مودی سرکار کا انتہا پسند مذاکرات ، بے فائدہ ، مسلم لیگ ن 2018ء تو کبھی لوڈشیڈنگ ختم نہیں کر سکتی : زرداری

مودی سرکار کا انتہا پسند مذاکرات ، بے فائدہ ، مسلم لیگ ن 2018ء تو کبھی لوڈشیڈنگ ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک/ایجنسیاں) پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ وسابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میاں صاحب( نواز شریف ) کو تھکا کر ہرانا ہے ہیرو نہیں بنانا ،وہ کافی تھک چکے ہیں مزید ہم تھکائیں گے ،اگلے جلوسوں میں گونوازگوکے نعرے لگیں گے ،میاں صاحب کا مزاج ہے کہ مشکل میں نہ ہوں تو رابطہ نہیں کرتے ، میں نے بھی اس لئے نہیں کیا کہ ڈیل کا الزام لگ جاتا ، (ن) لیگ سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے صرف سیاسی میدان میں؂ پنجہ آزمائی ہوگی ،میرے دوستوں کو اس لئے اٹھایا گیا تاکہ جو میری طرف آرہے ہیں انہیں ڈرایا جا سکے ، میرے دور میں ایجنسیاں سویلین کوہاتھ نہیں لگاتی تھیں ، دوستوں کے اغوا کی ایف آئی آر چودھری نثار کے خلاف کٹواؤں گا ، جتنے بھی دوست اغوا ہو جائیں کوئی فرق نہیں پڑتا انتخابی مہم چلائیں گے ،اے ڈی خواجہ اچھاہے توکیادوسرے برے ہیں ،قبل از وقت دھاندلی کرنے کیلئے اے ڈی خواجہ کو آئی جی بحال رکھے جانے کی کوششیں ہو رہی ہیں ،لاڑکانہ میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے ، کراچی کے کچرے کا ذکر کرنے والوں کو لاہور موچی گیٹ پر پڑا کچرا کیوں نظر نہیں آتا ، (ن) لیگ آئندہ سال تو کیا کبھی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ نہیں کرسکتی اس لئے کہ سارے منصوبے ان کے اپنے یا دوستوں کے ہوتے ہیں ،صدر کا امیدوار نہیں ہوں ، وزیراعظم کے امیدوار کا فیصلہ پارٹی کے چیئرمین کریں گے ،کہا تھا کہ آپ تین سال ہم ساری عمر رہیں گے وہی ہوا ، اسٹیبلشمنٹ کو کبھی نہیں چھیڑا ،مودی کی انتہا پسندانہ سیاست زیادہ دیر نہیں چلے گی جب تک بی جے پی کی حکومت ہے پاکستان کو بھارت سے مذاکرات نہیں کرنے چاہیءں۔ وہ نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ اس موقع پر چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری ، قمر زمان کائرہ اور دیگر رہنما بھی موجود تھے آصف علی زرداری نے کہا کہ آج میں صدر ہونے کی نسبت زیادہ آزاد ہوں ، بطور صدسکیورٹی رسک کی وجہ سے بڑی پابندیاں تھیں کہ یہاں نہ جاؤ، وہاں نہ جاؤ، شام کے معاملے پر دفتر خارجہ کی اور رائے تھی تاہم میں نے اپنے موقف پر اسٹینڈ لیا، اسٹیبلشمنٹ نے بھی میرے موقف کی تائید کی ، اسٹیبلشمنٹ میری زیادہ تر رائے ما ن لیا کرتی تھی ، پیپلزپارٹی کی حکومت خارجہ پالیسی کے معاملے پر عسکری قیادت سے رائے لیتی تھی، ایسا ہر ملک میں ہوتا ہے ۔ کلبھوشن یادیو کو سزائے موت دینے کا فیصلہ درست ہے ، وہ جاسوس تھا، وہ ہمارے ملک میں کیا لینے آیا تھا، ہم اگر کسی جاسوس کو پکڑیں گے تو بلاشبہ اس کو سزا دیں گے ، جاسوس کی سزا موت ہی ہوتی ہے ، کلبھوشن کراچی اور بلوچستان میں تباہی پھیلانے میں ملوث رہا ہے ، اس کو سزائے موت دینا ہمارا حق بنتا ہے ۔ پیپلزپارٹی کی جنرل پالیسی یہ ہے کہ پھانسی کی سزا نہیں ہونی چاہیے تاہم دشمنوں کیلئے ایسا نہیں ، میں نے اپنے زمانے میں 16ہزار پھانسیاں روک دی تھیں تاہم جاسوس اور ملک دشمنوں کو سزائے موت دینے کی مکمل حمایت کرتے ہیں ، بھارت کی موجودہ حکومت گاندھی کو مارنے والوں سے اپنی شناخت بناتی ہے ، اس حکومت نے انتہا پسندی کی حد کرتے ہوئے گائے کا گوشت کھانے پر موت کی سزا رکھ دی ہے ، جب بھارت نے طے کر لیا ہے کہ پاکستان کے قانون کو نہیں ماننا تو ایسے ملک سے تعلقات بہتر کر کے کیا کریں گے ، میں نہیں سمجھتا کہ مودی کی انتہا پسند سیاست اور پالیسی زیادہ چلے گی، جب تک مودی کی انتہا پسند حکومت موجود ہے پاکستان کو بھارت سے مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں ۔ میں ہر ہفتے تقریباً دو کتابیں پڑھتا ہوں ، کتاب پڑھے یا سنے بغیر سو نہیں سکتا، جب تنہائی محسوس کرتا ہوں تو کتاب پڑھنا شروع کر دیتا ہوں ، آج کل’’اسٹریٹجی آن وار‘‘ کتاب سن رہا ہوں ۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ بچوں کے بغیر زندگی نہیں ہوتی تاہم کسی بھی چیز سے اتنا زیادہ پیار بھی اچھا نہیں ہوتا، جب بلاول اور بختاور پیدا ہوئے تو میں انہیں اٹھایا نہیں کرتا تھا جس پر بی بی شہید سوال کرتی تھیں کہ اٹھاتے کیوں نہیں ہو ، میں کہتا تھا کہ جتنا ان کو قریب لگاؤ گے یہ اتنا ہی گلے لگیں گے تاہم جب چھوٹی بیٹی آصفہ پیدا ہوئی تو اسے میں نے بہت گلے سے لگایا ، آج کے دور میں دل کی بات کسی سے نہیں کی جا سکتی ، مولا کا کرم ہے ہر وقت خوش رہتا ہوں ۔ بھنڈی ، دالیں ، چاول اور روٹی بچپن سے کھاتا آرہا ہوں ، من پسند کھانے ہیں ، بکری کا دودھ کبھی پیتا تھا ، اب جب کبھی موقع ملتا ہے تو اونٹنی کا دودھ پیتا ہوں ، ہماری شناخت ہی اونٹنی ہے ، میں خود جوانی میں ٹریکٹر اور بیل چلاتا رہا ہوں ، خود کھیتی باڑی بھی کرتا رہا ہوں ، ہمارے دور میں کسان غریب نہیں تھا ، ہم زمیندار کو ان کی فصل کا مناسب معاوضہ دیتے تھے تاہم اب زمیندار غریب ہے ، موجودہ حکومت کو زرعی شعبے کے متعلق ذرا بھی علم نہیں ، بلوچستان کی زمینیں بہت زرخیز ہیں ، صرف پانی کی کمی ہے ، ہمارا ملک زرعی ہے ، پانی کا مسئلہ حل کر کے بلوچستان کی زمینوں کو آباد کیا جانا چاہیے ۔ سرے محل میں حقیقت ہوتی تو ہم اس میں رہتے ، مسلم لیگ (ن) نے اپنی سوچ کے مطابق سرے محل کا اسکینڈل بنایا تھا جو اب ختم ہو چکا ہے ، جن لوگوں نے مجھ پر ماضی میں 9جھوٹے مقدمات بنائے میں نے ان سے جمہوری انداز میں انتقام لیا ، انہیں بطورصدر میرا حلف لینا پڑا، اس سے بڑھ کر کیا بدلہ ہو سکتا تھا ۔آصف علی زرداری نے کہا کہ 2013کا انتخاب ہم ہارے نہیں تھے، آر اوز نے اپنا جادو چلایا تھا ، پیپلزپارٹی کے امیدواروں نے 2013کے انتخابات میں 80,80ہزار ووٹ لیا تاہم80ہزار ووٹوں میں سے ایک صفر کاٹ دیا جاتا تھا ، بشری اعتزاز کا لاہور سے متعلق وائٹ پیپر پڑھیں تو تمام حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے ، اگر 2013کے انتخابات کا نتیجہ تسلیم نہ کرتے تو آج جمہوریت نہ ہوتی ، میاں صاحب کو چار سال میں بہت آسانیاں ملیں ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوئیں لیکن وہ ڈلیور کرنے میں ناکام رہے ۔ میں اپنے دوستوں کو کہتا رہا کہ افتخار چو دھری جج نہیں سیاسی جج ہے ، اس نے سیاسی جماعت قائم کر کے میری بات سچ کردی ، وزیراعظم بتائیں کہ چار سال میں کہاں اور کتنے بجلی کے کارخانے لگے ، لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے وعدے اب کہاں گئے ، کہا جاتا تھا کہ لوڈ شیڈنگ 7ماہ میں ختم کردیں گے۔ اگر میں ڈیلنگ کرتا تو ساڑھے 13سال میں نے جیل کیوں کاٹی ہوتی ، ڈیل کی باتیں درست نہیں ، حامد سعید کاظمی چار سال بعد باعزت بری ہوئے ، حکومت نے سابق وفاقی وزیر کو تھرڈ کلاس جیل میں رکھا، جب ہماری حکومت آئی تھی تو ہم نے سب سے پہلے عطاء اللہ مینگل کے بیٹے کو رہائی دی ۔انہوں نے کہا کہ اگلے جلسے میں ضرور ’’گونوازگو‘‘ کا نعرہ لگائیں گے ، ہم دھرنا دینا نہیں چاہتے ، (ن) لیگ کو سیاسی شکست دیں گے ، اگر ہم نے دھرنا دیا تو مولانا سمیع الحق بھی دو لاکھ بندے لا کر اسلام آباد میں بیٹھ سکتے ہیں تو کیا ان کی بات بھی مان لی جائے ، بہت سے سیاسی پارٹیاں موبلائز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ، میں نے کبھی اسٹیبلشمنٹ کو نہیں چھیڑا ، میں نے کہا تھا کہ آپ نے تین سال رہنا ہے ہم نے ساری عمر رہنا ہے اور وہی ہوا۔ ، باہر اس لئے گیا تاکہ خلا پیدا ہو سکے اور باقی فورسز میدان میں آکر وزیراعظم کوتھکائیں،میرا خیال ہے وہ کافی تھک چکے ہیں ، مزید ہم تھکائیں گے ، میاں صاحب کی عادت ہے جب تک مشکل میں نہ آئیں رابطہ نہیں کرتے ، میں نے بھی کبھی انہیں پیغام نہیں بھیجا ، ان سے سیاسی محاذ پر ہی لڑائی لڑیں گے ، اگر ان سے ملاقات ہوتی تو انکے لئے اچھی فضا قائم ہوتی ، مجھ پر ڈیل کا الزام لگتا اور میں کارکنوں کو مایوس نہیں کرنا چاہتا ، چاہے میرے جتنے بھی دوست اغوا ہو جائیں بھرپور طریقے سے لیکشن مہم چلائیں گے ، میرے دوستوں کے اغوا میں وفاقی حکومت ملوث ہے ، چودھری نثار بے بس ہیں تو عہدہ چھوڑ دیں ، ہمارے دور