قانون ہاتھ میں لینے والے رعایت کے مستحق نہیں ‘ سردار بابک

قانون ہاتھ میں لینے والے رعایت کے مستحق نہیں ‘ سردار بابک

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے مشال خان کے قتل کو دہشتگردانہ سوچ کی مذموم کاروائی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سانحے میں ملوث درندوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، صوابی میں مشال خان کے والد سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہسیاست سے قطع نظر اس اندوہناک سانحے کے محرکات سامنے لانے کیلئے جوڈیشل انکوائری ہونی چاہئے اور اس کے پیچھے چھپے خفیہ ہاتھ قوم کے سامنے لائے جائیں ، انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص سوچ رکھنے والے قوم کے مستقبل کو پیغام دے رہے ہیں کہ اگر وہ ہماری دہشتگردانہ سوچ پر نہیں چلیں گے تو ان کا مشال جیسا حال کیا جائے گا، تاہم عوام صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور باہمی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمت اور حوصلے سے کام لیں، انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص نے کوئی جرم کیا ہے تو اس کیلئے ملک میں قانون موجود ہے تاہم قانون ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہئے ،انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ جس الزام کے تحت مشال خان کو شہید کیا گیا وہ تاحال ثابت نہیں ہوا لیکن درندوں نے اپنی مخصوص کو پختگی دینے کیلئے یہ اقدام کیا، ،تاہم انہوں نے کہا کہ مردان سانحے کی فی الفور جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے اور ذمہ داران کا تعین کرتے ہوئے مجرموں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ ڈی آئی جی مردان کے مطابق مشال خان پر لگائے گئے الزام کے حوالے سے کوئی ثبوت یا مواد سامنے نہیں آیا ہے۔جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس معاملے کے پیچھے دیگر محرکات اور سازش کارفرما ہیں،انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا نے ہمیشہ امن بھائی چارے اور عدم تشدد کا درس دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ سانحے کو سیاسی رنگ دینے کی بجائے جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اورواقعے کے پیچھے کار فرما خفیہ ہاتھ بے نقاب کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ، انہوں نے کہا کہ دین اسلام کے مطابق اور کسی بھی مہذب معاشرے میں یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنی سوچ اور مرضی کے مطابق خود مدعی اور منصف بن کر بطور سزا تشدد یا قتل کر ے۔ اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ دو روز میں سامنے آئی ہوئی معلومات اور حقائق کے مطابق اس سانحے میں یونیورسٹی انتظامیہ اور بیرونی عناصر کا کردار کافی مشکوک ہو گیا ہے ۔