شامی صدر دہشت گرد ، روس حمایت سے دستبردار ہوجائے،برطانوی وزیر خارجہ

شامی صدر دہشت گرد ، روس حمایت سے دستبردار ہوجائے،برطانوی وزیر خارجہ

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک/ آن لائن) برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے شام کے صدر بشارالاسد کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس کو اب اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ اس کا اتحادی فی الواقع ایک زہر ہے، روسی صدر جس ظالم اور جابر کی سرپرستی کرتے چلے آرہے ہیں،اس کے بارے میں سچ کا سامنا کریں، کیمیائی حملے کے بعد شام کے بارے میں مغرب کا نقطہ نظر تبدیل ہوچکا ہے۔ ’’ ٹیلی گراف ‘‘ میں ایک مضمون میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’بشارالاسد کے اتحادی ماسکو کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ دلیل کی جانب ہوجائے‘‘۔ان کے بقول ’’بشارالاسد نے کیمیائی ہتھیار اس لیے استعمال کیے ہیں کیونکہ وہ نہ صرف خوف ناک اور بلا امتیاز تباہی لاتے ہیں بلکہ وہ دہشت زدہ بھی کرتے ہیں‘‘۔ ’’ اس صورت میں تو وہ خود دہشت گرد ہیں، وہ اس طرح انتقام کے پیاسے نظر آتے ہیں کہ انھیں شاید اپنے عوام پر دوبارہ حکومت کرنے کی امید نہیں ہوسکتی تھی‘‘۔برطانیہ ،امریکہ اور ہمارے تمام اتحادیوں کا نقطہ نظر ایک ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ بشارالاسد ہی نے اپنے عوام پر یہ حملہ کیا تھا اور ایسی زہریلی گیس کا استعمال کیا تھا جس پر ایک سو سال پہلے پابندی عائد کردی گئی تھی‘‘۔بشارالاسد روسیوں اور ایرانیوں کی مدد سے اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں اور ان کی مدد سے ہی انھوں نے تمام تر چیرہ دستیوں کے باوجود حلب پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ انھیں ( عوام پر )اپنے مظالم پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔انھوں نے بیشتر جنگ زدہ علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے‘‘۔

برطانوی وزیر خارجہ

مزید : علاقائی