شامی فوج کی کارروائی، حلب اور حمص سمیت متعدد قصبوں کا کنٹرول حاصل کر لیا

شامی فوج کی کارروائی، حلب اور حمص سمیت متعدد قصبوں کا کنٹرول حاصل کر لیا

دمشق(این این آئی)شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے گذشتہ دو ایک سال کے دوران میں روسی فضائیہ اور اپنی اتحادی ملیشیاؤں کی مدد سے باغیوں کے زیر قبضہ دو بڑے شہروں حلب اور حمص سمیت متعدد قصبوں اور دیہات پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے لیکن وہ وقتاً فوقتاً اپنی بھرپور جنگی کارروائیوں کے باوجود دارالحکومت دمشق کے نواح میں باغیوں کے زیر قبضہ قصبوں اور علاقوں کو واپس نہیں لے سکی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق اب شامی فوج نے دمشق کے تین نواحی قصبوں پر باغی گروپوں کا قبضہ ختم کرانے کے لیے ایک بڑی کارروائی شروع کی ہے۔اس کے لڑاکا طیاروں نے صرف ایک روز میں 70 سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں اور باغیوں کے ٹھکانوں پر زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل بھی داغے ہیں۔دمشق کے ایک مشرقی علاقے سے تعلق رکھنے والے حزب اختلاف کے ایک کارکن احمد محمود نے بتایا کہ رجیم اپنی تمام قوت کو بروئے کار لا رہا ہے۔ دارالحکومت کے نواحی علاقے برزہ ،قابون اور الجوبر شمال سے مشرق کی جانب نیم دائرے میں واقع ہیں۔ان پر باغیوں کا جزوی قبضہ ہے اور وہ یہاں سے شہر پر مارٹر گولے فائر کرتے رہتے ہیں۔وہ ’’مارو اور بھاگ جاؤ‘‘ کی پالیسی پر بھی عمل پیرا ہیں اور وہ شہر میں اپنے مارٹر حملوں سے کسی بھی وقت کاروبار زندگی کو درہم برہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔قابون اور برزہ میں 2014ء میں باغیوں اور حکومت کے درمیان مصالحت کی وجہ سے صورت حال قدرے بہتر ہے۔شامی فوج نے ان دونوں قصبوں کا کئی ماہ تک سخت محاصرہ کیے رکھا تھا مگر سمجھوتے کے بعد باغیوں نے دمشق شہر میں سبزیاں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء لے جانے کی اجازت دے دی تھی اور اس کے بدلے میں شامی حکومت نے خوراک اور دوسری اشیاء ان علاقوں میں لے جانے کی اجازت دی تھی۔یہاں صورت حال پْرامن ہونے کے بعد دسمبر میں شامی فوج نے ملک کے سب سے بڑے شہر حلب کے باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی حصے پر دوبارہ کنٹرول کے لیے اپنی توجہ مرکوز کردی تھی اور سخت محاصرے اور جنگی کارروائی کے حربے کو استعمال کرتے ہوئے اس علاقے میں باغیوں کو شکست سے دوچار کیا تھا یا انھیں ایک سمجھوتے کے بعد شہر سے نکل جانے پر مجبور کردیا تھا۔ مشرقی حلب پر قبضہ شام میں گذشتہ چھے سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران میں صدر بشارالاسد کی سب سے بڑی فتح تھی۔

مزید : عالمی منظر