وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے لئے ایک مشورہ

وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے لئے ایک مشورہ
 وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے لئے ایک مشورہ

  

میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف بجلی کے حوالے سے بیانات دینے کا سلسلہ ترک کر دیں، کیونکہ لوڈشیڈنگ کے بارے میں ان کے دعوؤں سے الیکٹرانک میڈیا کے پاس ان کے اچھے خاصے وڈیو کلپس موجود ہیں جنہیں وہ ہر اس موقع پر چلا دیتے ہیں جب شہباز شریف لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا کوئی نیا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ شہباز شریف کئی حوالوں سے ایک متحرک بلکہ زیرک سیاستدان ہیں، وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ان کی کارکردگی بھی دوسروں سے کہیں بہتر ہے۔ ترقیاتی کاموں اور دیگر سرگرمیوں میں ان کی دلچسپی اور سوچ کی انفرادیت سب پر نمایاں ہے۔ لیکن جو کام ابھی ہوا نہیں اور سب لوگ اس کے نہ ہونے کی گواہی دے رہے ہیں، اس کے بارے میں کوئی دعویٰ کرنا خوامخواہ خود کو تنقید کے لئے پیش کرنے کے مترادف ہے مثلاً فیصل آباد میں میگا پراجیکٹس کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ بجلی تو ہم نے فراہم کر دی ہے اب اگلے انتخابات کے بعد یہ بھی بتائیں گے کہ اسے استعمال کیسے کرنا ہے جس بجلی کا وہ ذکر کر رہے ہیں، نجانے وہ کہاں ہے، یہاں تو شہروں اور دیہات میں گھنٹوں کے حساب سے لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے اور سخت گرمی میں لوگ جھلس بھی رہے ہیں اور بد دعائیں بھی دے رہے ہیں اس سے پہلے انہوں نے بھارت کو بجلی برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کر دیا تھا۔ ہمارے پاس تو اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بھی بجلی نہیں۔ میں حیران ہوں کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف جیسا حالات کی نبض پر ہاتھ رکھنے والا سیاستدان ایسی باتیں کیوں کر رہا ہے جو زمینی حقائق سے بالکل لگا نہیں کھاتیں۔

بجلی کے حوالے سے شہباز شریف کو لاتعلق رہنے کا مشورہ اس لئے دیا ہے کہ اس کے بارے میں جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے وہ اچھے کام گہنا جاتے ہیں جو وہ صوبہ پنجاب میں کر رہے ہیں بجلی کی فراہمی صوبے کا نہیں وفاق کا کام ہے کیونکہ محکمہ وفاقی حکومت کے تحت چلتا ہے اس کے لئے باقاعدہ دو وزیر موجود ہیں جو آج کل صرف یہی کہتے پائے جاتے ہیں، چونکہ بجلی چوری زیادہ ہو رہی ہے، لائن لاسز بڑھ رہے ہیں اس لئے ان علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے، جہاں لوگ بجلی چوری میں ملوث ہیں اور بل نہیں دیتے۔ یہ عجیب منطق گھڑی گئی ہے اس کا صاف مطلب تو یہ ہے کہ اگر سارے ملک میں بجلی چوری ہونے لگے اور لوگ بل نہ دیں تو پورا محکمہ بند ہو جائے گا مگر کرے گا کچھ نہیں یہ نااہلی اور بددیانتی کی انتہا ہے کہ آپ چوروں کے آگے ہتھیار ڈال دیں۔ اگر اس فارمولے کو درست مان لیا جائے تو پھر ان لوگوں کا احتساب کیسے ہو سکے گا جو واپڈا کی مختلف تقسیم کار کمپنیوں کے اندر موجود ہیں اور بجلی چوری کی ہر واردات میں شامل ہوتے ہیں۔ خود وزراء کے فرنٹ مینوں کا ذکر بھی آتا رہتا ہے اور ملتان میں تو نیب باقاعدہ وزیر مملکت پانی و بجلی کے ایک فرنٹ مین کی میپکو کو کروڑوں روپے نقصان پہنچانے کی مد میں انکوائری کر رہی ہے۔ اگر محکمے نے سادہ سا جواب یہ دینا ہے کہ لائن لاسز کا سبب بجلی چوری ہے اور ہم نے ان علاقوں میں لوڈشیڈنگ بڑھا کر حساب برابر کر دیا ہے تو پھر کون کسی کا احتساب کرے گا۔؟ سو یہ معاملہ اتنا پیچیدہ ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو اس میں ہاتھ ہی نہیں ڈالنا چاہئے یہ تو بڑی عجیب بات ہے کہ ایک طرف وہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے اور بجلی کے وافر ہونے کا اعلان فرماتے رہیں اور دوسری طرف شہروں میں بارہ اور دیہات میں اٹھارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہے۔

