ترکی، سابق سربراہ سی آئی اے سے فتح گولن کے رابطوں کی تحقیقات شروع

ترکی، سابق سربراہ سی آئی اے سے فتح گولن کے رابطوں کی تحقیقات شروع

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


انقرہ(این این آئی)ترکی میں ریاستی دفتر استغاثہ نے امریکی سینیٹر چک شومر اور خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جان برینن سمیت سترہ شخصیات کے خلاف ان کے ترک مبلغ فتح اللہ گولن کے ساتھ مبینہ رابطوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترک اسٹیٹ پراسیکیوٹرز آفس کی استنبول شاخ کے سربراہ نے امریکا میں مقیم جن 17 شخصیات کے خلاف باقاعدہ چھان بین شروع کر دی ہے، ان میں امریکی سینیٹ کے رکن چک شومر اور جان برینن کے علاوہ سابق امریکی اٹارنی پریت بھرارہ بھی شامل ہیں۔ چک شومر امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ ارکان کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ ہیں۔ استنبول میں ریاستی دفتر استغاثہ کی طرف سے اس چھان بین کا آغاز ترک وکلاء کے ایک گروپ کی طرف سے دائر کی گئی مجرمانہ نوعیت کی ایک شکایت کے بعد کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ دفتر استغاثہ کی طرف سے ان سترہ شخصیات کے گولن تحریک کے ساتھ مبینہ رابطوں کی چھان بین کی جائے گی۔ اس باقاعدہ تفتیش کا آغاز ایک ایسا قانونی اقدام ہے، جس کے نتیجے میں کسی بھی مشتبہ فرد کے خلاف ترک حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش اور ایک دہشت گرد تنظیم کی رکنیت جیسے الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں۔ترک حکومت کا الزام ہے کہ امریکا میں پینسلوانیا میں مقیم ترک مبلغ فتح اللہ گولن اور ان کی تحریک ہی ترکی میں گزشتہ برس موسم گرما میں کی گئی انقرہ حکومت کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کے اصل محرک تھے۔انہی الزامات کے تحت انقرہ حکومت فتح اللہ گولن کی تحریک کو ایک دہشت گرد تنظیم بھی قرار دی چکی ہے جب کہ خود فتح اللہ گولن اپنے خلاف ترک حکمرانوں کے ایسے جملہ الزامات کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -