امن اور مثبت سوچ کا پیغام

امن اور مثبت سوچ کا پیغام
 امن اور مثبت سوچ کا پیغام

  



کہتے ہیں ہمارے تعلیمی ادارے بچوں کو کتابی علم کے سوا کچھ نہیں دے پا رہے، مگر حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ تعلیم کا مقصد ڈگری لینا نہیں، بلکہ معاشرے کے اندر مثبت کردار کے حامل لوگوں کی تیاری ہوتا ہے جو معاشرے اور مُلک کو درپیش مسائل کا حل ڈھونڈ سکیں اور ان میں دہشت گردی کے خلاف، معاشی صورتِ حال کی بہتری اور اس قسم کے بے شمار جھگڑوں سے قوم کو نجات دلائیں۔ گزشتہ دِنوں لاہور گیریژن یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبید ذکریا کی خصوصی ہدایت پر شعبہ نفسیات والوں نے اوپر تلے دو سیمینار کئے تاکہ مستقبل کے معماروں کو ان مسائل کے ادراک سے لے کر حل تک کے لئے تیار کیا جا سکے۔ پہلا سیمینار ڈین ڈاکٹر محمد طاہر کی صدارت میں ہوا، جس میں بچوں کو مثبت سوچ اور اُس سے جڑے فوائد سے آگاہ کیا گیا۔ شعبہ کی چیئرپرسن عظمیٰ الیاس نے سیمینار کی غرض و غایت سے آگاہ کیا۔ راقم الحروف نے مثبت سوچ کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ دُنیا میں مایوس ہو جانے والوں کے لئے معاملات مشکل ہو جاتے ہیں، جس سے نکلنے کے لئے انسان کو خدا پر توکل اور اُس کی فراہم کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اُنہیں بہتر طریقے سے استعمال کرنا چاہئے جبکہ دُنیا بھر کے بے شمار لوگ اپنی مثبت سوچ کے ذریعے بڑی ناکامیوں کے بعد نمودار ہوئے۔ نیلسن منڈیلا نے اپنے مقصد کی تکمیل میں جوانی کے28سال صَرف کرنے کے بعد50سال سے زائد برسوں تک سیاست اور حکومت کی اور دُنیا بھر میں مقبول ہوئے۔ مشہور سائنسدان نیوٹن حساب میں فیل تھا، مگر دُنیا کا کامیاب ترین سائنسدان بنا۔ اِسی طرح دُنیا کے سب سے بڑے کاروباری اور دولت مند افراد میں بل گیٹس کی زندگی ناکام تھی، لیکن مثبت سوچ کے ذریعے وہ کوششیں کر کر کے مائیکرو سافٹ کا مالک بنا۔ یہ ضروری نہیں کہ کامیابیوں کے لئے خزانے کی ضرورت ہو، ایک مثبت سوچ رکھنے والا انسان اس کے سہارے خود کو منوا سکتاہے۔ معاشرے میں مثبت رویہ ہو تو اُس کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ڈاکٹر گلزار گل نے طالب علموں کو بتایا کہ زندگی میں حاصل کئے گئے تجربات آپ کو آگے بڑھنے کا راستہ دکھانے کے لئے ہوتے ہیں اور یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ان تجربات سے کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ڈاکٹر گلزار نے کہا کہ ذہانت اور خاص طور پر جذباتی ذہانت ہر بچے اور بڑے میں پائی جاتی ہے اور اس کے استعمال میں عدم برداشت، مثبت کردار سازی اور بہترین رویوں سے وہ تمام اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں، جنہیں کوئی اپنے لئے مقرر کرتا ہے تاہم اس کے لئے گائیڈ لائن کا نظام رائج ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر طاہر نے مقررین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ آج بچوں کے علاوہ ہم سب نے ان باتوں سے کافی سبق سیکھا اور اس سلسلے میں پورا شعبہ نفسیات مبارکباد کا مستحق ہے۔ اس سیریز کا دوسرا سیمینار خود وائس چانسلرایل جی ایس کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس کے مقررین میں فاؤنٹین ہاؤس کے ڈائریکٹر عثمان رشید چودھری اور ڈاکٹر زرغونہ نسیم نے اپنے مقالہ جات پیش کئے۔ عثمان رشید نے بتایا کہ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ بحیثیت قوم ہمیں جس وحدانیت اور رہنمائی کی ضرورت ہے وہ مل رہی ہے کہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے بہت سے لوگوں میں خوف و ہراس اور نفسیاتی مسائل جنم لے رہے ہیں، جس میں کمی کے لئے دہشت گردی کا

خاتمہ اور ایک پُرامن معاشرے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر زرغونہ یاسمین نے انسانوں کو معتدل مزاج رہنے کی تلقین کی اور بتایا کہ بحیثیت مسلمان ہمیں قرآن پاک سے گائیڈلائن حاصل کرنی چاہئے، بلکہ آج کا سائنس دان جو کہہ رہا ہے وہ1400سال پہلے کہہ دیا گیا تھا ’’کہ اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے‘‘ آج اُسے مغرب والے بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر پُرامن اور پُرسکون زندگی گزارنی ہے تو خدا کی دی ہوئی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں۔ وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبید ذکریا نے مقررین کی کہی ہوئی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دُنیا بھر میں امن کا قیام بہت ضروری ہے اور ذہنی صحت کے معاملے میں کوئی بھی رکاوٹ ہو اُسے دور ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا ڈسپلن والی زندگی گزارنا ہر کسی کا حق ہے اور اس حق کے استعمال کے لئے آپ کے اردگرد کا ماحول بہتر ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ برداشت کی کمی بہت سے مسائل کو جنم دیتی ہے اور ایل جی ایس میں ہمارا مشن ہے کہ ہم بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ انسانی شخصیت کے ان جیسے پہلوؤں کی بھی تربیت دیں جو بچوں کو معاشرے کا مفید شہری بنانے میں مددگار ثابت ہو گا۔ وائس چانسلر کی سربراہی میں ’’امن واک‘‘ بھی کی گئی اور انہوں نے شعبہ نفسیات کی کارکردگی کو سراہا اور مقررین میں شیلڈز تقسیم کیں۔

مزید : کالم