ملیر ،این جی اوز کے 37اسکول فنڈز نہ ملنے سے بند

ملیر ،این جی اوز کے 37اسکول فنڈز نہ ملنے سے بند

کراچی (نامہ نگار ) ملیر میں این جی اوز کی جانب سے چلنے والے 37اسکول فنڈز نہ ملنے کا بہانہ بنا کر اچانک بند کردیے ، 132اساتذہ کو ملازمتیں ختم کرنے کے لیٹر جاری ، 7351طلبہ تعلیم سے محروم ، 2010سے ملیر کے بن قاسم اور ویسٹ کے کیماڑی میں پارٹنر شپ کی بنیاد پر چلنے والے اسکولوں کو بند کرنے کے خلاف سماجی تنظیموں کا احتجاج ، سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر سکول چلا رہے تھے ، پروجیکٹ مکمل ہونے ہر فنڈز بند کردیے گئے ہیں ، اساتذہ کو 15مئی تک فارغ کرنے کے لیٹر جاری کردیے گئے ہیں : انڈس رسورس سینٹر ایجوکیشن پروجیکٹ مینجر نثار احمد۔ تفصیلات کے مطابق ؛ کراچی کے دیہی علاقوں میں تعلیم کے حصول کے نام پر تجارت کرنے والی این جی اوز سرکاری اسکولوں کو پروجیکٹ کے نام سے حاصل کرنے کے بعد اچانک بند کردیتے ہیں جس کے باعث زیر تعلیم بچوں اور روزگار سے وابسطہ اساتذہ دربدر ہوجاتے ہیں ، ان این جی اوز میں ہینڈز ، سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور انڈس رسورس سینٹر و دیگر شامل ہیں ، اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ساتھ پارٹنر شپ کرتے ہوئے ایک معاہدے کے تحت انڈس رسورس سینٹر نے 2010میں ملیر کے بن قاسم کے مختلف علاقوں میں 23اورکیماڑی میں 14اسکول مجموعی طور پر 37اسکول حاصل کیے تھے جن میں 7351طلبہ کو داخلہ دیا گیا تھا ، طلبہ کو پڑھانے کیلئے مذکورہ اسکولوں میں 132اساتذہ مقرر کیے گئے تھے جنہیں ماہانہ تنخواہ ادا کی جاتی تھی ، ان تمام اسکولوں کو سات سال کے بعد اچانک سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے فنڈز نہ ملنے اور پروجیکٹ ختم ہونے کا بہانہ بنا کر اچانک بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ، اس سلسلے میں 132اساتذہ کو 15مئی تک ملازمت ختم ہونے اور تنخواہیں ادا نہ کرنے کے لیٹرز جاری کردیے گئے ہیں جس کے بعد اساتذہ اور طلبہ اور والدین میں شدید پریشانی اور بے چینی پھیل گئی ہے ، علاقے کے سماجی رہنماؤں نے آئی آر سی کی جانب سے اچانک اسکولوں کو بند کرنے اور زیر تعلیم طلبہ کو دربدر کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ حکومت تعلیم کو تجارت بنانے والی این جی او ز کے خلاف کارروائی کرے اور ایسی این جی اوز کو تعلیمی پروجیکٹ نہ دیے جائیں جو پسماندہ علاقوں کے غریب طلبہ کے مستقبل ، احساسات و جذبات سے کھیلیں ، آواز نیٹورک کے رہنما محمود گبول نے مزید بتایا کہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن بڑے عرصے سے ایجوکیشن کے نام پر فنڈز حاصل کر رہی ہے لیکن عملی طور پر فیلڈ میں کوئی کام نظر نہیں آتا ، دوسری جانب آئی آر سی کے ایجوکیشن پروجیکٹ کے مینجر نثار احمد نے رابطہ کرنے پر ایجوکیشن پروجیکٹ کے خاتمے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے فنڈز دینا بند کردیے ہیں جس کے باعث وہ مزید اسکولوں کو جاری نہیں رکھ سکتے اس لیے اساتذہ کو ایک ماہ قبل نوٹس جاری کردیے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اسکولوں کو چلانے کیلئے تعلیمی افسران سے صلاح مشورے جاری ہیں ۔

مزید : کراچی صفحہ اول