میاں صاحب کو تھا کر ہرانا چاہتا ہوں،نواز شریف 2018ء تک لوڈ شیڈنگ ختم نہیں کر سکتے :زرداری

میاں صاحب کو تھا کر ہرانا چاہتا ہوں،نواز شریف 2018ء تک لوڈ شیڈنگ ختم نہیں کر ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ میں اپنے دل کی بات کسی کے ساتھ نہیں کرتا ،ہمارے اگلے جلسے میں "گو نواز گو"کے نعرے لگیں گے،نواز شریف کو تھکا کر ہرانا ہے۔نواز شریف 2018ء تک لوڈ شیڈنگ ختم نہیں کر سکتے۔مجھے بلی پالنے کا شوق ہے ،دبئی میں بلی رکھی ہوئی ہے جسے میں "بلی جان" کہتا ہوں، کراچی میں اب اپنے ساتھ ایک بلا بھی رکھا ہوا ہے۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی جاسوس ہے ،اس کے خلاف ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں،اسے سزائے موت دینا ہمارا حق ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ میرے اگلے جلسے میں گونوازگوکا نعرہ لگے گا،میاں صاحب کافی تھک چکے ہیں،ان کوتھکاکرہرانا ہے ، ہیر و نہیں بنانا۔ میرے لوگوں کوپولیس نہیں کوئی اوراٹھارہا ،جولوگ میری طرف آنا چاہ رہے ہیں، انہیں ڈرایا جارہا ہے، کتنے بھی لوگ اغواہوجائیں،مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کاکہنا تھا کہ اگر میں نے اب نوازشریف سے ملاقات کی توکہا جائے گاکہ ڈیل کرلی اورکارکن مایوس ہوں گے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی جاوس تھا،اس کو سزائے موت دینا اچھی بات ہے ،وہ ہمارے ملک میں بہت سے دہشتگردی کے واقعات میں ملوث تھا،اسے سزا دینا ہمارا حق بنتا ہے۔بھارت میں جب تک نریندر مودی کی حکومت ہے تب تک کوئی مذاکرات نہیں کرنے چاہیءں،وہ گاندھی کو مارنے والوں سے اپنی شناخت بناتے ہیں۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ بھارت میں اب شدت پسندوں کی حکومت ہے،انہوں نے گوشت کھانے پر بھی پابندی لگادی ہے۔بھارت پاکستان کے وجود کو قبول نہیں کرتا ،ہمارے ملک میں دہشتگردوں کی مدد کرتا ہے ،اس سے کسی قسم کے تعلقات نہیں بنانے چاہیءں۔ صدارت کے دور میں پالیسی بناتے وقت میں اپنی مرضی کرتا تھا لیکن اسٹیبلشمنٹ اورجنرل کیانی کو اعتماد میں لیتا تھا۔آج میں زیادہ آزاد ہوں،سکیورٹی خدشات بھی کم ہیں , بطور صدر انسان ٹارگٹ بن جاتا ہے۔ تنہائی میں مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے،روزانہ 2کتابیں پڑھ کر سوتا ہوں۔آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ بچوں کے علاوہ زندگی کچھ بھی نہیں لیکن کسی سے اتنا زیادہ پیارکرنا اچھا نہیں ہوتا،اسی لئے جیل میں وقت گزارنا میرے لئے مشکل نہیں تھا۔جب بلاول اور بختاور پیدا ہوئے تو ان کو زیادہ وقت نہیں دیتا تھا جس پر شہید بے نظیر شکوہ کرتی تھیں کہ آپ کیوں ان کو زیادہ وقت نہیں دیتے ؟،تو میں ان کو کہتا تھا کہ بچوں کو جتنا زیادہ پیار دو گے یہ اتنا ہی دل کے قریب ہوں گے ،لیکن جب آصفہ پیدا ہوئی تو اس کو میں نے وقت بھی دیا اوردل سے بھی لگایا۔ زرداری نے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا اعلان کر تے ہوئے کہا کہ اب پی پی کے جلسوں میں گو نواز گو کا نعرہ لگے گا، حکمران لوڈ شیڈنگ ختم نہیں کر سکتے، دوستوں کو وفاقی حکومت اغوا ؂کر رہی ہے، چودھری نثار کیخلاف ایف آئی آر کٹوائیں گے، اے ڈی کی خواجہ کی تعیناتی پری پول رِگنگ ہے۔ زرداری نے دل کی خوب باتیں کیں اور اپنا آئندہ کا سیاسی پلان بھی بتا دیا، انہوں ننے کہا کہ حکومت سے مذاکرات ناممکن ہیں، اب کچھ اور ہی ہو گا۔، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے حکومتی دعوؤں کا سوال ا?یا تو سابق صدر بولے یہ لوڈ شیڈنگ ختم نہیں کر سکتے جو کام چار سال میں نہیں ہوا، چھ ماہ میں کیسے ہو گا؟ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھیوں کو وفاقی حکومت اغواکر رہی ہے، چودھری نثار کیخلاف ایف آئی آر کٹوائیں گے۔سابق صدر نے آئی جی سندھ کی تعیناتی کو صوبائی حکومت کا حق قرار دیا اور اے ڈی خواجہ کی تقرری کو پری پول رِگنگ بھی کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ دو ہزار تیرہ میں بھی دھاندلی ہوئی، صرف جمہوریت بچانے کیلئے نتائج قبول کئے، بولے دو ہزار تیرہ میں بھی ہمیں ووٹ ملے مگر ار اوز نے کام دکھایا۔ سابق صدر نے حکومت سے کسی بھی ڈیل کی خبروں کی نفی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی ڈیل نہیں ہوئی، ڈیل کرتا تو تیرہ سال جیل کیوں کاٹتا؟ زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی الیکشن جیتی تو وہ صدارت کے امیدوار نہیں ہونگے سابق صدر نے سندھ میں ترقی نہ ہونے کے الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ جنرل کیانی اور پاشا کو پالیسیوں سے متعلق اعتماد میں لیتا تھا۔ کہ نہ تو ہم دھرنے دیتے تھے اور نہ میرے زمانے میں سویلینز کو اٹھایا جاتا تھا۔ وفاقی حکومت نے کراچی کو جو دیا وہ نظر آ رہا ہے، میاں صاحب اب کافی تھک چکے ہیں اور میں انہیں تھکا کر ہرانا چاہتا ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کی جان کی بہت فکر ہے اور انہیں گاڑی سے نکلنے سے منع کرتا ہوں۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہس کہ والد کی بہادری پسند ہے۔ تاہم انہوں نے وہ باتیں بتانے سے انکار کر دیا جن پر ان کے اور ان کے والد کے درمیان اختلاف ہوتا ہے۔
زرداری