’’جاتی امرا میں بیٹھا نواز شریف‘‘

’’جاتی امرا میں بیٹھا نواز شریف‘‘
’’جاتی امرا میں بیٹھا نواز شریف‘‘

  

بھولے پھر امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ وزیراعظم محمد نواز شریف پانامہ کیس میں نااہل ہوجائیں گے،قانونی بنیادوں پر کیسے ہوجائیں گے اس بارے تو وہ کوئی بات نہیں کرتے مگر خوابوں اور خواہشوں کے محلوں پر محل تعمیر کئے جاتے ہیں ۔اس سلسلے میں تحریک انصاف کے قائد عمران خان عین اسی طرح پر جوش اور پر امید ہیں جس طرح وہ دھرنوں کے دوران ولولے سے بھرے ہوئے تھے۔ کیا عجب صورت بنی ہے کہ جب انتخابات کا کوئی منظر نامہ نہیں تھا تو وہ اپنے کارکنوں کو سیاسی، جسمانی اور مالی طور پر تھکائے دے رہے تھے،جلوس نکالے جا رہے تھے، جلسوں پرجلسے اوردھرنوں پر دھرنے تھے مگر جب تجربہ کار سیاسی جماعتیں انتخابات کے لئے وارم اپ ہو رہی ہیں تو وہ بنی گالہ میں آرام سے بیٹھے ہوئے ایک خواہشوں پر مبنی فیصلے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

ہمارے دوست مولوی سعید اظہر کہتے ہیں کہ میڈیا پر مخولیاتی دہشت گردی کرنے والے اینکروں اور تجزیہ کاروں کی تعداد بارہ یا تیرہ ہے اور ان کا پسندیدہ ترین موضوع پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کواپنا من پسند فیصلہ ڈکٹیٹ کروانا ہے۔یہ تعداد میں بارہ یا تیرہ کہتے ہیں کہ فیصلہ قانونی نہیں جنونی ہونا چاہئے جو سب کچھ ملیا میٹ کر دے، انہیں قانون کے مطابق فیصلے میں اس لفظ کے پہلے دو حرف ’قا‘ تو نظر ہی نہیںآتے، وہ دل کی گہرائیوں سے جانتے اوراندر کھاتے مانتے بھی ہیں کہ قانون کی تحریر کے مطابق فیصلہ نون کے موقف کے مطابق فیصلہ ہو گا مگر اس کے باوجود مسلم لیگ ن کے بہت سارے دوستوں کو بھی خدشات اور تحفظات کا سامنا ہے اور وہ انہیں آپس میں زیر بحث بھی لاتے ہیں۔ کیا وزیراعظم محمد نواز شریف کو کسی عدالتی فیصلے کے نتیجے میں ایوان وزیراعظم سے نکالا جا سکتا ہے، اس خدشے سے مکمل انکار کوئی نہیں کر سکتا کہ واقعی پانامہ کے فیصلے کا یا تواللہ تبارک تعالیٰ کی ذات کو علم ہے یا خود جج حضرات کو۔