مَیں جانتا ہوں کہ لوگ شہباز شریف کی کئی حوالوں سے تعریف کرتے ہیں مگر یہ ساری تعریف اس پنکھے کے نیچے دب جاتی ہے جو وہ مینار پاکستان کے نیچے بیٹھ کر یہ دکھانے کے لئے ہلاتے رہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت پنجاب کو بجلی فراہم نہیں کر رہی اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ شہباز شریف نے پنجاب میں بے تحاشہ ترقیاتی کام کرائے ہیں کئی شہروں کی شکل بدل کر رکھ دی ہے۔ نوجوانوں کی تعلیمی سہولتوں میں اضافے کے لئے سکالر شپس کا دریا بہا دیا ہے، نوجوانوں کے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لئے اربوں روپے کے مختلف پروگرام شروع کئے ہیں، پیف سکولوں کے ذریعے معیاری تعلیم کو مفت کر دیا ہے۔۔۔ ہسپتالوں کو بہتر بنانے اور وہاں ادویات کی مفت فراہمی کے لئے بھی ان کے اقدامات نتیجہ خیز ثابت ہو رہے ہیں۔ پینے کے صاف پانی کے لئے انہوں نے صوبے بھر کے کمشنروں کو ٹاسک دے رکھا ہے اور اس کے لئے اربوں روپے کی گرانٹس بھی جاری کی گئی ہیں، فیصل آباد کے لئے انہوں نے حال ہی میں جو ترقیاتی پیکیج دیا ہے، وہ اس شہر کی تقدیر بدل کر رکھ دے گا۔ یہ سب حقیقتیں اپنی جگہ ہیں، مگر اس کے باوجود شہباز شریف کے الیکٹرانک میڈیا پر صرف وہی وڈیو کلپس چلتے ہیں جن میں انہیں بجلی کے حوالے سے دعوے کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔ کہیں وہ جوش خطابت میں مائیک توڑ دیتے ہیں اور کہیں پورے اسٹیج کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں، اس لئے ان سے یہ گزارش ہے کہ وہ لوڈشیڈنگ کے بارے میں کوئی دعویٰ نہ کریں یہ ان کا شعبہ نہیں، جن کا ہے وہ جانیں اور ان کا کام جانے، خود وزیر اعظم نوازشریف بھی بجلی کے حوالے سے بات کرتے ہیں اور انہیں کرنی بھی چاہئے کہ بجلی کا محکمہ براہ راست ان کی سرپرستی میں چلتا ہے۔

