کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی کا کوئی قانون موجود نہیں

کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی کا کوئی قانون موجود نہیں
 کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی کا کوئی قانون موجود نہیں

  

ماضی میں بہت سے ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں، جن میں بھارت اور پاکستان کی کشیدگی کی بدولت دونوں ممالک کے شہری نہ صرف متاثر ہوئے ہیں، بلکہ درجنوں کے حساب سے پاکستان اور بھارت کی جیلوں میں ہی اپنی زندگیاں پوری کر کے اِس دُنیا سے رخصت ہو کر چلے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے تمام ممالک کے لئے جو قوانین شہریوں کی خاطر نافذ کر رکھے ہیں، اُن میں جنگی قیدیوں سے لے کر عام قیدیوں اور ہائی جیک کردہ بار برداری یا مسافروں والے بحری جہازوں اور ہوائی جہازوں کے بارے میں بھی موجود ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا جب ایک بھاری فوکر ہوائی جہاز ’’گنگا‘‘ لاہور کے ہوائی اڈے پر ہائی جیک کر کے لایا گیا تھا اُس وقت بھی تمام تر فیصلے اقوام متحدہ کے ہی اصولوں کے مطابق کئے گئے تھے۔ مسافروں کی واپسی سے لے کر باقی ماندہ معاملات بھی ٹھیک انہی طریقوں سے چلائے گئے تھے، جو بین الاقوامی طور پر رائج تھے۔ ان طریقوں میں مال و متاع اور انسانی جانوں کے لئے جو قوانین ہیں، وہ سب فریقین پر لاگو ہوتے ہیں۔ البتہ جہاں تک جہاز کو اغوا کرنے والوں کا تعلق ہوتا ہے اس کا فیصلہ وہ مُلک کرتا ہے،جہاں پر کسی بھی دوسرے مُلک کا جہاز اغوا کر کے اُتارا جائے۔۔۔ مثلاً اگر الذوالفقار تنظیم والے پیپلز پارٹی کے لوگ پاکستانی جہاز کو اغوا کر کے دمشق لے گئے تھے تو عالمی قوانین کے مطابق سب سے پہلا کام مسافروں کی سلامتی تھا، لہٰذا تمام مسافروں کو وہاں آزاد کر دیا گیا، تاہم جہاں تک اغوا کنندگان کا تعلق ہے، ان پر دمشق میں ہی مقدمہ چلایا گیا، جبکہ پاکستان کا ملکیتی جہاز بھی پاکستان کو واپس کر دیا گیا تھا۔ آپ دور کیوں جاتے ہیں پاک بھارت کے درمیان ابھی آخری واقعہ میں بھارت کا ایک مسافر بردار جہاز بھارت سے افغانستان کی سرزمین پر لایا گیا تو اس کے بھی تمام مسافر بھارت کو واپس کر دیئے گئے اور جہاز بھی۔ یہ الگ بات ہے کہ بھارت آج بھی بھارتی قید سے بھاگ کر آنے والے والوں کا مطالبہ کر رہا ہے، حالانکہ یہ جہاز نہ تو پاکستانی سرزمین پر اُترا تھا اور نہ ہی ایسا کسی قسم کا مطالبہ پاکستان سے بنتا ہے۔

