درآمدی بیج سے خام ریشم کی پیداوار8ہزار کلو گرام سے تجاوز کر گئی

درآمدی بیج سے خام ریشم کی پیداوار8ہزار کلو گرام سے تجاوز کر گئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(اے پی پی )محکمہ جنگلات پنجاب کے شعبہ سیری کلچر کی دو دہائیوں سے جاری محنت بالآخر رنگ لے آئی،درآمدی سیڈ سے پاکستان میں خام ریشم کی پیداوار8ہزار کلوگرام سے تجاوز کر گئی ہے،اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیر ی کلچر محمد فاروق بھٹی نے اے پی پی کو بتایا کہ گزشتہ سال صرف پنجاب میں غیر ملکی سیڈ سے 4 میٹر ک ٹن پیداوار ہوئی جبکہ رواں سال8میٹر ک ٹن پیداوار ہوئی اور اسی اوسط سے ہم چند برسوں میں دنیا میں سب سے زیادہ ریشم پیداکرنے والے ممالک کی صف میں شامل ہوجائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ طلب پوری نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت دنیا میں46.5فیصد مصنوعی ریشم استعمال ہو رہی ہے جس کے انسانی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نجی شعبہ کے اشتراک سے غیر ملکی سلک سیڈ سے ریشم کی گھریلو صنعت کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کردیا ہے جس سے ملک میں ریشم کی پیداوار کا ہدف حاصل ہونے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جنگلوں میں قیمتی لکڑی کی چوری روکنے کے خلاف مہم کے دوران شہتوت کے درختوں کی بے رحمی سے کٹائی کی گئی جب کہ محکمہ جنگلات کی توجہ دوسری قیمتی لکڑی کو بچانے پر لگی رہی جس کے نتیجہ میں 90ء کی دھائی کے بعدپنجاب میں ریشم سازی کی صنعت زبوں حالی کاشکار ہوگئی ۔انہوں نے کہاکہ چند سال قبل محکمہ جنگلات شعبہ سیری کلچر نے ریشم کی گھریلو صنعت کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کئے، پنجاب کے مختلف علاقوں چھانگا مانگا، چیچہ وطنی، منڈی بہاؤالدین، سرگودھا، فیصل آباد، میاں چنوں ،بہاولپور اور گجرات وغیرہ میں سینکڑوں ایکڑ زمین پر شہتوت کے درخت لگائے گئے اور غیر ملکی سلک سیڈ منگوایا گیاجوکامیاب تجربہ ثابت ہوا۔محمد فاروق بھٹی نے مزید بتایا کہ رواں سال تقریبا 250 غیر ملکی سلک سیڈ پیکٹ نجی شعبہ کے اشتراک سے درآمد کیے گئے جس سے مختلف دیہی علاقوں میں ریشم کے کیڑے پالے گئے۔انہو ں نے کہاکہ محکمہ پی اینڈ ڈی کی رپورٹ 2014ء کے مطابق کم ازکم 5سو میٹرک ٹن خام ریشم کی ڈیمانڈ موجود ہے۔
جو کہ 5فیصد کے حساب سے ہر سال بڑھ رہی ہے،اس کا 15سے 20فیصد غیر ملکی خام ریشم درآمد سے پورا کیا جارہا ہے،پاکستان میں شعبہ ریشم سازی سے وابستہ خاندان خام ریشم مشرق وسطی افغانستان ایران وغیرہ سے منگوا رہے ہیں جو انتہائی مہنگا اور غیر معیاری ہے۔فاروق بھٹی نے بتایا کہ لیبر نہ ہو نے کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک جاپان‘ اٹلی‘ تائیوان اور بلغاریہ وغیرہ نے ریشم پیدا کرنے کی بجائے خام ریشم ترقی پذیر ممالک سے لینی شروع کر دیا ہے جس کے نتیجہ میں ریشم کی پیداوار اور مانگ میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے یہی وجہ ہے کہ افغانستان جوچند سال قبل ریشم سازی کی صنعت سے واقف نہ تھا اب 80میٹرک ٹن سے زائد خام ریشم پیدا کر رہا ہے جبکہ بنگلہ دیش میں ریشم کی پیداوار 50میٹرک ٹن سے تجاوزکر گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا بھر میں ریشم کی ڈیمانڈ میں 5فیصد کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ ریشم پیدا کرنے والا ملک چین ہے جو تقریبا 170ہزار میٹرک ٹن اور انڈیا 30ہزار میٹرک ٹن پیداوار کے حساب سے دوسرے نمبر پر ہے،دنیا بھر میں اس وقت 2لاکھ 40ہزار میٹرک ٹن ریشم پیدا ہو رہا ہے جبکہ اس کی ڈیمانڈ 5لاکھ میٹرک ٹن ہے،اس کمی کو پورا کرنے کے لیے 46.5فیصد مصنوعی ریشم استعمال ہو رہا ہے جس سے انسانی صحت پر منفی اثرات سامنے آرہے ہیں خاص طور پریورپ اور امریکہ کی خواتین میں مصنوعی ریشم الرجی اور جلدی بیماریوں کا باعث بن رہا ہے جس کی وجہ سے مصنوعی ریشم کے استعمال میں کمی آرہی ہے جبکہ قددرتی ریشم کی موجودہ پیداوار میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں روز بروز خام ریشم کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے،پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ریشم کی طلب 5سو میٹرک ٹن ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے نجی شعبہ کے اشتراک سے باقی ریشم درآمد کی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ گھریلو سطح پرخام ریشم کی صنعت کو فروغ کے باعث صرف ایک ماہ میں ڈھائی سو خاندانوں کو 40سے 45لاکھ آمدن ہوئی جبکہ خام ریشم کی پیداوار میں بہتری آئی ہے۔ مقامی ٹھیکیداروں کا کہنا ہے اگر حکومت ریشم سازی کی صنعت پرتوجہ دے تونہ صرف زرمبادلہ بچایاجاسکتاہے بلکہ لاکھوں خاندانوں کو روگاز بھی فراہم کیاجاسکتاہے ۔

مزید :

کامرس -