آیت اللہ خامنہ ای شدید علیل ہیں، سابق ایرانی صدر کا انکشاف

آیت اللہ خامنہ ای شدید علیل ہیں، سابق ایرانی صدر کا انکشاف

پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک )فرانس میں جلا وطن کی حیثیت سے مقیم ایران کے معزول صدر ابو الحسن بنی صدر نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایک بار پھر شدید علیل ہیں اور ان کی صحت بہت خراب ہے۔ موجودہ ایرانی فیصلہ سازوں کی کوشش ہوگی کہ ایسے شخص کو سپریم لیڈر بنایا جائے جو خامنہ ای کے نقش قدم پر چلے۔ یہ کام سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، ابراہیم الرئیسی، صادق آملی لاری جانی جیسے لوگ با آسانی کرسکتے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق 1981 میں منصب صدارت سے معزول کیے گئے ابولحسن بنی صدر نے کہا کہ انہیں ایران کے اندر سے اطلاعات ملی ہیں کہ سپریم لیڈر شدید بیمار ہیں۔ایرانی اپوزیشن کے مقرب ایک نیوز ویب پورٹل ایران وائر کو دیے گئے انٹرویو میں بنی صدر نے کہا کہ مہلک مرض خامنہ ای کے پورے جسم میں پھیل چکا ہے،انکی علالت ایران پر امریکی پابندیوں میں تیزی ایک اہم وجہ ہوسکتی ہے۔ سابق ایرانی صدر نے انکشاف کیا کہ ایرانی حکومت کے بعض حلقوں نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایک خفیہ مکتوب بھیجا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ خامنہ ای کا فائدہ اٹھائیں اور تہران پر اقتصادی پابندیاں بڑھائیں تاکہ ایران میں فیصلہ ساز حلقوں پر دباؤ پڑے اور وہ ملک میں سپریم لیڈر کا عہدہ کسی اعتدال پسند شخص کو دینے کی راہ ہموار ہوسکے۔اس خفیہ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ امریکا کو چاہیے کہ وہ عراق کے علی السیستانی کی طرح ایران میں بھی کسی اعتدال پسند شخص کو سپریم لیڈر کے عہدے تک پہنچنے کی راہ ہموار کرے۔بنی صدر سے پوچھا گیا کہ خامنہ ای کے ممکنہ جانشین کون ہوسکتے ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ایرانی فیصلہ سازوں کی کوشش ہوگی کہ ایسے شخص کو سپریم لیڈر بنایا جائے جو خامنہ ای کے نقش قدم پر چلے۔ یہ کام سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، ابراہیم الرئیسی، صادق آملی لاری جانی جیسے لوگ با آسانی کرسکتے ہیں۔

سابق ایرانی صدر

مزید : صفحہ اول