سیاچن کے سرفروش مجاہد اور ایک سوال

سیاچن کے سرفروش مجاہد اور ایک سوال
سیاچن کے سرفروش مجاہد اور ایک سوال

  


میجر شہزاد نیر کی ایک نظم ’’سیاچن‘‘ اتنی مقبول ہوئی کہ یہ نظم نہ صرف شاعر کوشہرت کی بلندیوں پر فائز کرنے کا سبب بن گئی، بلکہ ادبی حلقوں میں شہزاد نیر کا نام شاعری کے حوالے سے مستقل طور پر معتبر ہو گیا۔اگر وہ پوری نظم یہاں من و عن، جوں کی توں شائع کر دی جائے تو پھر شاید اور کچھ لکھنے کی ضرورت باقی نہ رہے اور کالم بھی اس نظم کی بدولت ایک نہ بھولنے والی تحریر میں ڈھل جائے۔ مَیں معمولی تبدیلی کے ساتھ شہزاد نیر کی اس آزاد نظم کو غیر منظوم، یعنی نثری شکل میں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کروں گا۔ میرے ایسا کرنے سے شہزاد کی نظم کے حسن وجمال میں کچھ کمی تو واقع ہو سکتی ہے،لیکن میرا یقین ہے کہ میرے دوست شاعر کی شاعری میں دلوں کو موہ لینے والا جو جادو ہے وہ پھر بھی برقرار رہے گا۔۔۔ شہزاد نیر ’’سیاچن‘‘کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ جہاں مَیں ہوں، وہاں پر کوئی ذی نفس نہیں رہتا۔ برف سے ڈھانپے ہوئے ان بلند ترین پہاڑوں پر صرف کاروانِ سخت جاں کے راہ نورد ہی پاکستان کی پاک سرزمین کی حفاظت اور دشمنوں کے ناپاک قدموں کو روکنے کے لئے ہمہ وقت موجود رہتے ہیں۔جہاں برف کے نیچے بھی برف ہی موجود ہے اور بلندی اتنی ہے کہ وہاں سانس لینا بھی ایک فن ہے۔ہوا میں زندگی نہیں ہے۔ موسم نامہربان ہے۔راستے دشمن کے تنگ سینوں کی مانند تنگ اور پھر قدموں کے تلے زمین نہیں، صرف برف،رگوں میں لہو منجمد کر دینے والی سردی، لیکن دلوں میں ایک ہی دھن جو کبھی سرد نہیں ہوتی کہ ہم نے ہر حال میں دفاعِ وطن کا فرض سرانجام دینا ہے۔

