دُنیائے ادب کے روشن ستارے اور سینئر بیورو کریٹ مختار مسعود کا انتقال

دُنیائے ادب کے روشن ستارے اور سینئر بیورو کریٹ مختار مسعود کا انتقال

دُنیائے ادب کے روشن ستارے، صاحبِ طرز ادیب، ممتاز دانشور اور سینئر بیورو کریٹ جناب مختار مسعود بھی ہم سے ہمیشہ کے لئے جُدا ہو گئے۔وہ دِل کے مریض تھے اور کچھ عرصے سے مسلسل بیمار چلے آ رہے تھے۔ انہوں نے91سال عمر پائی،اُنہیں ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں شادمان لاہور کے قبرستان میں سپردِخاک کیا گیا۔ مختار مسعود 1926ء میں علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ماسٹر ڈگری حاصل کی۔بعدازاں اُن کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آ گیا۔ مختار مسعود کے والد شیخ عطا اللہ کو ادب اور تحریکِ آزادی سے دلچسپی تھی۔انہوں نے1944ء میں علامہ اقبال کے388خطوط پر مبنی دو کتب بڑے اہتمام سے شائع کروائی تھیں۔ مختار مسعود اپنے استاد مزاح نگار رشید احمد صدیقی اور زمان�ۂ طالب علمی کے دوست مشتاق احمد یوسفی سے متاثر تھے۔انہوں نے اپنی تصانیف آوازِ دوست، سفر نصیب اور لوحِ ایام کے ذریعے ادب میں بہت زیادہ شہرت حاصل کی۔ ان کی تینوں کتابوں نے اِس حوالے سے بھی مقبولیت کے ریکارڈ قائم کئے کہ انہوں نے ادب میں نئے رجحانات کو متعارف کرایا۔ اُن کا علمی کام ہماری ادبی تاریخ میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اُن کی تصنیف ’’آوازِ دوست‘‘ کو یاد گار حیثیت حاصل ہوئی۔ یہ کتاب ان کی پہچان بن گئی تھی۔ اس کے اثرات اُردو ادب پر یقیناًتادیر قائم رہیں گے۔

جناب مختار مسعود نے ادب کے میدان میں یادگار اور اہم خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ بطور بیورو کریٹ بھی بہت نام کمایا اور انتظامیہ کے اہم عہدوں پر فائز رہتے ہوئے ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں۔سول سروس کے امتحان میں کامیابی کے بعد وہ کمشنر کے عہدے تک پہنچے۔ جب وہ لاہور میں ڈپٹی کمشنر تھے تو مینارِ پاکستان کی تعمیر کا کام انہوں نے اپنی نگرانی میں کروایا۔ خصوصاً مینار کی مختف منزلوں پر ہونے والی خطاطی اور نقاشی کے نمونوں کی نہ صرف حتمی منظوری دی، بلکہ اس کے ڈیزائن کو بھی اپنے ادبی ذوق کے حوالے سے شاندار بنایا۔ مختار مسعود پاکستان، ترکی اور ایران کے باہمی تعاون کے ادارے آر سی ڈی کے سیکرٹری جنرل رہے اور تینوں ممالک میں تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا،جبکہ وہ زرعی ترقیاتی کارپوریشن کے چیئرمین اور انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے بھی سربراہ مقرر ہوئے۔ وہ مختلف وزارتوں کے وفاقی سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ ادب اور بیورو کریسی میں اُن کی ناقابلِ فراموش خدمات کے حوالے سے اُنہیں یکساں شہرت اور اہمیت حاصل ہوئی۔ بلاشبہ اُن کے انتقال سے دُنیائے ادب میں اُن کی کمی تادیر محسوس ہوتی رہے گی،جبکہ سینئر بیورو کریٹ کی حیثیت سے ان کو اِس لئے بھی یاد رکھا جائے گا کہ وہ روایتی بیورو کریٹس کی طرح اپنے ماتحتوں اور عوام سے فاصلے نہیں رکھتے تھے، بلکہ نہایت خوش اخلاق اور ہمدرد انسان کے طور پر میل جول رکھتے تھے۔ اُن کی شخصیت حقیقی معنوں میں قابلِ احترام تھی۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے (آمین)

مزید : اداریہ