سی پیک فنکشنل ہونے کے بعدپاکستان ایشین ٹائیگر بن جائے گا

سی پیک فنکشنل ہونے کے بعدپاکستان ایشین ٹائیگر بن جائے گا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


تعارف!
منظور الحق ملک کا تعلق ایک معروف کاروباری و سماجی گھرانے سے ہے جو لاہور میں مقیم اور ضلع شیخوپورہ کی صنعتی و تاجر برادری میں اپنی خدمات کے باعث عزت و مقام رکھتے ہیں۔جنہوں نے اعلی تعلیم پاکستان میں حاصل کر نے کے بعد کیمیکل اور پیپر کے کاروبار سے منسلک ہوئے اور آج شہباز کیمیکل اور ملک بورڈ پیپر انڈسٹری شیخوپورہ کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور اپنے کاروبار کو محنت اور لگن کے پیش نظرترقی کی منازل پر لے جاچکے ہیں ۔صنعتی و تاجر برادری کے لیے بغیر کسی مفاد کے مسائل کے حل کر نے میں ہر قدم اپنے لیڈر رہنماؤ ں کے ساتھ شانہ بشانہ چلنے اور گراں قدر خدمات کے عوض کاروبار ی برادر ی نے2017-18کے لیے منظور الحق ملک کو فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی) کا نائب صدر اور ریجنل چیئر مین پنجاب منتخب کیا ہے وہ ای سی او کنٹریز سنٹرل کمیٹی ٹریڈ جو کہ پاکستان میں صرف ایک ہے کے ہیڈبھی ہیں جبکہ شیخوپورہ چیمبر آف کامرس کے 2007میں نائب صدر اور 2008میں شیخوپورہ چیمبر کے صدر منتخب ہوئے ہیں ۔ واضح رہے کہ منظور الحق ملک شیخوپورہ چیمبر آف کامرس کے روح رواں ہونے کے باوجو د وہ آج ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر بھی نہیں ہیں ۔منظور الحق ملک یو نائیٹڈ بزنس گروپ کے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر پاکستان انڈسٹریل سپورٹس آرگنائزیشن کے ممبر اور فیصل ٹاؤ ن فٹ بال سٹیڈیم کے سر پر ست اعلی ہیں اور سماجی و فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ان کا شیوہ ہے ۔
وفاقی صنعت و تجارت کے نائب صدر اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی)کے ریجنل چیئر مین منظور الحق ملک سے گزشتہ دنوں "بزنس پاکستان "کے لیے خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایسی نعمتوں، وسائل اور معدنیات سے مالامال ہے جن کی دنیا کے بہت سے ممالک تمنا ہی کرسکتے ہیں ۔ اس کے باوجودبھی آج ہمارا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔ 60ء کی دہائی میں پانچ ممالک ساؤتھ کوریا، ملائشیا، انڈونیشیا، فلپائن اور تھائی لینڈ کی مجموعی برآمدات پاکستان کی برآمدات سے کم تھیں لیکن آج ان میں سے ہر ایک ملک کی برآمدات ہم سے کئی گنا زیادہ ہوچکی ہیں۔پاکستان کو علاقائی تجارت کے فروغ کی جانب زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ علاقائی تجارت کا مطلب یہ نہیں کہ دھڑا دھڑا درآمدات شروع کرکے تجارتی حجم میں اضافہ کیا جائے بلکہ ہمیں علاقائی ممالک کو برآمدات بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان کو وسطیٰ ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ریلوے لنک قائم کرنے چاہیئیں جس سے ان ریاستوں کے ساتھ تجارت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں سب سے زیادہ اہم کردار اس کا صنعتی شعبہ ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں صنعتی شعبے کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے لیکن ہمارا صنعتی شعبہ چند ایسی مشکلات سے دوچار ہے جن کی وجہ سے وہ معاشی ترقی میں اپنا خاطر خواہ کردار ادا نہیں کرپا رہا۔ ان مشکلات میں سرِ فہرست زیادہ پیداواری لاگت ہے۔پیٹرول، بجلی اور گیس ہر صنعت کے لیے خام مال کا درجہ رکھتے ہیں اور اُن کی قیمتوں میں اُتار چڑھاؤکے مثبت اور منفی اثرات ہر صنعت پر مرتب ہوتے ہیں۔ہمیں خطے میں چین اور بھارت جیسے بڑے صنعتی ممالک سے مقابلے کا سامنا ہے۔ ان دونوں ممالک نے اپنے صنعتی اور زرعی شعبے کے لیے خصوصی اقدامات کرکے پیداواری لاگت کو کنٹرول میں رکھا ہے جبکہ ہم زرعی ملک ہونے اور دنیا میں ندی و نالوں کا بہترین نظام رکھنے کے باوجود سبزیاں دوسرے ممالک سے درآمد کرنے پر مجبور ہیں۔