شہزاد نیر لکھتے ہیں کہ جہاں مَیں ہوں وہاں سورج بھی مشکل ہی سے نظر آتا ہے۔دھوپ میں بس برائے نام روشنی ہوتی ہے،اس لئے موسم گرما پر بھی سردی کا گمان ہوتا ہے۔برف سبزے تک کو اُگنے نہیں دیتی اور وہاں پھولوں کے رنگوں کا کوئی میلہ نہیں لگتا۔جب مدتوں بعد اپنوں کا کوئی خط پہنچتا ہے تو ہم اسے ہی اپنے لئے پرندے، تتلیاں، جگنو اور گلاب تصور کر کے خوش ہو جاتے ہیں۔ شاعر لکھتا ہے کہ ہم اپنے وطن کی حفاظت کے لئے سیاچن کے پہاڑوں پر ایک ایسی کٹھن زندگی بسر کرتے ہیں کہ جس سے موت بھی پناہ مانگتی ہے، لیکن ہمارا سنگدل دشمن ہم پر بارود کی بارش برسانا پھر بھی نہیں بھولتا۔سیاچن پر ہمیں موسم اور دشمن دونوں سے لڑنا پڑتا ہے، لیکن پھر بھی فوج کے ہر افسر اور جوان کا ایک ہی عزم ہے کہ پاکستان کا پرچم سربلند رہے اور ہمارے پاک وطن کی آزادی پر آنچ نہ آئے۔۔۔میجر شہزاد نیر کی نظم مجھے کبھی بھولتی ہی نہیں، لیکن آج خاص طور پر اپنے قارئین سے اس نظم کے حوالے سے گفتگو کی وجہ ایک فوجی سپاہی کی تصویر ہے۔یہ تصویر مجھے انٹرنیٹ پر کسی دوست نے بھیجی ہے۔سیاچن کے کسی اونچے پہاڑ پر چاروں طرف سے برف میں گھرا ہوا پاک فوج کا ایک سپاہی وطن کے دفاع کے لئے کھڑا ہے۔ اس کے قریب ہی پاکستان کا پرچم اپنی پوری آب و تاب سے لہرا رہا ہے۔اپنی جان سے بھی پیارے پرچم کو کسی لمحے وطن کے جاں نثار اور سرفروش مجاہد نے بوسہ دیا اور یہ تصویر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لی۔میرا یہ ایمان ہے کہ حب الوطنی کا یہ جذبہ صرف ہمارے سرفروش مجاہدوں تک ہی محدود نہیں، بلکہ جنگ کا زمانہ ہو تو شاعروں اور صحافیوں کا قلم بھی تلوار بن جاتا ہے۔وطن کی پکار ہو تو کس پاکستانی کا لہو ہے جو جوش نہیں مارے گا، لیکن کچھ بدباطن اور مردہ ضمیر لوگ ایسے بھی ہیں جو یہ سوال کرتے اور یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ اگر ’’تحریک پاکستان دوبارہ شروع کی جائے تو کتنے فیصد پاکستانی اس میں حصہ لیں گے‘‘؟

اس سوال میں چھپا ہواخبثِ باطن، شرارت اور سازش آپ نے اچھی طرح محسوس کرلی ہو گی۔ یہ سوال بھارت کے کلبھوشن یادیو نے نہیں اٹھایا، جس کو حال ہی میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ بلکہ یہ سوال ایک ’’مقامی‘‘ کلبھوشن یادیو کا ہے۔ جو اکثر اس طرح کے کالے قول لکھنے کی شہرت رکھتا ہے۔سوال دوبارہ پڑھ لیجئے کہ ’’اگر تحریک پاکستان کا پھر سے آغاز ہو تو کتنے فیصد پاکستانی اس میں شامل ہوں گے‘‘؟۔۔۔اس سوال میں پوری پاکستانی قوم پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا گیا ہے اور یہ بیہودہ سوال کرنے والے کے دِل میں چھپا ہوا جواب یہ ہے کہ ہم میں سے اکثریت تحریک پاکستان کی مخالفت کرے گی۔مَیں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ہم میں ہمیشہ میر جعفر اور میر صادق موجود رہے ہیں۔ ہم میں آج بھی کچھ ’’کلبھوشن یادیو‘‘ موجود ہوں گے، لیکن بے ضمیری اور بے حمیتی کی یہ بیماری اتنی بھی عام نہیں ہوئی کہ ہمارے دِلوں میں پاکستان کے لئے محبت نہیں رہی۔ یہ درست ہے کہ پاکستان میں عام آدمی کے لئے روٹی، کپڑے، مکان اور علاج کی سہولتیں میسر نہیں۔ پاکستان میں خوشحالی صرف چند بڑے خاندانوں کی غلام بن کر رہ گئی ہے،لیکن پھر بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان میں جو جتنا غریب ہے،وہ اتنا ہی زیادہ محب وطن ہے۔ بے شرمی اور ڈھٹائی کی وجہ سے اگر کوئی تسلیم نہیں کرتا تو ہمارے پاس اس کا کوئی علاج نہیں،لیکن مَیں نے دیکھا ہے کہ ہمارے مُلک میں عام غریب پاکستانیوں کے پاس حب الوطنی کی دولت فراوانی سے موجود ہے۔ جس طرح ہمارے ملک میں کچھ لوگ جھوٹ اور مایوسی پھیلانے میں ’’خودکفیل‘‘ ہیں،اسی طرح میرا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے عام غریب شہری میں حب الوطنی کا جذبہ بے مثال ہے۔۔۔اور جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ تحریکِ پاکستان کا اگر پھر سے آغاز ہو تو ہم میں سے کتنے فیصد اس میں حصہ لیں گے؟۔۔۔تواس سوال کا جواب بڑا آسان اور سیدھا ہے۔ مَیں یکسر غیر جذباتی ہو کر اس سوال کا جواب دینا چاہتا ہوں۔

