٹاف نے غیر ملکی دورے کئے بلکہ ان ممالک میں جا کر اُنہوں نے اعلیٰ سیاسی و فوجی قیادت سے ملاقاتیں بھی کیں۔ یورپ، برطانیہ اور امریکہ میں تو اُنہوں نے ان ممالک کے قانون ساز اداروں کی پالیسی ساز کمیٹیوں سے بھی خطابات کئے جو اس بات کا غماز ہیں کہ بیرونی دنیا نے بھی ہماری فوجی قیادت پر اعتماد کر کے عسکری پالیسیوں کی تائید کر دی ہے۔ اس کے علاوہ کئی اعلیٰ اختیاراتی وفود نے ہمارے ملک کے دورے بھی کئے اور ان دوروں میں ہماری فوجی قیادت سے ملاقاتیں اور رابطے اُن کے دوروں کا محور رہے۔ جب سے یہ پالیسی کار فرما ہوئی ہے ملک کی سیاسی قیادت نے خارجہ معاملات میں کوئی پیش رفت نہیں کی اور فوجی کارگزاری پر ہی صادر کیا ہے اب تو لگتا ہے کہ خارجہ محاذ اور داخلی معاملات پر فوج کا کلی اختیار ہے جسے موجودہ حکومت نے تسلیم بھی کر لیا ہے۔ اگرچہ وزیر اعظم صاحب نے بھی چند ایک غیر ملکی دورے کئے ہیں لیکن اُن کا واضح مقصد توانائی اور اقتصادی شعبہ جات میں پیش رفت کرنا تھا اور ان کا تعلق کسی طور پر خارجہ معاملات سے نہیں تھا۔ حکومتی زعماء کے یہ دورے کلی طور پر مندرجہ بالا دو شعبہ جات میں قومی کارکردگی بڑھانے کی کاوشیوں کا حصہ تھے۔ ان واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ فوج نے حکمت عملی کے طور پر فوجی حکومت قائم کرنے سے گریز کیا لیکن پالیسی سازی میں اپنا کردار بھرپور طریقہ سے ادا کیا ہے اور داخلی اور خارجہ معمولات مکمل طور پر ان کی گرفت میں ہیں۔

حال ہی میں سعودی عرب میں پیدا ہونے والی صورتِ حال کے علی الرغم وزیر اعظم صاحب نے فوجی قیادت کی مشاورت سے آگے بڑھنے کی حکمتِ عملی اپنائی ہے اُنہوں نے مخدوش صورتِ حال کے پیش نظر سب سے پہلے آرمی چیف سے ملاقات کر کے جو نقاط طے کئے اس کو سیاست قیادت کے روبرو بعد میں پیش کیا۔ یہ حالات اس بات کے غماز ہیں کہ فوجی قیادت فی الحال ملک کے اہم ترین معاملات سے دست بردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہے اور اپنی طے شدہ اور دانستہ حکمتِ عملی کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ملک کے انتظام وانصرام کی باگ ڈور بظاہر حکومت کے ہاتھ میں دکھائی دیتی ہے لیکن اس حقیقت سے مُفر نہیں ہو سکتا کہ ملکی انتظام کی اصل ڈور عسکری قیادت کے ہی ہاتھ میں ہے۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت مارشل لاء جیسے فوجی اقدامات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی بلکہ فوج ہی در پردہ تمام معاملات چلا رہی ہے اور لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں بھی اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی اور فوج چاہے گی کہ معاملات اسی ڈگر پر چلتے رہیں کیونکہ سیاسی قیادت فی الوقت اس پالیسی کو قبول کر چکی ہے اور اس سے رضا مند دکھائی دیتی ہے۔حکومت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کا چہرہ سامنے رہے جبکہ بیک گراؤنڈ میں فوج ہی با اختیار ہے اس لئے ان حالات میں ہمیں ملک کے اندر مستقبل قریب میں فوجی عمل دخل کے براہ راست مناظر دکھائی نہیں دیتے۔ یہ حالات اس وقت تک ایسے ہی محسوس ہو رہے ہیں جب تک مقتدر طبقہ اور اس کی قیادت یہ نہ سمجھ لے کہ سول حکومت سیاسی مصلحتوں سے آزاد ہو چکی ہے کیونکہ ابھی تک کراچی کے معاملات کو ان مصلحتوں کے تابع رکھا گیا جس سے امن و امان کا مسئلہ خوفناک حد تک خراب رہا کیونکہ قوم یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان کی اقتصادی خودمختاری کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک سیاسی ضرورتوں کو ایک طرف رکھ کر امن کے حصول کے لئے اقدامات نہیں اُٹھائے جاتے کیونکہ معاشی حب ہونے کی وجہ سے کراچی میں بد امنی معیشت کے لئے زہر قاتل ہے اور موجودہ غیر یقینی صورتِ حال کو غیر معینہ عرصہ کے لئے برقرار نہیں رکھا جا سکتا اس فوجی حکمتِ عملی اور پالیسی سازی کو اس وقت قوم کی خاموش تائید حاصل ہو چکی ہے اور لگتا ہے کہ مستقبل میں بھی کوئی سیاسی حکومت اس حکمتِ عمل کو تبدیل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہو گی۔

مزید : کالم