وائیٹنر دودھ مضر صحت نہیں، دنیا بھر میں یہی فروخت ہوتا ہے

وائیٹنر دودھ مضر صحت نہیں، دنیا بھر میں یہی فروخت ہوتا ہے

تعارف : سلیمان منوں ڈیری لینڈ پرائیویٹ لمیٹڈ کے سی ای او ہیں ۔انہوں نے کراچی سینٹ پیٹرک سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور کراچی سے ہیIBA سے ماسٹرز کیا ، تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ڈیری فارمنگ کی طرف خصوصی توجہ دی، وہ ڈیری ملک ایسوسی ایشن کے ممبر بھی ہیں۔ ان کواپنے بھائی ندیم انور اور فیملی کے دیگر افراد کا تعاون حاصل ہے۔ پاکستان چونکہ زرعی ملک ہے ان کے والدین نے انہیں مشورہ دیا کہ یہ بزنس ملک کی خدمت کے ساتھ ساتھ عوام کی صحت کیلئے بھی بہترین ہے۔ انہوں نے لائیو اسٹاک کا شعبہ خاص طورپر چنا۔ ملک میں عوام کی صحت کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے ذہن میں کئی منصوبے ہیں جن پروہ مستقبل میں عملدرآمدکرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ روزنامہ پاکستان نے ان سے خصوصی گفتگو کی جو قارئین کی نذر ہے

بزنس پاکستان : ڈیری فارم کی فیلڈ میں آپ کے آنے کا مقصد کیا تھا ؟

سلیمان منّوں : ملک میں اس وقت عوام کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ کھانے پینے کی غیر معیاری اشیاء کا استعمال ہے اگر آپ دودھ کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہمارے ملک میں کھلا دودھ فروخت ہوتا ہے جو کہ انسانی صحت کیلئے مضر اور غیر معیاری ہے۔ اس وقت ساری دنیا میں کھلا دودھ فروخت نہیں ہوتا بلکہ پیکنگ میں دستیاب ہوتا ہے۔ پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش وہ ممالک ہیں جہاں کھلے دودھ کا استعمال کثرت سے ہے جو کہ انسانی صحت پر مضر اثرات ڈالتا ہے۔ ہماری سوچ یہ تھی کہ پوری دنیا میں جب معیاری دودھ عوام کو فروخت کیا جارہا ہے تو ہم اپنے ملک میں ایسا کیوں نہیں کرسکتے۔ ہم نے بیرون ملک سے آسٹریلین نسل کی گائیں درآمد کی ہیں جو ساری دنیا میں معیاری گوشت اور دودھ کے لیے مقبول ہیں ۔ہمارے ڈیری فارم میں ساتھ ہی ملک پلانٹ ہے جس میں ہم حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کو دودھ کو پیک کرتے ہیں اور پھر اس کی مارکیٹنگ کرتے ہیں۔ مشینوں کے ذریعے کئی مراحل سے اس دودھ کو گذارا جاتا ہے جبکہ گائے سے دودھ حاصل کرنے کا طریقۂ کار بھی جدید تقاضوں کے مطابق ہے اور ہم کبھی بھی معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتے ۔ کسی بھی پروڈکٹ کی کامیابی میں مارکیٹنگ کا ایک اہم کردار ادا ہوتا ہے ۔اس حوالے سے ہم نے مکمل منصوبہ بندی کی اور طویل سوچ بچار کے بعد ہم نے Dayfreshکے نام سے اپنا برانڈ مارکیٹ میں متعارف کرایا ۔آج 6سال گذر جانے کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک کامیاب برانڈ ہے جو صارفین میں اپنی جگہ بناچکا ہے ۔گذشتہ برس ہم UHTکٹیگری میں بھی آگئے ۔ ہمارا واحد نام ہے جو کہ اپنی پروڈکشن کرتے ہیں جبکہ اپنا ہی ڈیری فارم ہے۔ جہاں UHT اور پیسچرائزیشن دونوں ہی طریقہ کار کے تحت دودھ کو محفوظ اور پیک کیا جاتا ہے۔ ہم اس دودھ کو 72186C ڈگری سینٹی گریڈ پر 15 سیکنڈ کیلئے ہیٹ دیتے ہیں اور چند سیکنڈ میں ہم اس کو ٹھنڈا کرتے ہیں اور UHT پراسس میں ہم اس کو 140 سینٹی گریڈ پر لے کر جاتے ہیں 3 یا 4 سیکنڈ میں اس کو ٹھنڈا کردیتے ہیں۔ دونوں پراسس الگ الگ ہیں اور دونوں کے فوائد بھی الگ الگ ہیں ۔ دراصل دودھ میں دو قسم کے بیکٹریا پائے جاتے ہیں جو دو طریقوں سے ختم ہوجاتے ہیں ۔ پہلے جب دودھ کو ہیٹ دیتے ہیں کچھ بیکٹریا اس وقت مرجاتے ہیں اور کچھ کولنگ سے مرجاتے ہیں اور یہ بیکٹریا مزید بڑھنے سے رُک جاتے ہیں ۔ اس عمل کے بعد ٹیٹرا پیک سے جب ہم دودھ کو پیک کرتے ہیں تو اس میں کسی بھی قسم کے جراثیم شامل نہیں ہوتے ۔پیکنگ کی وجہ سے اس دودھ کی عمر 3 مہینے بڑھ جاتی ہے بلکہ باہر ممالک میں یہ عمر اس سے بھی زیادہ ہے کیونکہ امریکا اور یورپ کے مختلف ملکوں میں زیادہ تریو ایچ ٹی دودھ استعمال کیا جاتا ہے ۔ کورٹ کے فیصلے سے عوام میں کچھ غلط فہمیاں پائی جاتی تھیں جو کہ دور ہوچکی ہیں۔ پسچرائزڈ دودھ میں کچھ ایشوز آئے تھے لیکن اب یہ مسائل ختم ہوگئے ہیں ۔ 11 میں سے ایک برانڈ میں ایشو آیا تھا جبکہ باقی کو درست قرار دیا گیا تھا۔ اب ٹیٹرا پیک دودھ کے بعد کھلے دودھ کو بھی چیک کیا جائے گا۔ اگر UHT کا پروسس سمجھ جائیں تو ساری بات سمجھ آجائے گی۔

بزنس پاکستان : ٹی وائٹنر اوردوسرے دودھ میں کیا فرق ہے ؟

سلیمان منّوں : وائٹنر دودھ صرف چائے کیلئے بنایا گیا ہے۔ یہ ویجیٹیبل اور پام آئل سے تیار کیا جاتا ہے ۔اس کا استعمال صرف چائے بنانے کیلئے ہوتا ہے ۔کیونکہ یہ چائے کے ذائقہ کو بڑھادیتا ہے اور یہ ہرگز مضر صحت نہیں ہے ۔ اس کی ڈیمانڈ بھی اچانک بڑھی تھی اور لوگوں کے ذہنوں میں اس سلسلے میں کافی سوال پائے جاتے تھے جو کہ کمپنیوں کی جانب سے دور کئے گئے ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ ٹی وائٹنر ساری دنیا میں فروخت ہوتا ہے ۔ عوام کی تشویش کو دیکھتے ہوئے متعلقہ حکام نے اچھا اقدام کیا اور کمپنیوں کو احکامات دیئے کہ اس کی پیکنگ میں واضح طور پر لکھا جائے کہ یہ دودھ نہیں ہے اور یہ صرف چائے کے استعمال کے لیے ہے ۔ کمپنیوں نے بھی پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ساتھ تعاون کیا اور اپنی پروڈکٹس پر مذکورہ عبارت لکھ دی ۔

بزنس پاکستان :آپ کن جانوروں سے دودھ حاصل کرتے ہیں ؟

سلیمان منّوں : ہمارے ہاں صرف گائیں ہیں جو کہ اعلیٰ نسل کی ہیں اور بیرون ملک سے درآمد کی گئی ہیں ۔ہمارے پاس تربیت یافتہ عملہ ہے جو آسٹریلین گائیوں کی ہر طرح سے نگہداشت کرسکتا ہے ۔ بیرون ممالک سے آئے ہوئے ماہرین بھی ہمارے ڈیری فارمز کا معائنہ کرتے رہتے ہیں ۔

بزنس پاکستان : گائیں اور بھینس کے دودھ میں کیا فرق ہے ؟

سلیمان منّوں : بھینس کے دودھ میں 5 سے 6 فیصد چکنائی ہوتی ہے جبکہ گائے میں اس کی شرح ساڑھے تین سے چار فیصد ہے۔ پوری دنیا میں گائے کا دودھ استعمال ہوتا ہے کیونکہ یہ انسانی جسم کے لیے انتہائی موزوں ہے ۔ ہماری ایک گائے تقریباً26 لیٹردودھ دیتی ہے جبکہ دنیا کے دوسرے ممالک میں یہ تناسب ہم سے کہیں زیادہ ہے خصوصاً امریکا کی بات کی جائے تو وہاں ایک گائے 40لیٹر سے زائد دودھ دیتی ہے ۔

بزنس پاکستان : کیا اس دودھ کو آپ پاؤڈر ملک میں تبدیل کرسکتے ہیں ؟

سلیمان منّوں : جی ہم اس کو پاؤڈرملک میں تبدیل کرسکتے ہیں ۔ پنجاب میں ہم ابھی حال ہی میں UHT پیکنگ میں آئے ہیں۔پنجاب کی بڑی مارکیٹ ہے وہ فائدہ مند ثابت ہوگی ۔ پاکستان میں اس وقت 90 فیصد کھلا دودھ استعمال کیا جاتا ہے ۔ پاکستان میں ڈیری ملک کے شعبہ میں بہت گنجائش ہے اور یہی وجہ ہے کہ بڑی بڑی کمپنیاں یہاں متعارف ہورہی ہیں ۔

بزنس پاکستان :کیا ٹیٹرا پیک کا استعمال مضر صحت ہے؟

سلیمان منّوں : یہ غلط تاثر ہے۔تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ٹیٹرا پیک کا استعمال مفید ہے ۔پورے امریکا اور یورپ بھی ٹیٹرا پیک استعمال ہورہا ہے ۔ مڈل ایسٹ ، سعودی عرب ، دبئی وغیرہ میں بھی پیسچرائزڈ دودھ کا استعمال زیادہ ہے ۔انہوں نے اس شعبے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے ۔ اس وقت پیسچرائز کا ذائقہ لوگوں کو پسند آگیا ہے۔ فرانس ، جرمنی، اسپین میں 96 فیصد UHT کا استعمال ہے وہ لوگ بہت آگے نکل گئے ہیں۔ یورپ کے لوگ اتنے زیادہ آگاہی رکھتے ہیں کہ ٹیٹرا پیک کے لیے جتنے درخت کاٹتے ہیں اتنے ہی درخت لگا بھی دیتے ہیں ۔

بزنس پاکستان : کیا اس کام کیلئے ٹین کے ڈبے استعمال کیے جاسکتے ہیں ؟

سلیمان منّوں : ٹین کا استعمال مفید ثابت ہوسکتا ہے لیکن وہ اس قدر مہنگا ہے کہ ہم اسے استعمال نہیں کرسکتے ۔

بزنس پاکستان : کیا حکومت اس کو شعبے کو صنعت کا درجہ دیتی ہے؟

سلیمان منّوں : ہم اس وقت پنجاب فوڈ اتھارٹی اور دیگر اتھارٹیز کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں تاکہ ریگولیشن بہتر سے بہتر ہوسکیں۔ حکومت نے کچھ عرصہ قبل اس پر ٹیکس عائد کردیے ہیں جس سے دودھ کی قیمتوں پر اثر ات پڑے ہیں ہم تو ملک کی معیشت کو فائدہ ہی دے رہے ہیں جبکہ 90 فیصد توکھلا دودھ فروخت ہورہا ہے ۔ اس سے حکومت کو کوئی زیادہ فائدہ نہیں ہے ۔ اس صنعت کو حکومت زیادہ سے زیادہ ترقی دے ۔اس حوالے سے ہم حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ ہماری بھی کوشش ہے کہ اچھا دودھ لوگوں کو پہنچایا جائے۔ اگر ہم کھلے دودھ پر انحصار کریں گے تو زیادہ ملاوٹ ہوگی۔

بزنس پاکستان : اس شعبے میں مارکیٹنگ کے کیا مسائل ہیں ؟

سلیمان منّوں : لوگوں میں سمجھداری کا فقدان ہے اس فیلڈ کو صنعت کی حیثیت سے کام کرنے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں میڈیا سمیت سب کو اپنا کردار بہتر طریقے سے نبھانا ہوگا۔ UHT پیکنگ لوگوں تک صحت افزا دودھ پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

بزنس پاکستان : ضرورت سے زیادہ یعنی کھپت سے زیادہ دودھ ہوجائے تو کیا کرتے ہیں ؟

سلیمان منّوں : اسے ہم مارکیٹ میں فروخت کردیتے ہیں ، پاؤڈر کا دودھ بنانے والی کمپنیاں اسے خریدتی ہیں۔ ہم دودھ کی کوالٹی،قیمت اور جانوروں کی خوراک کا بہت خیال رکھتے ہیں دو سے ڈھائی سال میں گائے کا بچہ دودھ دینے کے قابل ہوجاتا ہے ۔ اس کا ہمارے پاس پورا خاندانی ریکارڈ ہوتا ہے ۔ہمارے جانوروں کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس کی خوراک کم ہوتی ہے اور دودھ کی پیداوار بہت زیادہ جبکہ بھینس کی خوراک زیادہ ہے اور پیداوار کم ہے اس سے ہمارے ملک کی معیشت پر بھی اثر پڑتا ہے۔

بزنس پاکستان : آپ کی ایسوسی ایشن کا کیا کردار ہے ؟

سلیمان منّوں : ہماری ڈیری ملک ایسوسی ایشن انتہائی ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے، جس کے اکثر اجلاس منعقد ہوتے رہتے ہیں اور اس میں ارکان کی توجہ بہتر کوالٹی کی طرف دلائی جاتی ہے کیونکہ لائیو اسٹاک پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

مزید : ایڈیشن 2