منظور الحق ملک نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صنعتوں میں سرمایہ کاری اور ملازمت کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے تمام نئے صنعتی اداروں کو پانچ سال تک کیلئے انکم ٹیکس میں چھوٹ دی جائے۔صنعتیں لگیں گی تو نو جوانوں کو روزگار ملے گا،بے روزگاری کی وجہ سے امن وامان کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ کاروباری جگہ پر چھاپے مار کر کاروباری برادری کو ہراساں نہ کیا جائے۔ چھاپہ مارنے سے متعلقہ قوانین میں ترمیم کی جائے۔ نان رجسٹرڈ افراد کو ٹیکس سسٹم میں لے کر آیا جائے،ٹیکس ریٹرن سسٹم کو آسان بنایا جائے۔تمام محکموں کا ون ونڈو آپریشن قائم کیا جائے ۔انرجی بحران کو ختم کرنے کیلئے مثبت اقدامات کئے جائے ۔ضلعی سطح پر پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے )کے ہیلپ ڈیسک قائم کئے جائے۔ سیلز اور انکم ٹیکس کا الگ الگ اکاؤنٹس بنائے جائے۔ جی ایس ٹی کو فوری طور پر 15فیصد اور چند سالوں میں سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ملک میں ریونیو کلیکشن کے تمام اداروں کو ملا کر ایک منسٹری یا باڈی بنا دیا جائے اس سے کاروبار شروع کرنے میں آسانیاں پیدا ہو گئی۔وفاقی اور صوبائی سطح کے سیل ٹیکس میں مکمل ہم آہنگی اور مسابقت ہوناچاہیے۔ڈبل ٹیکس سسٹم کو ختم کیا جائے۔حکومت کاروباری برادری کوویلیو ایڈیشن اور ممکنہ پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولت مہیا کرے۔سروس سیکٹر،ہول سیلز،ٹرانسپورٹ اور زرعی سیکٹر کو بھی تک دستاویزی کیا جائے۔ٹیکس ریفینڈ کو یقینی بنایا جائے۔ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلایا جائے ،فرسودہ انفراسٹرکچر کو ختم کرکے نئی پروڈکشن ٹیکنالوجیز کو رائج کیا جائے۔ایف پی سی سی آئی کی بجٹ تجاویز کو اہمیت دی جائے۔ایف بی آر کی طرف سے کاروباری برادری کے ساتھ چوروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے جو کسی صورت برداش نہیں کیا جائے گا۔
ایف پی سی سی آئی ریجنل چےئرمین منظور الحق ملک نے ملک میں تعلیم کے شعبہ میں بہتری کی تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ تجارت و صنعت سے متعلقہ ریسرچ میں کمی،لیبارٹریز کے فقدان کی جانب پاکستان کی یورنیورسٹوں کی توجہ انتہائی کم نظر آ رہی ہے۔ریسرچ کی جانب خصوصی توجہ دی جائے اور ریسرچ کو صرف ریسرچ کے نام پر کیا جانے کی بجائے ،ملکی صنعتی شعبے کی ضروریات کی بنیاد پر کیا جانا چاہئے۔ضلعی سطح پر صنعتوں کو فروغ دینا چاہیے۔لیبارٹریز کو صنعتی فروغ کے لئے بڑھاناچاہیے۔ اکیڈمک انڈسٹری لنکیج کے لئے چیمبرز میں سٹیک ہولڈرزکو اعتماد میں لیا جائے۔ملک میں پرائیوٹ یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جبکہ تعلیم کا معیار کم ہو رہاہے،اس طرف خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔کسی ملک کی ترقی کے لئے اس کی نوجوان نسل کا پروفیشنل سکلڈ ہونا بہت ضروری ہے۔اس لئے نئی پالیساں بناتے وقت تعلیمی شعبے میں تکنیکی مہارت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔سی پیک منصوبے سے ملک میں روزگار کے مواقعوں کے ساتھ ساتھ بہت سارے نئے شعبے نمایاں ہوں گے۔ پاکستان Ease of Doing Businessکے لحاظ سے 190ممالک کی ورلڈ بنک کی رینکنگ میں 144ویں نمبر ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔پاکستان میں نیا کاروبار شروع کرنے کیلئے بے شمار اداروں کے چکر لگانے پڑتے ہیں اگر اس کے لئے ایک ہی پورٹل بنا دیا جائے تو ورلڈ بنک کی رینکنگ میں بہتری آ سکتی ہے۔بجلی کے حوالے سے آن لائن ویپ پورٹل کا اجرا کیا جائے ۔تمام ٹیکس کلیکشن ایجنسز اور حکومتی باڈی کو ضم کر کے ایک ہی اداہ بنایا جائے۔انصاف کی سہولت کے لیے لوئرکورٹ میں ججوں کی تقرری کی جائے۔ججوں کو کیس حل کرنے کا سالانہ ہدف دیا جائے۔
