ٹرمپ کے انتخابی مشیرپر روسی ایجنٹ ہونے کا شبہ، تفتیش کا آغاز

ٹرمپ کے انتخابی مشیرپر روسی ایجنٹ ہونے کا شبہ، تفتیش کا آغاز

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) گزشتہ صدارتی انتخابات میں ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ٹیم کے ایک مشیر کارٹر پیج پر روسی ایجنٹ ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے جس کی بناء پر ان کے خلاف تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اپنے مخصوص ذرائع کی وساطت اور یقین دہانی پر متعلقہ تفتیشی افسر نے اس نمائندے سے ملاقات کی اور نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کچھ معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایف بی آئی اپنے محکمہ انصاف کے ذریعے خصوصی اجازت لینے کے بعد اب ان کی نگرانی کر رہا ہے جس کا انہیں علم ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق ان کی تفتیش گزشتہ صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے حوالے سے ہونے والی وسیع تر تحقیقات کا ایک حصہ ہے لیکن ایک غیر ملک کے لئے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کا معاملہ زیادہ سنگین ہے۔ شواہد ملنے پر اس مشیر کے خلاف الگ مقدمہ عدالت میں جاسکتا ہے جس کی سنگین سزا ہوسکتی ہے۔ مسٹر پیج کا موقف جاننے کیلئے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے فون اٹینڈ نہیں کیا تاہم جوابی ٹیکسٹ پیغام میں انہوں نے بتایا کہ ’’مجھے یہ واضح نہیں ہے کہ میری نگرانی کیوں کی جا رہی ہے۔ ایف بی آئی عدالت میں درخواست دائر کرے گا تو دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے کیونکہ میں نے کوئی خرابی نہیں کی۔‘‘ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ 2016ء میں اعلان کیا تھا کہ انہوں نے کارٹر پیج کو اپنی انتخابی ٹیم میں خارجہ امور کے مشیر کے طور پر شامل کیا ہے۔ قبل ازیں انہوں نے فوجی انٹیلی جنس میں بھی کام کیا تھا اور ان کا ایک غیر سیاسی مالیاتی کیریئر بھی تھا۔ مسٹر پیج کا اپنی سرمایہ کاری کی فرم ’’گلوبل انرجی کیپیٹل‘‘ کے ذریعے روس سے گہرا رابطہ رہا ہے جہاں وہ انرجی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور خدمات فراہم کرتے تھے۔ اس نجی کمپنی میں سرمایہ لگانے والوں کو ظاہر نہیں کیا گیا۔ ایف بی آئی نے اپنی تفتیش میں جو معلومات جمع کی ہیں اس کے مطابق ترکمانستان میں امریکی سفارت خانے نے 9 جون 2008ء کو سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو ایک کانفیڈنشل کیبل بھیجی تھی جس میں بتایا تھا کہ کارٹر پیج اپنے اُس وقت کے حصہ دار جیمز رچرڈ کے ہمراہ ایک آئل کانفرنس میں شرکت کیلئے اشک آباد آئے تھے اور اس وقت وہ مقامی سفارت خانے میں بھی گئے تھے۔ کیبل میں لکھا ہے کہ ان دونوں افراد نے ترکمانستان سے آئل کے لئے نائب وزیراعظم سے ملاقات کی تھی اور انہیں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فنڈ فراہم کرنے میں مدد دینے کی بات چیت کی تھی۔ اسی کیبل میں مزید بتایا گیا ہے کہ انہوں نے روس کی سرکاری آئل کمپنی ’’گیزپروم‘‘ کی حیثیت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کارٹر پیج سابق سوویت ریاستوں کے انرجی کے منصوبوں میں عالمی سرمایہ کاری میں مدد دیتے رہے ہیں۔ تفتیشی افسر کے مطابق کارٹر پیج کا موقف یہ ہے کہ انہوں نے صرف سوویت یونین میں ہی سرمایہ کاری کا کام نہیں کیا وہ امریکہ اور دوسرے ممالک میں بھی اسی نوعیت کا کام کرتے رہے ہیں۔ کارٹر پیج امریکی شہری اور سابق فوجی ہیں۔ امریکی قانون کے مطابق کسی شہری کی نگرانی اور جاسوسی کیلئے جس پر غیر ممالک میں مشکوک کارروائیوں کا شبہ ہو۔ فارن انٹیلی جنس کی نگرانی کی عدالت اجازت دیتی ہے جسے کوئی ثبوت دینا پڑتا ہے۔ کارٹر پیج کی نگرانی کے لئے کیا ثبوت دیا گیا ہے وہ خفیہ ہے جسے تفتیشی افسر فراہم کرنے کو تیار نہیں تھے۔ تاہم کارٹر پیج تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا اتفاق سے ایک روسی جاسوس سے رابطہ ہوگیا جو بظاہر روس کے اقوام متحدہ کے عملے میں شامل تھا۔ کارٹر پیج نے تصدیق کی کہ انہوں نے تین روسی جاسوسوں کے خلاف تحقیقات میں ایف بی آئی سے تعاون کیا تھا۔ انہوں نے اس روسی جاسوس کو اپنے ایک لیکچر کے کچھ حصے فراہم کئے تھے۔ اس کے علاوہ کارٹر پیج نے روس کے بعض قومی اداروں سے بھی رابطے کئے جن میں ماسکو ٹیلی ویژن سٹیشن ’’سارگریڈ‘‘ اور ’’نیو اکنامک سکول‘‘ شامل ہیں۔ اس ٹی وی سٹیشن پر سابق صدر اوبامہ نے پابندی لگائی تھی۔ تفتیشی افسر نے جن معاملات کی سکروٹنی کرنی ہے ان میں روس کی سب سے بڑی آئل کمپنی ’’روز نیفٹ‘‘ کے سربراہ ایگوریچن کی کارٹر پیج کو مبینہ پیش کش ہے کہ اگر امریکہ نے روس پر سے اقتصادی پابندیاں اٹھا لیں تو وہ اس 19 فیصد شیئر کی بروکریج انہیں دے دیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -