پاکستان میں عام آدمی کی اکانومی بہتری کی جانب گامزن

پاکستان میں عام آدمی کی اکانومی بہتری کی جانب گامزن

عام آدمی کو مہنگائی مارتی ہے اور مہنگائی کو پٹرول کی قیمت....پاکستان پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت کے دوران عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں 150ڈالر سے اوپر چلی گئی تھیں اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں مہنگائی کی آگ لگ گئی تھی ، ہر شے کی قیمت آسمان کو چھونے لگی تھی اور 2013کے عام انتخابات میں عوام کی اکثریت نے بے نظیر بھٹو کا کفن میلا ہونے سے پہلے ہی پیپلز پارٹی سے منہ موڑ لیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مہنگائی کا سبب خالی پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہی نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی حکومت سے قبل جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے دوران امریکی ڈالروں کی ملک میں بہتات نے بھی وہی خطرناک کھیل کھیلا تھا جو پٹرول کی قیمت کو لگی آگ نے کھیلا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن سٹیٹ ڈکلیئر کیا گیا تو امریکہ نے پاکستان پر ڈالروں کی بارش کردی ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں Easy Moneyکا تصور فروغ پایا اور لوگوں نے ریئل اسٹیٹ، سٹاک مارکیٹ اور موٹر گاڑیوں کی اون پرائسز (On Prices)سے ہی اتنا مال کمایا اور اس مال کو اتنی بے دردی سے خرچا کہ ملک میں عام آدمی کے استعمال کی چیزوں کی قلت پیدا ہوگئی جسے پورا کرنے کے لئے چین سمیت دنیا بھر سے روزمرہ استعمال کی اشیاء کی امپورٹ میں بے پناہ اضافہ ہو گیا اور اکانومسٹ پاکستان کی اکانومی کو کنزیومر اکانومی کہنے لگے ۔ راقم کو یاد ہے کہ اس وقت کے مشیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے لاہور میں واقع سٹیٹ بینک کی بلڈنگ میں صحافیوں کے ساتھ ایک ملاقات رکھی جہاں انہیں باور کروایا گیا کہ وہ جس اکنامک گروتھ پر اٹھلا رہے ہیں اس کی حقیقت یہ ہے کہ واہگہ بارڈر پر واقع کوئی زمیندار اپنی زمین کروڑوں میں بیچتا ہے ، پجیرو خریدتا ہے اور مال روڈ پر آکر امپورٹڈ اشیاء کی خریداری کرکے چلا جاتا ہے اور اس بات کا تردد بھی نہیں کرتا کہ دکاندار اس سے امپورٹڈ شے کی قیمت کئی گنا بڑھا کر وصول کر رہا ہے جس سے ملک میں مہنگائی فروغ پا رہی ہے ۔ ڈاکٹر سلمان شاہ سے یہ بھی پوچھا کہ یہ کیسی اکنامک گروتھ ہے کہ ملک میں ایک بھی نئی فیکٹری نہیں لگ رہی ہے اور ہر کوئی انڈسٹریل اسٹیٹ میں پلاٹ خرید کر اسے چھ ماہ میں ڈبل قیمت پر بیچ دیتا ہے تو ڈاکٹر صاحب نے بڑا سادہ سا جواب دیا کہ بھلے کوئی زمیندار زمین بیچ کر امپورٹڈ مال کی خریداری کر رہاہے لیکن اس سے پیسہ تو گردش میں ہے جس کا فائدہ عام آدمی کو ہو رہا ہے ۔چنانچہ یہ تھی کہ جنرل پرویز مشرف کے معاشی مشیروں کی پالیسی کہ کسی نہ کسی طرح پیسے کو گردش میں رکھا جائے تاکہ لوگوں میں اشیاء کی خریداری کی سکت رہے ۔ تاہم اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب جنرل پرویز مشرف کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو اس وقت مہنگائی کی شرح 30فیصد سے اوپر تھی جبکہ دنیا بھر میں اس شرح کو چھ سات فیصد سے آگے نہیں جانے دیا جاتا۔

چنانچہ جب 2008میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو اس وقت کے معیشت دانوں کے لئے سب سے بڑا چیلنج مہنگائی کی اس حد سے زیادہ بڑھی ہوئی شرح کو قابو کرنا تھا ۔ لیکن اس سے قبل کہ وہ مہنگائی کی شرح پر قابو پاتے دنیا بھر میں پٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں جس سے روزمرہ اشیاء کی نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوگیا اور عام آدمی بے بسی کی تصویر بن کر دکانوں پر سجی اشیاء کی حسرت سے تکنے لگا۔