بھارت اور پاکستان جب سے انگریزی تسلط سے آزاد ہوئے ہیں،اپنی بڑی آبادی اور بڑی فوج کی وجہ سے بھارت مسلسل70برس سے اپنے ہمسایہ ممالک کو تنگ کر رہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ اس کے فوجی اور پولیس اہلکار بھوٹان، بنگلہ دیش اور نیپال میں تو کسی اجازت کے بغیر ہی چلے جاتے ہیں، جہاں تک بنگلہ دیش کا تعلق ہے، وہاں تو فوج محض نمائشی ہے، کیونکہ1971ء سے ہی انہوں نے بھارت کے ساتھ اپنے دفاع کا معاہدہ کر رکھا ہے۔25برس کا معاہدہ تجارت کا بھی تھا کہ بنگلہ دیش کی تجارت صرف بھارت کے ساتھ ہو گی اور اگر دُنیا کے کسی اور مُلک سے بنگلہ دیش کو کچھ منگوانے کی ضرورت پیش آئی تو اس کے لئے بھارت سے باقاعدہ این او سی حاصل کیا جائے گا، تاہم وزیراعظم خالدہ ضیا کے زمانے میں اِس معاہدے کو ختم کر دیا گیا، کیونکہ بھارت اپنی مصنوعات کے ہی نہیں، بلکہ اپنی سبزیوں تک کے نرخ تین گنا سے بھی زیادہ وصول کرتا تھا اور ہندو بنئے دونوں ہاتھوں سے غریب بنگالیوں کو لوٹ رہے تھے۔ ٹرک جو سامان محض چار پانچ گھنٹوں کی دوری سے بھارت سے بنگلہ دیش لاتے تھے اور جس پر صرف10 فیصد کسٹم ادائیگی کرنا پڑتی تھی،وہ سبزی پھل تین چار گنا نرخوں پر بنگلہ دیش میں فروخت کی جاتی تھیں۔ اس صورتِ حال پر بنگالی اِس قدر بوکھلا اُٹھے کہ ایک روز لاکھوں کی تعداد میں ان بنگالیوں نے بنگلہ دیش کے آٹھ دس بارڈرز پر کھڑے سامان سے بھرے بھارتی ٹرک جلا ڈالے اور ڈھاکہ، سلہٹ، چٹا گانگ میں بھی ایسے بازار جلا ڈالے جہاں پر یہ بھارتی سامان ذخیرہ کیا جاتا تھا۔ اِس صورتِ حال سے وزیراعظم خالدہ ضیا بھی پریشان ہو گئیں اور انہوں نے جہاں بارڈرز بند کر دیئے، وہاں پارلیمینٹ میں خطاب کر کے بھارت سے تجارت کا معاہدہ بھی ختم کر دیا اور اعلان کیا کہ بنگلہ دیش اپنی تمام ضروریات کی مصنوعات جہاں سے کم قیمت پر ملیں گی، صرف اُن ممالک سے لے گا۔ اسی اعلان کی بدولت اب چین سے بھی وہاں سامان بھیجا جاتا ہے اور ہندو تاجر بھی کم قیمت پر اپنا مال بنگلہ دیش میں فروخت کرتے ہیں۔ دوسری جانب چین، پاکستان، جرمنی، تھائی لینڈ نے بنگلہ دیش میں کارخانے لگانے بھی شروع کر دیئے ہیں اور بہت سے دوسرے ممالک بھی وہاں سرمایہ کاری میں مصروف ہیں۔

