ٹرانسپرنسی ا نٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ، NABکی کامیاب حکمت عملی کا اعتراف

ٹرانسپرنسی ا نٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ، NABکی کامیاب حکمت عملی کا اعتراف
ٹرانسپرنسی ا نٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ، NABکی کامیاب حکمت عملی کا اعتراف

  

فیصل خان

پاکستان کے لئے انتہائی عزت اور فخر کی بات ہے کہ ٹرانسپیر نسی انٹرنیشنل نے اپنی 2015 ؁ء کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کا کرپشن پرسپشن انڈیکس (CPI) 126 سے 117 تک نیچے آگیاہے اس کے علاوہ سارک ممالک میں پاکستان واحد ملک ہے جس کی ریٹنگ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی گزشتہ سال کی رپورٹ میں بھی پاکستان کی ریٹنگ 175 ممالک میں سے 126 تک نیچے آگئی تھی۔ یہ امر جہاں پاکستان کے لئے خوشی اور اطمینان کا باعث ہے وہاں ان عوامل کو بھی مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے جن کی بدولت پاکستان کی کرپشن پرسپشن انڈیکس میں گزشتہ 2 سالوں میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ اگر ہم حالات اور حقائق کا جائزہ لیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چےئرمین قمرزمان چوہدری نے گزشتہ دو سالوں سے قومی احتساب بیورو کے چےئرمین کاجب سے منصب سنبھالاہے اس وقت سے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رینکنگ میں نہ صرف کمی واقع ہوئی ہے بلکہ پلڈاٹ کی رپورٹ کے مطابق عوام کا نیب پر اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے جو کہ42 فی صد ہے جو کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بہتر ہے۔

قومی احتساب بیورو (NAB) کے موجودہ چئیرمین قمر زمان چوہدری اس لحاظ سے پاکستان کی تاریخ کے واحد چیئرمین ہیں جن کو حکومت اور اپوزیشن نے ان کی ایمانداری ، تجربہ، شاندار اور بے داغ ماضی کی بدولت متفقہ طور پر قومی احتساب بیورو کا چئیرمین نامزد کیا تھا۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمرزمان چوہدری کے لئے اس عہدے پر تعیناتی نہ صرف ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لیئے ایک بہت بڑا چیلنج تھا ۔انہوں نے اس چیلیج کا مقابلہ کرنے کے لئے جہاں شبانہ روز سخت محنت کی وہا ں انہوں نے ملک سے بدعنوانی کی خاتمہ کے لئے بہترین حکمت عملی (Strategy) ترتیب دی جس پربلا تفریق عمل کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو نے بدعنوان عناصر کے خلاف شواہد کی بنیا د پر قانون کے مطابق کاروائی کی اور 274 ارب روپے کی لوٹی ہوئی رقم بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائی جو کہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے ۔

آج ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ پورے ملک کی آواز بن چکا ہے ۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمرزمان چوہدری نے اپنے عہدے کا منصب سنبھالنے کے بعد ادارے میں بہت سی نئی اصلاحات متعارف کروائی ہیں

قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمرزمان چوہدری نے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے بھی ذاتی دلچسپی اور اپنی بہترین صلاحیتوں اور تجربہ کا استعمال کرتے ہوئے نیب کو ایک متحرک ادارہ بنا دیا ہے جو ہمہ وقت بدعنوان عناصر کے خلاف بلا تفریق کاروائی کے لئے کوشاں ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمر زمان چوہدری بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی دباؤ اور پریشر کو خاطر میں نہیں لاتے بلکہ میرٹ ، شواہد اور قانون کے مطابق بدعنوان عناصر کے خلاف کاروائی کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمر زمان چوہدری کی زیر صدارت گزشتہ سال نیب کے ڈائریکٹر جنرلز کی بیسویں سالانہ کانفرنس منعقدہوئی تھی۔ قومی احتساب بیورو کے ڈائریکٹر جنرلز کی سالانہ کانفرنس منعقد کرنے کا بینادی مقصد ایک طرف نیب کے تما م علاقائی دفاتر کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا وہاں دوسری طرف چئیرمین نیب کی طرف سے نیب کو مزید موئثر اور فعال ادارہ بنانے کے لئے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کرنے کے علاوہ ان پر عمل درآمدکی رفتارکو مذید تیز کرنا تھا۔ تاکہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے کرپشن پرسپشن انڈیکس (CPI) کو نیچے لانے میں مدد مل سکے۔ اگر دیکھا جائے تو سال 2014ء نیب کی بحالی کا سال تھا اور موجودہ چےئرمین قمر زمان چوہدری نیب کو واپس اپنے کام پر لانے کے لئے کوشاں تھے انہوں نے مسائل اور مشکلات کے جامع تجزیہ کے بعد ادارہ کے کام کرنے کے طریقہ کار اور ڈھانچہ میں اصلاحات کا ایک پروگرام شروع کیا جس سے ادارہ میں نہ صرف نئی روح پیدا ہوئی بلکہ اس میں مقاصد کے حصول، پروفیشنل ازم، شفافیت جیسے کردار بھی پیدا ہوئے جو ادارہ کے مختلف شعبوں میں نتائج کے حصول کیلئے بنیادی اہمیت کے حامل تھے۔ نیب کے موجودہ چےئرمین قمرزمان چوہدری کی ہدایت پر کئے جانے والے اقدامات کے تحت سی آئی ٹی، ایس او پیز کو موجودہ حالات کے مطابق ڈھالا گیا جن میں شکایت سے انکوائری او رانکوائری سے تحقیقات تک 10 ماہ کا وقت مقرر کیا گیا۔ جبکہ عملہ کی استعداد کار میں بہتری کیلئے تربیت بھی فراہم کی گئی جس کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ دو سال کی کاوشوں اور سخت محنت کے بعد نیب ایک بہترین انسداد رشوت ستانی کے ادارہ کی صورت میں سامنے آیا ہے جو اپنی موجودہ افرادی قوت کی استعداد کار کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ 104 تحقیقاتی افسران کی بھرتی سے ایک ماڈل ادارہ بن چکا ہے۔ نئے تحقیقاتی افسروں کو پولیس ٹریننگ کالج سہالہ میں تربیت دی گئی ۔ کرپشن اور وائٹ کالر جرائم جسے جرائم سے متعلق جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کے بارے میںآگاہی فراہم کی گئی یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیور و کا مجموعی طور پر 1999 سے اب تک Conviction Rate تقریباََ75 فیصد ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چےئرمین قمرزمان چوہدری کی قیادت میں نیب اب پہلے سے زیادہ بہتر پوزیشن میں اپنا کام کرنے کا اہل ہے، ٹی سی ایس اور ایم اے کیوز پر نظرثانی سے افسران کے کیرئیر پر بھی خوشگوار اثر پڑا ہے نیب کے افسران کی محنت سے گذشتہ دو سال کے دوران شفافیت میرٹ اور پروفیشنل ازم بڑھانے ہے آج کا نیب ایک نیا نیب ہے۔ نیب نے چےئرمین نیب کی ہدایت پر نیامانیٹرنگ اینڈ ایویلوایشن سسٹم بنایا ہے جس سے اعداد و شمار کو محفوظ طریقہ سے مرتب کرنے بشمول شکایت کا اندراج ، شکایت کی تصدیق، انکوائری، تحقیق اور قانونی کارروائی کے حوالہ سے سسٹم سے استفادہ کرنے میں مدد کے ساتھ ساتھ نئے نظام کے تحت ریجنل بورڈز کے اجلاسوں اور ایگزیکٹو بورڈز کے اجلاسوں سمیت کیسوں کی بریفنگ، ان پر ہونے والے فیصلوں اور اجلاس میں شرکاء کی تعداد، وقت اور تاریخ سمیت مختلف دستیاب سہولیات میسر ہونگی۔ قومی احتساب بیورو کے چےئرمین کی ہدایت پر نیب کے علاقائی بیورز کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایاگیا ہے۔نیب نے تمام علاقائی دفاتر کی جانچ پڑتال کے لئے گریڈنگ سسٹم بھی متعارف کروایا اس کے تحت تمام علاقائی دفاتر کی گزشتہ سال بھی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا تھا جبکہ اس سال جنوری اور فروری میں بھی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جارہا ہے جس کی بدولت تمام علاقائی بیوروز کی خوبیوں اور خامیوں کا پتہ چلتا ہے اور خامیوں پر قابو پانے کے لئے اقدامات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ چیئرمین نیب قمرزمان چوہدری نے ادارے کے اندر بھی احتساب کا عمل شروع کیا اس عمل کے تحت22 نالائق، بد دیانت اور غفلت برتنے والوں کے خلاف قانون کے مطابقکاروائی کی گئی ۔ نیب کے ہیڈکوارٹر میں ایک اینٹیگریٹی منیجمنٹ سیل قائم کیا گیا ہے۔ نیب بدعنوانی کیخلاف زیرو ٹالرننس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ نیب آگاہی اور قانون پر عملدرآمد کے ذریعے ملک بھر میں بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے اور انسداد بدعنوانی کے خاتمے کیلئے بلاامتیاز اور پیشہ وارانہ اہلیت کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ چیئرمین نیب کی ہدایت پر لوگوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے آگاہی اور قانون پر عملدرآمد کی بھرپور مہم شروع کی گئی ہے جو کہ 2016 میں بھی جا ری رہے گا۔ نیب نے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے مختلف سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کو شامل کیا ہے۔ کرپشن کے خاتمے کیلئے نیب نے متعدد اقدامات کئے ہیں جن میں بدعنوانی کے برے اثرات سے لوگوں کو آگاہ کرنے کیلئے ملک بھر کے تمام شیڈول بینکوں کی تمام اے ٹی ایم مشینوں پر نیب کا پیغام ’’کرپشن سے انکار‘‘ کا پیغام درج کیا گیا ہے۔ نیب نے انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر ایوان صدر اسلام آباد میں ایک سیمینار منعقد کیا۔ صدر پاکستان ممنون حسین نے اس سیمینار کی صدارت کی۔ نیب نے ایوان صدر میں ایک واک کا اہتمام کیا جس کی قیادت صدر پاکستان نے کی اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے نیب کی ’’بدعنوانی سے انکار‘‘ مہم میں شرکت کی۔ نیب اور اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے مختلف یونیورسٹیوں کے طالب علموں میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں اس تعاون کی وجہ سے ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں کردار سازی کی 10 ہزار انجمنیں قائم کی گئی ہیں۔ نیب نے ر اولپنڈی اسلام آباد بیورو میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیئے کی جدید سہولیات میسر ہیں۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام کا مقصد معاشرے سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نیب کو جدید آلات سے لیس کرنا ہے قومی احتساب بیورو اپنے موجودہ چےئرمین قمرزمان چوہدری کی قیادت میں پاکستان سے کر پشن کے مکمل خاتمہ کے لئے پر عزم ہے۔ نیب کے افسران کسی دباؤ اور پریشر کے بغیر میرٹ اور شواہد کی بنیاد پر بلاتفریق بدعنوان عناصر کے خلاف اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے۔ ٹرانسپر نسی انٹرنیشنل کی 2015 ؁ء کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کے کرپشن پرسپشن انڈیکس کمی قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کا نہ صرف نتیجہ ہے بلکہ ایک واضح اعتراف ہے۔

مزید :

کالم -