پاکستان مسلم لیگ ن اقتدار میں آئی تو ایک مثبت پیش رفت یہ ہوئی کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تیزی سے گرنے لگی جس سے روزمرہ استعمال کی اشیاء کی نقل و حمل کی لاگت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ۔ دوسری جانب روپے کی قدر کو مستحکم کرنے کے لئے سعودی حکومت نے پاکستان کو اڑھائی ارب ڈالر کی خطیر رقم تحفے میں دی جس سے ڈالر کی قیمت 108روپے سے گھٹ کر 98روپے تک آگئی اور پاکستان کا امپورٹ بل قابو میں آیا۔ ان دو بڑے عوامل کے ظہور پذیر ہونے سے پاکستان کی معیشت کو قدرے سنبھالا ملا لیکن نون لیگ کی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج ملک میں بجلی کی پیداوار میں کمی کو خاتمہ تھا ۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی پی پیز کو گردشی قرضوں کی مد میں خطیر رقم کی ادائیگی بھی تھی ، تاہم حکومت نے آگے بڑھ کر اس چیلنج کو لیا اور بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر پوری توجہ لگادی ۔ اس اثناء میں پاک چین اقتصادی راہداری کی مد میں لگ بھگ 50ارب ڈالر کی خطیر رقم سے پاکستان میں انفراسٹرکچر اور بجلی کے منصوبوں پرچینی سرمایہ کاری کا آغاز ہو گیا۔ سعودی اور چینی سرمائے نے پاکستان میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا ، خاص طور پر انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبوں کے آغاز سے عام آدمی کے لئے نوکریوں کا سامان ہوا تو دوسری جانب دنیا میں پاکستان ابھرتی ہو ئی معیشتوں میں نمایاں مقام حاصل کرگیا۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت مہنگائی قابو میں ہے ؟....اس سوال کا جواب اس ایک سادہ کلئے سے ڈھونڈا جا سکتا ہے کہ کیا پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہو رہا ہے ، اگر تو ہو رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہر شے مہنگائی کی جانب گامزن ہے لیکن اگر ٹرانسپورٹ کرایوں میں استحکام ہے تواشیائے صرف کی قیمتوں میں بھی استحکام ہے ۔ اس کلئے کو اگر موجودہ حالات پر منطبق کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عوام میں اس حوالے سے کوئی تفشیش نہیں پائی جاتی کہ کرایوں میں اضافہ ہواہے یا ہونے جا رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ قیمتوں میں استحکام ہے ۔ ہم نے ایک مختصر کا گھریلو سروے کیا اور چند خواتین اس حوالے سے بات چیت کی تو انہوں نے دلچسپ بات کہی کہ گزشتہ چھ ماہ کا گھریلو خرچ اٹھا کر دیکھا جائے تو پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے اور اگر کسی خاتون کے لئے ہے تو وہ ہے جو اپنی چادر سے زیادہ پاؤں پھیلائے ہوئے ہے وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ نہ تو کوئی بھوکا سو رہا ہے اور نہ کوئی ننگا گھوم رہا ہے۔ ملک میں زرعی شعبہ بھی دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔

ہاں البتہ ہمارے ایکسپورٹر ضرور پریشان ہیں، خاص طور پر ٹیکسٹائل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے کاروباری حضرات نے تو آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں حکومت نے جو استحکام رکھا ہواہے اس سے ان کے منافع جات جامد ہیں اور اگر حکومت نے ڈالر کو 104روپے پر باندھ کر رکھنا ہے تو پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لئے ملک بھر میں ٹیکسٹائل صنعت کے لئے بجلی اور گیس کی قیمت ایک کرے۔ ان کے بقول پنجاب میں سندھ اور سرحد کے مقابلے میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں آدھو آدھ کا فرق ہے جس سے ان کی پیداواری لاگت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے اور ان کی مصنوعات کو بین الاقوامی منڈی میں جگہ نہیں ملتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب یہ صنعتکار اپنے لئے مراعات مانگنے کے لئے یہ بہانہ گھڑا کرتے تھے کہ اگر ان کی معشت کو درست نہ کیا گیا تو ان کی فیکٹریوں میں کام کرنے والا مزدور بے کار ہو جائے گا اور اس کے گھر کا چولہا ٹھنڈا ہو جائے گا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ گزشتہ دو تین برسوں سے ٹیکسٹائل انڈسٹری نے یہ واویلا بند کردیا ہے کہ حکومت نے ان کی مدد نہ کی تو ٹیکسٹائل مزدور بے روزگار ہو جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب ٹیکسٹائل سمیت ہر شعبے کے مزدور کے پاس روزگار کمانے کے دیگر بہت سے ذرائع آگئے ہیں ، خاص طور پر بجلی کی بندش میں خاطر خواہ کمی کے باعث اب کاٹیج انڈسٹری ترقی پا رہی ہے اور بہت سے مزدور گھریلو صنعت چلا کر روزی روٹی کا سامان کر رہے ہیں اور انڈسٹری کے لئے اپنا کیس بنانا مشکل ہو رہا ہے۔

اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں عام آدمی کی اکانومی بہتری کی جانب گامزن ہے اور اب نہ تو مال روڈ پر لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں اور نہ ہی کلرک صاحبان گلے میں روٹیاں لٹکا کر سڑکوں پر لیٹے نظر آتے ہیں۔ طلب اور رسد کے محاذ پر ایک توازن موجود ہے اور خاص طور پر حکومت پنجاب کی جانب سے سستے بازاروں کے انعقاد اور وہاں پر معیار کو یقینی بنانے کے لئے مارکیٹ کمیٹیوں کو فعال کرنے سے صورت حال میں خاطر خواہ بہتری پیدا ہوئی ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ گرمی کے سخت ترین مہینوں میں بجلی کی طلب اور رسد کی کیا صورت حال رہتی ہے اور اگر حکومت واقعی یہ گرمیاں بدترین لوڈ شیڈنگ کے بغیر گزار گئی تو مستقبل میں کبھی ہمیں بجلی کی قلت کا سامنا نہیں ہوگا اور ملک کی معیشت چلے گی نہیں بلکہ دوڑے گی جس سے عام آدمی کی اکانومی بہترسے بہتر ہوتی جائے گی۔

سرخیاں

چھ ماہ کا گھریلو خرچ اٹھا کر دیکھا جائے تو پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے

لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں نہ کلرک گلے میں روٹیاں ڈالے نظر آتے ہیں

ٹرانسپورٹ کرایوں میں استحکام ہے تواشیائے صرف کی قیمتوں میں بھی استحکام ہے

جنرل پرویز مشرف کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو مہنگائی کی شرح 30فیصد سے اوپر تھی

عوام نے بے نظیر بھٹو کا کفن میلا ہونے سے پہلے ہی پیپلز پارٹی سے منہ موڑ لیا

مزید : ایڈیشن 2