پنجاب اور سندھ کا موازنہ کیا جائے تو ایک واضح فرق نظر آتا ہے، پنجاب ایک ترقی یافتہ صوبہ دکھائی دیتا ہے اور سندھ کی پسماندگی قدم قدم پر نظر آتی ہے۔ کراچی اور لاہور کا موازنہ بھی کریں تو فرق صاف ظاہر ہو جاتا ہے کراچی کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے اور پینے کا پانی بھی وہاں ایک جنس نایاب بنتی جا رہی ہے۔ سٹریٹ کرائمز کے حوالے سے بھی کراچی لاہور کے مقابلے میں ایک تشویشناک صورت حال سے دو چار ہے۔ مگر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ جب بھی وزیر اعلیٰ شہباز شریف پیپلزپارٹی کو ہدف تنقید بناتے ہیں تو پیپلزپارٹی والے ان کے خلاف خم ڈھونک کر سامنے آ جاتے ہیں اور وہی بات دہراتے ہیں جس کا تعلق شہباز شریف کے مینار پاکستان پر پنکھا جھلنے اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی مختلف تاریخیں دینے سے ہے۔ فیصل آباد میں شہباز شریف نے بالکل بجا کہا کہ آصف علی زرداری اگر سی پیک منصوبے کا کریڈٹ لینے کی بات کر رہے ہیں تو وہ اس سوال کا جواب بھی دیں کہ انہوں نے اپنے دور میں اس کا افتتاح کیوں نہیں کیا، اس کی افتتاحی تختی کیوں نہیں لگائی۔؟ ظاہر ہے پیپلزپارٹی کے پاس اس کا کیا جواب ہو سکتا ہے؟ یہ منصوبہ تو ہے ہی اسی دور کا، اس کا کریڈٹ بھی بجا طور پر موجودہ حکومت کو جاتا ہے، مگر جب دوسرے پرتنقید کرنی ہو تو یہ سب کچھ کہاں دیکھا جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی سندھ کے ترجمان مولا بخش چانڈیو، شہباز شریف کے اس بیان پر ان کا وہی اعمالنامہ اٹھا لیتے ہیں جو بجلی کی فراہمی کے حوالے سے اب ان کی کمزوری بنا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا شہباز شریف کریڈٹ تو لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا بھی لیتے تھے، لیکن سوائے مکے دکھانے کے وہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لئے کچھ نہیں کر سکے۔ اب وہ سی پیک کا کریڈٹ لینے کے لئے بھی پورا زور لگا رہے ہیں، مگر وہ تاریخ کو نہیں جھٹلا سکتے۔

یہ ساری صورت حال دیکھ کر ایک چیز واضح ہو جاتی ہے کہ اپوزیشن کے پاس شہبازشریف کے خلاف کوئی مواد موجود نہیں، سوائے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے نوکیلے اور جوشیلے دعوؤں کے۔۔۔ کسی سیانے کا تبصرہ ہے کہ پاکستان پر حکومت کرنا اتنا مشکل کام نہیں جتنا مشکل کام پنجاب پر حکمرانی کرنا ہے۔ ملک کا سب سے بڑا صوبہ اور اس کے تہہ در تہہ مسائل، صوبے کے مختلف حصوں میں ہر وقت جاری رہنے والی سیاسی کشاکش، نیز امن و امان اور سہولتوں کی فراہمی سے جڑے مسائل۔ اس کے باوجود پنجاب حکومت کی موجودگی کا احساس ضرور ہوتا ہے۔ آئیڈیل صورت حال ہرگز نہیں لیکن دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب کے اندر ترقیاتی کام بھی زیادہ ہوتے ہیں اور مجموعی صورت حال بھی بہت بہتر ہے ، شاید یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) سے پنجاب چھیننے کے لئے پیپلزپارٹی بھی بے قرار ہے اور تحریک انصاف بھی۔ مسلم لیگ (ن) کا اگر سیاسی قلعہ مضبوط ہے تو وہ پنجاب کی وجہ سے ہے اور پنجاب اگر مضبوط ہے تو وہ شہباز شریف کی وجہ سے ہے۔ کسی اور شعبے میں شہباز شریف کے دعوؤں کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا، لیکن بجلی کے حوالے سے ان کے دعوے مخالفین کے ہاتھوں میں آیا ہوا ایسا ہتھیار ہیں، جن سے وہ شہباز شریف کی ساری گڈ گورننس پر پانی پھیرنے کی کوشش کرتے ہیں کاش آنے والے دنوں میں شہباز شریف اس پرانی تہمت کو سر سے اتار پھینکیں اور سیاسی مخالفین کو صرف یہ چیلنج کریں کہ آؤ دیکھو پنجاب میں ہماری کارکردگی اور کرو کسی بھی شعبے میں مقابلہ۔ جب بھی دیکھو گے، پنجاب ہر شعبے میں آگے نظر آئے گا۔

مزید : کالم