گرمی کے زور پکڑتے ہی غیر معیاری مشروبات، کٹے پھٹے پھلوں اور ناقص برف کی فروخت عروج پر

گرمی کے زور پکڑتے ہی غیر معیاری مشروبات، کٹے پھٹے پھلوں اور ناقص برف کی فروخت ...

ملتان(جنرل رپورٹر)گرمی شرو ع ہوتے ہی غیر معیاری مشروبات‘ کٹے پھٹے پھل اور گندگی سے بھری ہوئی برف کی فروخت عام ہوگئی۔ شہر کے ہر گلی چوراہے پر خالص بادام گھوٹا ‘ کھوئےوالی قلفی‘ دودھ کی بوتلیں‘ سکرین ملے برف کے گولے ‘ مٹی‘ گرد سے اٹے ہوئے پھل فروخت ہونا شروع ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے بچوں‘ بڑوں سب میں وبائی امراض پھوٹ رہے ہیں ‘ہسپتالوں میں گیسٹرو‘ ہیضہ‘ گلے‘ پیٹ درد کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔ذرائع کے مطابق شیر شاہ روڈ‘ ناگ شاہ بائی پاس‘ بہاولپور چوک‘ وہاڑی چوک‘ گھنٹہ گھر بازار ‘ پرانا شجاع آباد روڈ‘ بی سی جی چوک‘ڈیرہ اڈا چوک سمیت شہر کے دیگر علاقوں میں سکرین والی بوتلیں اور دیگر مشروبات دھڑلے سے فروخت ہورہے ہیں شہر کے مین روڈز پر غیر معیاری مشروبات فروخت کرنے والے مسافر گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو اچھا شربت پلا کر مسافروں کو مہنگے داموں ناقص ‘ غیر معیاری ’’باداموں والا گھوٹا‘‘ فروخت کرتے ہیں جبکہ ان مقامات پر پینے کے صاف پانی کا بھی بندوبست نہیں ہوتا مجبوراً مسافروں کو مضر صحت شربت پینا پڑتا ہے اور بعد ازاں اس سے زیادہ پیسے ڈاکٹروں کو ادا کرنا پڑتے ہیں دوسری جانب گرمی کے آتے ہی گرما‘ تربوز‘ خربوزے اور دیگر پھل بھی کاٹ کاٹ کر کھلے عام ریڑھیوں پر فروخت ہورہے ہیں جن پر دھول‘ مٹی بھی جمی ہوتی ہے غریب لوگ سستے داموں فروٹ کھانے کے لئے ان ریڑھیوں کا رخ کرتے ہیں اور بعد ازاں ہسپتالو ں میں پہنچ کر خمیازہ ادا کرتے ہیں بیشتر فروٹ فروخت کرنے والے ریڑھی مالکان لاؤڈ سپیکروں کا بھی آزادانہ استعمال کرتے ہیں جن کے خلاف ضلعی انتظامیہ‘ پولیس بھی کوئی کارروائی نہیں کرتی ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر