”ہم ہندو ایسا کیوں کرتے ہیں ۔۔۔؟“ سونو نگم کے اذان کے بارے میں توہین آمیز بیان پر ہندو لڑکی میدان میں آ گئی، گلوکار کو کھلا چیلنج دیکر ایسی ”بینڈ“ بجائی کہ مسلمانوں کے دل جیت لئے

”ہم ہندو ایسا کیوں کرتے ہیں ۔۔۔؟“ سونو نگم کے اذان کے بارے میں توہین آمیز ...
”ہم ہندو ایسا کیوں کرتے ہیں ۔۔۔؟“ سونو نگم کے اذان کے بارے میں توہین آمیز بیان پر ہندو لڑکی میدان میں آ گئی، گلوکار کو کھلا چیلنج دیکر ایسی ”بینڈ“ بجائی کہ مسلمانوں کے دل جیت لئے

  

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف بھارتی گلوکار سونونگم نے اذان سے متعلق توہین آمیز بیان دے کر پوری دنیا کے مسلمانوں کو شدید غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے اور سوشل میڈیا پر ایک ’جنگ‘ چھڑ چکی ہے جس دوران لوگ اپنے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک ہندو لڑکی کو سونو نگم کا بیان اس قدر ناگوار گزرا کہ اس نے گلوکار کو کھری کھری سناتے ہوئے کھلا چیلنج دیدیا اور ان کی ایسی ”بینڈ“ بجائی کہ مسلمانوں کے دل جیت لئے۔

”فجر کی اذان تو بس۔۔۔“ معروف گلوکار سونو نگم کی فجر کی اذان سے آنکھ کھلی تو ایسا بیان جاری کر دیا کہ پوری دنیا کے مسلمان شدید غم و غصے میں مبتلا ہو گئے، کیا باتیں کہیں؟ جان کر آپ کا خون بھی کھول اٹھے گا

سونو نگم نے بیان جاری کیا تو ٹوئٹر صارف ”مایا شرما“ میدان میں آئی اور کہا کہ ”میں ایک ہندو ہوں لیکن کیا جو لوگ ہندو نہیں ہیں، انہیں بھی اس وقت ایسی ہی ’تکلیف‘ نہیں ہوتی جب ہم نووراتری اور گنیش کے جلوسوں پر لاﺅڈ سپیکر بجاتے ہیں۔“

مایا نے کہا کہ ”کانوں کو ناگوار گزرنے والے لاﺅڈ سپیکرز بوڑھے مریضوں کو تکلیف دیتے ہیں، پڑھائی میں مصروف طالب علموں کیلئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور بچوں کو ڈراتے ہیں۔“

لڑکی نے گلوکار کی مزید درگت بناتے ہوئے کہا کہ ”آپ کی منطق کے مطابق، ہندو ازم کی تاریخ میں بھی بجلی نہیں تھی، تو پھر ہم ہندو کیوں اپنے تہواروں پر ان لائوڈ سپیکرز  کا استعمال کر رہے ہیں۔“

مایا نے ایک اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ ”رامائن کے وقتوں میں پٹاخے نہیں تھے۔ تو پھر ہم آج ان کا کیوں استعمال کر رہے ہیں جو شور اور فضائی آلودگی کا باعث بنتے ہیں۔“

مایا نے گلوکار کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ ”میں آپ کی گلوکاری کی وجہ سے آپ کی عزت کرتی ہوں۔ لیکن، ایسا لگ رہا ہے کہ آپ بھی ابھیجیت کی طرح متنازعہ بیانات دے کر شہرت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بہت ہی شرم کی بات ہے۔“

مایا شرما نے یہیں پر بس نہیں کیا بلکہ انہوں نے سونو نگم کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ ”اگلی مرتبہ، آپ کو نووراتری اور اس طرح کے دیگر تہواروں پر گانے کی پیشکش کی جائے ، تو اس بات کو یقینی بنائیے گا کہ آپ ”مذہب مسلط“ کرنے کیخلاف احتجاج کے طور پر اس پیشکش کو مسترد کر دیں۔“

مزید : تفریح