مریدین کو شہنشاہی چاہئے اور مرشد کو دنیا  

مریدین کو شہنشاہی چاہئے اور مرشد کو دنیا  
مریدین کو شہنشاہی چاہئے اور مرشد کو دنیا  

  


ہر کوئی کسی خضر ؑکی تلاش میں مارا مارا پھر رہاہے – فقیری میں زندگی  پہ صبر کرنے اور محنت سے مقام بنانے کی بجائے مرشد کی دعاؤں سے سلطانی کے منصب پہ   فائز ہونے کی تمنا میں  در بدر ہے- مرشد تو قسمت والوں کو ملتے ہیں جو شاہوں کو فقیر بنا  دیتے ہیں - لیکن یہاں تو گنگا الٹی ہی بہہ رہی ہے- مریدین کو شہنشاہی چاہئے اور مرشد کو دنیا   - دین کا طلب گا ر کون ہے- آسان رستہ اور منزل کے حصول میں نہ وقت لگے نہ محنت – دنیا بھی ملے اور آخرت بھی سنورے -معاشرہ تو اس نہج پہ پہنچ چکا ہے جہاں ہر کام کے لئے روپے پیسے کی سیڑھی ہی کامرانی و کامیابی کی ضمانت ہے – ایسے میں کوئی مزار بنائے اور خود جانشیں بن کے سب کچھ بانٹے تو کیا مضائقہ ہے-   اداروں کی  ناک تلے ہی تو بکتی ہے یہ روحانیت- عطائیوں اور نام نہاد  پیشواؤں کے ہاتھوں جسمانی اور روحانی  علاج کرواتی یہ قوم ذہنی بیماری   سے بھی دو چار ہے – ہر مرض کا علاج جادو ، ٹونا  اور جنات  کے عامل  تجویز کرتے ہیں – کبھی کبھی تو جنات سے چھٹکارا حاصل کرتے دھوئیں  کے بادلوں میں پیر صاحب کے تشدد سے  دارِ فانی کو الوداع کہتے یہ لوگ  مقدروں کو موردِ الزام ٹھہراتے چپ چاپ بیٹھ جاتے ہیں اور جو کوئی شورو غوغا کرتے بھی ہیں انہیں عذاب ِالہی کا ڈراوا ہی کافی ہے- ایک خدا ،محبوبِ دو عالمﷺ کی اسوہء حسنہ اور قرآن مجید کے احکامات کی موجودگی میں  ان پیروں سے عصمتیں لٹواتی  ، ٹسوے بہاتی   اور قبروں پہ سجدہ ریز ہوتی  یہ جہالت  میرے وطن پاکستان کا ایک المیہ ہے- نماز اور روزے سے عاری ، غیر محرم عورتوں سے بغلگیر یہ پیر کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ کہنابہت مشکل ہے کیونکہ نعوذباللہ  مجھے اپنے مذہب کی تعلیمات میں تو ایسی حکمت  اور تلقین نظر نہیں آتی جو انسانیت کو سرِبازار رسوا کرے اور دام بھی وصول کرے- آستانوں پہ ملتے مشروب اور ان کے زیر اثر لٹتے  لوگ روز ہی تو نوسر بازی کا شکار ہوتے ہیں لیکن  پھر بھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتا-                                                                                               