مقصد ان تمام باتوں کا یہ ہے کہ بھارت اپنے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ اِس وقت بدترین سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ صرف پاکستان اور چین ایسے ممالک ہیں جو اِس سلوک کا ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہیں۔ ورنہ سری لنکا بھی اِس لئے خاموش ہونے پر مجبور ہے کہ وہاں بھارت علیحدگی پسندوں کی درپردہ امداد کرتا ہے، جو وہاں کی حکومت کے لئے مصیبت ڈالتے رہتے ہیں۔ ایسی ہی صورتِ حال پاکستان کی ہے جہاں کراچی اور بلوچستان سے تو اب درجنوں کے حساب سے ایسے ثبوت مل چکے ہیں، جنہیں اقوام متحدہ کے سامنے بھی لایا جا چکا ہے اور عالمی سطح پر بھی ہمارے سفارت خانے تفصیلات کو وہاں کے عوام تک بھی پہنچا چکے ہیں۔’’بغل میں چھری مُنہ میں رام رام‘‘ کی حالت یہ ہے کہ جوں ہی میاں نواز شریف کی حکومت2013ء میں یہاں قائم ہوئی، بھارت نے اقتصادی تعلقات کے نعرے لگائے اور ہمارے پاکستانی حکمران بھی پسیج گئے، چنانچہ گوشت ہوں یا سبزیاں بہت سی دیگر مصنوعات سمیت بھارت سے کھلی تجارت کی اجازت دے دی گئی۔ اسی تجارت کی آڑ میں ہی اب بھارت نے اپنا نیٹ ورک یہاں بنا رکھا ہے، ورنہ سبزی، دالیں یا مصالحے فروخت کرنے والے تاجروں کو کیا پڑی ہے کہ وہ مُلک کے کونے کونے میں پہنچیں۔اسی تجارت کی وجہ سے ہماری تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کام کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ اگر محض تجارتی تعلقات رکھنا ہوتے تو ہندو بنئے کی زبان سے آگ نہ برستی۔ آپ نے خود دیکھا کہ کلبھوشن یادیو کے حوالے سے وزیراعظم نریندر مودی نے یہ بیان تو نہیں دیا کہ آئیں ہم دونوں مُلک مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہیں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسے حل کر لیتے ہیں تاکہ تجارت کو بھی مزید پھیلاؤ دیا جا سکے اور تعلقات میں بھی بہتری آئے۔اس کے لئے ضروری ہو تو اقوام متحدہ کے مبصرین کو بھی بُلا لیا جائے اور قرارداد کی روشنی میں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرا دیا جائے، لیکن اس طرف آج تک نہ تو بھارتی وزیر خارجہ کا کوئی بیان آیا ہے اور نہ ہی وہاں کی حکومت کے کسی اور ذمہ دار کا کوئی بیان۔ محض عددی برتری کی بدولت اگر بھارت کو یہ زعم ہے کہ وہ اپنے تمام پڑوسیوں کو زیر کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔ آج کا دور نہ تو مغلیہ دور ہے اور نہ ہی راجاؤں، مہاراجوں کا دور ہے کہ جہاں ہندو راج کا خواب دیکھنے کی کوئی ہمت کر سکے۔ آخر کس حیثیت سے بھارتی وزارتِ خارجہ اب قانونی ہی نہیں،بلکہ جاسوسی کے لئے قونصلر رسائی مانگ رہا ہے۔ قونصلر رسائی صرف ایسے شہریوں کے لئے ہوتی ہے جو دوسرے مُلک میں کسی عام قانون کو توڑنے کی پاداش میں قید ہوں اور اپنی حکومت سے مدد مانگ رہے ہوں یا غلطی سے کوئی ایسا کام کرنے کے قصور وار ہوں، جس کی پاداش میں کسی دوسرے مُلک میں قید ہوں۔

بھارت کی حالت تو یہ ہے کہ بعض اوقات پاکستان میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ بھارتی لڑکیوں کی شادی ہو جائے اور وہ کبھی بھارت اپنے ماں باپ کو ملنے بھارت جائیں تو ایسی لڑکیوں کو جاسوسی کے الزام میں برسوں تک قید میں رکھا جاتا ہے اور انہیں واپس ہی نہیں جانے دیا جاتا۔ یہاں تک کہ ان کی پاکستان میں اولادیں انتظار کر کر کے جوان ہو جاتی ہیں۔ایسے کیسوں میں البتہ قونصلر رسائی یا وزارتِ خارجہ کا دونوں طرف دروازہ کھٹکھٹایا جا سکتا ہے،لیکن جہاں تک ایک مسلمہ جاسوس کا تعلق ہے،جو پاکستان کے صوبہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرانے کے منصوبے کے ساتھ یہاں کام کرتا رہا ہو، اُس کے ساتھ تو کسی رعایت کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ اِس بات میں اب کوئی شک باقی نہیں رہنا چاہئے کہ جو گناہ گار غیر ملکی پاکستان آ کر پاکستان کو توڑنے کی کسی سازش میں شریک ہو گا، اسے پاکستان میں ہی پھانسی کا پھندا نصیب ہو گا۔ ہماری آئی ایس آئی میں کام کرنے والا ایک ریٹائرڈ کرنل نوکری کے جھانسے میں نیپال گیا تو اُسے وہاں سے بھارتی فوج نے اُٹھا لیا۔ ان حالات میں تو صاف طور پر ہمیں اب کسی بھی صورتِ حال کے لئے عوام کو تیار کرنا ہو گا اور ہمارے دفاعی ادارے تو اللہ کے فضل و کرم سے پہلے ہی تیار ہیں۔ ریٹائرڈ اعلیٰ فوجی افسر کسی بھی کام سے نہ تو بنگلہ دیش جائیں نہ ہی بھوٹان، نیپال یا افغانستان و ایران۔ یہی اُن کے لئے زیادہ بہتر ہو گا، بلکہ حکومت اس کے لئے اعلان بھی(بذریعہ سرکلر ) کرے۔

مزید : کالم