سی پیک کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ چین پاکستان کا بڑا ٹریڈ پارٹنر ہے دونوں ممالک میں متوازن تجارتی حجم کی اشد ضرورت ہے۔پاکستان کی چین سے امپورٹ بڑھتی جار ہی ہے اور ایکسپورٹ کم ہو رہی ہے۔پاکستانی کاروباری برادری کوایف پی سی سی آئی اور ٹریڈ باڈیز کی سفارش پر فوری چین کا ویزا مل جانا چاہیے۔ چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان امن، بھائی چارہ اور تجارت بہت وسیع ہے ۔ سی پیک جیسا میگا پروجیکٹ جس کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان چین کو بہت سی مصنوعا ت ایکسپورٹ کرتا ہے جن میں چمڑا، چمڑے کی مضنوعات، خام اون، کپڑا،سوتی کپڑا، کپڑے کی مصنوعات ، چینی، مچھلی،راب، خام کرومیم کے علاوہ پٹرولیم اور پٹرولیم کی مصنوعات شامل ہیں اور پاکستان چین سے کافی چیزیں درآمد بھی کرتا ہے جن میں صنعتوں کی مشینری ، پارٹس، کیمیکلز ، بجلی کی مصنوعات،فارماسوٹیکل پروڈکٹس، رنگ ، ربر، لوہا، سٹیل، خام روئی اور پلاسٹک پروڈکٹس شامل ہیں۔
منظور ملک نے مزید کہاکہ یچ ای سی کو تعلیمی میدان میں ترقی کے لئے سکالرشپ کی تعداد کو بڑھانے کے مثبت حکمت عملی کے ساتھ ساتھ سکالر شپز حاصل کرنے والوں کو صنعتی شعبے برورئے کار لانے کے لئے مناسب کاوشیں کرنی چاہئیں۔میڈیا کے حوالے سے کہاکہ کاروباری برادری اور میڈیا کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہ دور میڈیا کا ہے اور ہم میڈیا کے ساتھ مضبوط تعلقات چاہتے ہیں جس سے کاروباری مسائل کی نشاندہی ہوگی اور مسائل حل ہوگئے۔رٹیل سیکٹر سے متعلق ایک کا سوال کا جواب دیتے ہوئے ریجنل چےئرمین ایف پی سی سی آئی نے کہاکہ رٹیل سیکٹر کی نشونما نہایت ضروری ہے ، رٹیل سیکٹر، زراعت اور مینوفیکچرنگ کے بعد پاکستان کا تیسرا بڑا سیکٹر ہے جو جی ڈی پی کا 18 فیصد ہے جس کی مالیت 152 ارب ڈالر ہے جو سالانہ 8 فیصد بڑھ رہی ہے۔ پاکستان براعظم ایشیاء میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ممالک میں سرفہرست ہے ۔ مہم جگرافیائی کے حوالے سے خطے کی سب سے اہم جگہ پر واقع ہیں جہاں سے دنیا بھر کی تجارت (Gobal Trade)بہت آسانی سے ہو سکتی ہے ۔لوگوں کی مناسب ٹریننگ کی جائے ۔ ٹریننگ ترقی پریز ممالک کی ڈویلپمنٹ میں اہم کردار ادا کرتی ہے ٹریننگ کے بہت سے فوائد ہیں ۔تاہم بزنس کے لحاظ سے ہم پیدوار میں اضافہ، عالمی مارکیٹ میں مہارت اور لیبر ایکسپور ٹ نمایاں ہیں۔ہمارے ساتھ انڈیا، چائنہ ،ایران اور افغانستان کے زمینی راستے پاکستان کی سرزمین کو GCC,EU,North Africa کی عالمی منڈیو ں تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے پر ضرورت اس بات کی ہے کہ Human Resource Capital پر خاص توجہ دی جائے ۔
پاکستان میں تجارتی سرگرمیوں سے متعلق انہوں نے کہاکہ پاکستان تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت ہے جو دنیا میں پانچویں بڑی کنزیومر مارکیٹ جس کی آبادی 20 کروڑ سے زائد ہے جبکہ کیمیکل انڈسٹری مسلسل ترقی کر رہی ہے جس میں کاروبار کرنے کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔سی پیک اور کاروبار دوست پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کو کاروبار اور سرمایہ کاری کے لئے پسند کیا جا رہا ہے۔ پاکستان تمام ہمسائیہ ممالک کے زیادہ سے زیادہ تجارتی سر گرمیاں اوراچھے تعلقات چاہتا ہے۔ کاروباری مواقعوں پر روشنی ڈالتے ہوئے منظور ملک نے کہا کہ سی پیک پاکستان میں سب سے بڑی غیرملکی سرمایہ کاری ہے جو اگلے تین سال تک ملک میں آئے گی۔ سرمایہ کاری سے پاکستانی مارکیٹ کو دنیا بھر میں پذیرائی ملے گی اور کاروباری سر گر میاں پروان چڑھنے اور غیر ملکی سر مایہ کاری کے فروغ سے پاکستان کی معیشت پھلے پھولے گی اور سی پیک کے فنگشنل ہونے کے بعد پاکستان خطے میں معاشی لحاظ سے ایشین ٹائیگر بن جائے گاجس کے لیے پاکستان کے سرمایہ کاروں کو بھی اپنا مثبت و کلیدی کر دار ادا کر نا ہو گا ۔

مزید :

ایڈیشن 2 -