چلیں! ان خواہشات کے ساتھ ہی چلتے ہیں جو میاں نواز شریف کوووٹ کی بجائے کسی بھی دوسری طاقت، جو اسٹیبلشمٹ بھی ہو سکتی ہے اور کوئی عدالتی فیصلہ بھی، کے ذریعے ایوان وزیراعظم سے نکالنا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد وہ میدان مار لیں گے، انہی بارہ تیرہ میں سے ایک اینکر صاحب میرے ساتھ ڈیفنس کلب میں ایک دعوت میں تھے، وہ بحث کے دوران شدید غصے میںآ گئے اور اس بات پر اڑ گئے کہ اگر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو عدالت کے ذریعے ایوان وزیراعظم سے نکالا جا سکتا ہے تو نواز شریف کو کیوں نہیں، میں نے عرض کی، میرے حضور، میں مانتا ہوں کہ نکالا تو جا سکتا ہے مگر آپ بھی مان لیجئے کہ نواز شریف کسی صورت بھی یوسف رضا گیلانی نہیں ہیں، وہ کسی عطا اور بخشش سے نہیں بلکہ عوام کی طاقت سے وزیراعظم بنے ہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ نواز شریف کو ان کے حکومت کرنے کے آئینی اور جمہوری حق سے محروم کر دیں اور وہ اسی طرح چپ چاپ لاہور آ کر بیٹھ جائیں جس طرح یوسف رضا گیلانی ملتان جا کے بیٹھ گئے تھے۔ نواز شریف کو اسلام آباد کے ایوان وزیراعظم سے لاہور کے جاتی امرا میں بھیجا جا سکتا ہے مگر یہ عین ممکن ہے کہ جب انہوں نے لاہور آنا ہو، ان کے پاس بطور وزیراعظم خصوصی طیارہ بھی نہ ہو تو وہ ایوان وزیراعظم سے نکلیں، ایکسپریس وے سے ہوتے ہوئے جی ٹی روڈ پر آئیں اور لاہور کا سفر شروع کر دیں، نواز شریف کو ڈھیر کرنے والوں کے خواب دو سو پچاسی کلومیٹر کے اسی سفر میں ہی راکھ ہوجائیں گے جو گوجر خان ، جہلم، گجرات، گوجرانوالہ جیسے شہروں سے لاہور تک کا ہو گا۔ ایوان وزیراعظم میں بیٹھے ہوئے نواز شریف سے جاتی امرا میں بیٹھا ہوا نواز شریف کس قدر زیادہ طاقت ور ہو گا کیا اس کا اندازہ کبھی آصف زرداری ، عمران خان اور ان کے حامیوں نے لگایا ہے؟

مان لیجئے ،پانامہ عوا م کا مسئلہ نہیں ہے، عوام کے مسائل کچھ او رہیں جن کے حل کی طرف ایک طویل عرصے بعد کام شروع ہوا ہے۔ کیا یہ دلچسپ امر نہیں کہ ہمارے کراچی کے دوست جب لاہور آتے ہیں تو اس شہر کو ایسی نظروں سے گھور گھور کر دیکھتے ہیں جیسے کسی دوسرے ملک میں�آ گئے ہوں، وہ حیرت زدہ ہو کر پوچھتے ہیں کہ یہاں کوڑے کے ڈھیر کیوں نہیں ہیں، انہیں بتایا جاتا ہے کہ یہاں کوڑے کے ڈھیر ہی نہیں بلکہ نو گو ایریاز بھی نہیں ہیں جن کا ایک طویل عرصے کے بعد اب کراچی سے بھی خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ وہ فیصل آباد کی ترقی کے حوالے سے ویڈیوز دیکھتے ہیں تو پریشان رہ جاتے ہیں۔ وہ حیران رہ جاتے ہیں کہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر تو پبلک ٹرانسپورٹ سے محروم ہے مگر پنجاب کے چوتھے شہر میں بھی میٹرو کا آغاز کیاجا رہا ہے۔ میں وزیراعظم محمد نواز شریف کی اسلام آباد سے جاتی امرا منتقلی کی خواہشات کے تجزئیے پر واپس آنا چاہتا ہوں جو اس وقت بنیادی موضوع ہے۔ ایسی خواہشات رکھنے والوں کواچھی طرح علم ہے کہ میاں نواز شریف کو اگر ’ سٹیپ ڈاون‘ ہونے کے لئے کہہ بھی دیا جاتا ہے تو قومی کے ساتھ ساتھ چاروں صوبائی اسمبلیاں اپنی جگہ پر موجود رہیں گی جن میں پنجاب کی اسمبلی بھی شامل ہے۔ وقتی طور پر وفاق میں حکومت ختم ہوگی مگر بغیر کسی تاخیر کے حکومت بنانے کی اہلیت رکھنے والی جماعت بھی وہیں موجود ہو گی۔ کیا اس امر سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ نون انتخابی حکمت عملی میں اپنے قائد کی نااہلی کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرے گی۔ وہ اسے سی پیک ، موٹر ویز، بجلی کے کارخانوں سمیت ملکی بہتری کے بہت سارے منصوبوں کے ساتھ جوڑے گی،ہاں، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مسلم لیگ نون میں وہ نواز شریف کی موجودگی میں بڑا لیڈر بن جائے گا تو اس کی خام خیالی دور کرنے کے لئے مشرف کے دور کا حوالہ ہی کافی ہے ، اسے پنجاب میں عبوری طور پرسردار دوست محمد خان کھوسہ کی وزارت اعلیٰ کی مثال بھی دی جا سکتی ہے، کیا خوبصورت شخصیت کے مالک قبائلی سردار وزیراعلیٰ بننے کے بعدپارٹی لیڈر بھی بن گئے؟