میں ایجنسیاں اس طرح من مانیاں نہیں کرتی تھیں ، نہ سویلین کو ہاتھ لگایا جاتا تھا، صرف ملک دشمنوں کو ہاتھ لگایا جاتا تھا ، آئی جی پولیس کے معاملے پر 18ویں ترمیم کے بعد صوبے کا حق ہیکہ جسے چاہے رکھے جسے چاہے نہ رکھے ، وفاق سے مشاورت کرنا فارمیلٹی ہے ہم نے نام تجویز کئے لیکن وفاقی حکومت نے قبول نہیں کئے،اے ڈی خواجہ کے معاملے پر وہ کام کررہا ہے جس کو اس کو اس کا فائدہ ملنا ہے اور وہ کراچی میں کھیلنا چاہتا ہے ، دھرنے کے دوران اسلام آباد کے آئی جی کو پانچ دفعہ تبدیل کیا گیا، لاہور میں بھی تبدیل کیا گیا ، پھر کیا وجہ ہے کہ سندھ حکومت اپنا آئی جی نہیں لگا سکتی ، قبل ازوقت دھاندلی کیلئے اے ڈی خواجہ کوآئی جی برقرار رکھے جانے کی کوشش ہو رہی ہے۔کراچی کی تین کروڑ آبادی ہے ، کیسے شہر کو ترقی دوں ، کیسے پانی دوں ، کیسے سڑکیں بنائیں ، وفاقی حکومت نے کبھی کراچی کے لئے کوئی ترقیاتی فنڈ نہیں د یئے گئے، تھر میں جو واٹر پلانٹ لگ رہے ہیں ، اس میں 51فیصد ہمارے شیئرز ہیں تاہم وفاقی حکومت کہتی ہے کہ ہم نے لگائے ، نوازشریف تو نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا کریڈٹ بھی خود لیتے ہیں ، چین کیسا تھ سی پیک معاہدہ میں نے سائن کیا۔�آصف علی زرداری نے کہا کہ ہماری کراچی میں پراپرٹی ہے جو بہت پہلے خریدی گئی ، کراچی میں دو بلڈنگ 60کی دہائی میں بنائی گئیں ، لاڑکانہ میں بچوں کی زمین منیجرڈیل کرتا ہے ، میرا وہاں صرف ایک ایکڑ ہے ۔ بی بی شہید کی زمینوں سے اسلامی تقسیم کے مطابق حصہ ملا تھا تاہم اپنا حصہ بیٹیوں کو دے دیاصرف ایک ایکڑ زمین اپنے نام پر رکھی ، شیئرنگ پر کنٹریکشن کا بزنس ہے ، زمینوں کی آمدنی سے سالانہ اخراجات پورے ہوتے ہیں جبکہ پراپرٹی بزنس سے آنے والا پیسہ انویسٹمنٹ میں لگاتا ہوں ۔ بی بی شہید کی نصیحت کے مطابق بلاول کو چیئرمین بنایا گیا ، بلاول بھٹو کی جان کی بہت فکر ہے ، بلاول بھٹو کو گاڑی سے باہر نکلنے سے روکتا ہوں ، بلاول کوسکیورٹی رسک کی وجہ سے روکتا ہوں لیکن وہ نہیں مانتا ۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ صدر کا امیدوار پارٹی میں سے ہوسکتا ہے ، وزیراعظم کے امیدوار کا فیصلہ چیئرمین کریں گے ، میں صدرکا امیدوار نہیں ہوں ۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم باپ بیٹے میں اختلاف کبھی کبھی ہوتا ہے ، زیادہ نہیں ہوتا ، میرے والد بڑے بہادر تھے ، آمروں کے سامنے ڈٹ جاتے تھے جس پر بے حد فخر محسوس ہوتا ہے ، والد اور والدہ سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔ آصف علی زرداری کے دور میں سویلین حکومت نے پہلی مرتبہ آئینی مدت پوری کی ہے ہروقت مل کر کام کرتے ہیں ایک دوسرے کو مشورے دیتے رہتے ہیں۔
زرداری

مزید :

صفحہ اول -