سر گودھا سے ملحقہ گاؤں 95 شمالی میں لگا ایک  تماشا سب نے دیکھا  کہ  پیر صاحب کی عطا   ایک مشروب  جس کے بعد انسان نے انسانیت کو جس بے رحمی سے قتل کیا  سب کی گردنیں جھکا دینے کے لئے کافی ہے- اسلامی جمہوریہ پاکستان  میں یہ کون سا اسلام ترغیب پا رہا ہے کہ  امن و سلامتی کی  مثال بننے کی بجائے گرنیں کاٹ دینے  پہ مائل ہے- عبدالوحید گزشتہ دو سال سے گدی نشین ہے اس مزار کا – محکمہ الیکشن کمیشن میں ڈپٹی ڈائریکٹر اور گریڈ انیس کا افسر جس کا تبادلہ سندھ ہوا تو  ایک سال پہلے لاہور آفس سے ریٹائرمنٹ لے لی- عبدالوحید کے پیر  علی محمد گجر کابیٹا آصف اب بڑا ہو چکا تھا اور  وزیر اعظم کی حفاظتی ٹیم کا ممبر تھا اور  اپنے والد کے جان نشین کے طور پہ گدی کی واپسی کا تقاضا بھی  کر سکتا تھا – اس خوف کو مٹانے اور اسے قتل کرنے کے لئے جس کھیل کامنظر نامہ رچایا گیااس نے کئی لوگوں کی جان ہی لے لی- عبدالوحید کے ایک پیروکار  جناب ڈی ایس پی کے صاحب زادے نے بھی انہی مقتولین کے ساتھ جان  دے دی – ان حالات کے پیش نظر یہ خیال آتا ہے کہ وہ کیا وجوہات ہیں جو پڑھے لکھے بھی ان جاہلانہ اقدار کے پیروکار ہیں- میرے نبی ﷺنے تو محبتوں سے اسلام کی تاریخ لکھی اور رحمت اللعالمین ﷺکہلائے- اپنے بدتر دشمن پہ بھی تشدد کی روش نہ اپنائی تو پھر عبدالوحید جیسے لوگ کیسے اپنا کاروبار چمکاتے ہیں سمجھنے کی ضرورت ہے-

           بنگالی بابے  اور جادو ٹونے کی خرافات کیسے دینِ اسلام میں امنڈ آئیں ہیں ،معلوم نہیں- میں چودہ سال بیرون ِ ملک یورپ میں رہا اور بطور سرجن اپنی خدمات سر انجام دیں  اس غیر اسلامی معاشرے میں ان سالوں میں نہ مجھے عامل ملے اور نہ ہی یہ  جادو ٹونے والےبابے – وطن عزیز میں قدم رکھا تو دیواروں پہ لکھے اشتہارات نے سوچنے پہ مجبور کردیا کہ

رحمتیں تیر ی ہیں تو اغیار کے کاشانوں پہ

برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پہ

 نہ کسی میم کو دھوئیں سے مرتے دیکھا اور نہ ہی کسی عامل کو قسمتوں کے لکھے کو بدلتے دیکھا- نہ کسی سنگدل محبوب کو قدموں میں جھکانے کی کوئی کوشش دیکھی نہ کسی کو تباہ کر دینے کی روش دیکھی -جس کو آپ کا پیار نہ جھکا سکا اسے عامل کیا جھکائے گا نہیں سوچا ہم نے- پیار سے بڑھی کیا طاقت ہے اور  جہاں محبتیں بے بس اور ہوس حاوی ہے وہاں ان شعبدہ بازوں کے آستانے ہیں- کاروبار ہے چل رہا ہے اور جو کاروبار چلا رہا ہے نہ وہ کھبی نہایا ہے  اور نہ ہی اس نے کبھی اپنا سر مالکِ کائنات کے حضور کبھی جھکایا ہے جو آپ کو خدا نہیں دیتا آپ اس سے لینے نکل جاتے ہیں  کس ایمان اور عقیدے پہ ،عقل سے ماوراء ہے یہ سب کچھ- کہ رب کی رضا سے بھی طاقتور ہے وہ جو تمہیں اولاد بھی دے گا اور دولت بھی – وہ خوشیاں بھی دے گا اور غمی بھی کاٹ دے گا- میرے نبی ﷺنے تو رب کو رازق ٹھہرایا اور ہم نے ایک جوگی کو- لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن کیا لکھوں اپنے اس معاشرے پہ  - ربِ کعبہ کی قسم میں نے عیسائیوں کو  میرے نبی ﷺکی تعلیمات سے اپنی زندگی کی راہیں نکالتے دیکھے – میں نے ان کو اپنے نبی ﷺکے قصیدے گاتے دیکھا – میں نے کئی بار ان کی  وہ باتیں سن کے خود کو مسلمان ہونے پہ فخر محسوس کرتے  ہوئے پایا لیکن اپنے وطن میں میرے دین کا جو حال اس مفاد پرست اور جاہل ٹولے نے کر دیا ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئےبس رب سےایک ہی  دعا ہے کہ ہمیں راۃ مستقیم دکھا اور جعلی عاملوں کے دھندے سے نجات دلا-آمین       

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