ناکام لوگوں کی خواہشات کے کامیاب ہونے کی صورت میں جو منظرنامہ بنتا ہے وہ دکھاتاہے کہ ایوان وزیراعظم میں ایک ایسا وزیراعظم ہو گا جو جاتی امرا سے ہدایات لے رہا ہو گا جبکہ جاتی امرا میں بیٹھے ہوئے نواز شریف کے پاس انتظامی کی بجائے صرف سیاسی مصروفیات ہوں گی۔ آپ چاہے نواز شریف کو سیاستدان مت سمجھیں مگر یہی وہ سیاستدان ہے جسے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے قتل تک کرنے کی کوشش کی مگر وہ اس کے جواب میں پاکستان کا تیسری مرتبہ وزیراعظم بن گیا، کیا لطیفہ ہے کہ ہمارے یہ تجزیہ کار جسے سب سے بڑا سیاستدان سمجھتے ہیں اس نے ایک وفاقی اور قومی جماعت کو ایک صوبے تک محدود کر لیا ہے۔ اگر آپ تھوڑی بڑی بات کرنے دیں تو وزیراعظم نواز شریف کے خواجہ سعد رفیق کے ساتھ سندھ پر بار بار سیاسی حملے پیپلزپارٹی کے آخری قلعے کی مسماری کا بھی اشارہ دے رہے ہیں، مجھے یقین ہے کہ یہ نواز شریف ایک اور بدترین صورتحال میں آپ کو ایک بہترین سرپرائز دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ہم تجزیہ کاروں کے لئے عمومی طور پر پارٹیوں کی سیاست اہم ہے، ہم اس میں جمع تفریق کرتے ہیں اور نتیجے سے ملکی سیاست میں کامیابیوں اور ناکامیوں کے اندازے لگاتے ہیں مگر عمومی سے ہٹ کر مجموعی طور پر سیاسی جماعتوں سے کہیں زیادہ ہمارا وطن اہم ہے۔ اس مملکت خداداد نے ان سات دہائیوں میں نظام کی تباہی کے ہاتھوں بہت زیادہ زخم کھائے ہیں بلکہ اپنا آدھا وجود ہی کھو دیا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ اگر پاکستان کی پیدائش کے بعد اول ربع صدی میں معاملات سیاستدانوں کے ہاتھ میں رہتے، آئین بن جاتا اور انتخابات ہوتے رہتے تو آئینی اور جمہوری عمل کے نتیجے میں پاکستان کے دولخت ہونے امکانات کم سے کم ہوتے چلے جاتے۔ پاکستان اس وقت تعمیر و ترقی کے ایک نئے دور سے گزر رہا ہے اور ماضی کی روایات کو سامنے رکھتے ہوئے مودبانہ عرض کی جا سکتی ہے کہ اب کسی نئی اسٹیبلشمنٹ کو اپنا کھیل نہیں کھیلنا چاہئے چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہو۔ پاکستان ایک جہاز کی صورت ٹیک آف کر رہا ہے تو اس کا رن وے ہموار ہی ہونا چاہئے۔

مزید : کالم