تحریک پاکستان کے فوری بعد اور قیام پاکستان کے بعد کے ابتدائی برسوں کی معاشی صورتِ حال اور خراب�ئ حالات کے باوجود آج کے پاکستان کا اگر مقابلہ کیا جائے تو مَیں پورے زور سے اور پورے جوش و خروش سے ایک ہی نعرہ بلند کروں گا کہ ’’قائداعظم زندہ باد‘‘ ۔ مَیں ہر روز دعا کرتا ہوں کہ اللہ قائداعظمؒ کو جنت کے اعلیٰ ترین مقام سے نوازے،جنہوں نے قیام پاکستان کی صورت میں ہم پر احسان عظیم کیا ہے۔لوگ پاکستان ٹوٹنے کی بات کرتے ہیں۔یہ صحیح ہے کہ ہمارے کچھ حکمرانوں کی بداعمالیوں کے باعث اور ہمارے ازلی دشمن بھارت کی ننگی جارحیت کے نتیجے میں پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا،لیکن یہ سچ بھی تو تسلیم کریں کہ سابقہ مغربی پاکستان پر مشتمل آج کا پاکستان اب ایک ایٹمی طاقت بھی ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے ہماری دفاعی صلاحیتیں ناقابل تسخیر ہیں۔

سوال کرنے والے ’’مقامی‘‘ کلبھوشن یادیو سے میرا بھی ایک سوال ہے کہ کیا ہم پاکستانی اگر تحریک پاکستان کے ازسرِ نو شروع ہونے پر اس کا حصہ نہیں بنیں گے تو کیا ہم اکھنڈ بھارت کے لئے شروع کی گئی کسی تحریک میں شریک ہوں گے؟ اس وقت جو اٹھارہ انیس کروڑ مسلمان بھارت میں موجود ہیں، ان کا گاجر مولیوں کی طرح قتل عام دیکھ کر کیا ہم پاکستان کے بجائے بھارت کے شہری ہونا پسند کریں گے۔ کیا مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی اور اس آزادی کی خاطر لاکھوں مسلمان کشمیریوں کی شہادتوں کے بعد بھی پاکستانی کلبھوشن یادیو ہم سے یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ ہم آج کی تاریخ میں تحریک پاکستان کو درست سمجھتے ہیں یا نہیں؟مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی میں شامل ہر کشمیری کی منزل پاکستان سے الحاق ہے۔تحریک آزاد�ئ کشمیر کے ہر شہید کو جب پاکستان کا قومی پرچم پہنا کر قبر میں اتاراجاتا ہے تو وہاں کشمیر کی آزادی کے ساتھ پاکستان کے حق میں بھی نعرے بلند ہوتے ہیں۔ ان سب کا یہ اعلان ہوتا ہے کہ ہندوستان کی تقسیم اور قیام پاکستان کا فیصلہ ہی درست لگا۔ حیرت ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی آزاد�ئ کی تحریک کے ہر علمبردار کے ہاتھوں میں تو پاکستان کا پرچم ہے۔ بھارتی فوج کے درندے کشمیری حریت پسندوں کو شہید تو کر سکتے ہیں، لیکن کشمیریوں کو پاکستان کا پرچم لہرانے سے نہیں روک سکتے،لیکن ایک پاکستانی کلبھوشن یادیو ہم سے پوچھتا ہے کہ ہم تحریک پاکستان کی حمایت کریں گے یا مخالفت؟۔۔۔ کلبھوشن یادیو جی! اس سوال کا جواب کشمیر کی آزادی کے لئے شہید ہونے والوں کے خون کے ہر قطرے میں موجود ہے۔۔۔’’پاکستان زندہ باد‘‘۔

مزید : کالم